women vs man

عورتوں کے نزدیک مردوں کی قسمیں

EjazNews

بخاری اور مسلم شریف میں حضرت عبداللہ بن عروہ نے حضرت عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ یمن کی گیارہ عورتیں ایک مجلس میں موجود تھیں۔ مردوں کا اور ان کے عیبوں کا ذکر شروع ہوا (جو عام طور پر عورتیں کرتی ہیں)۔
پہلی عورت نے اپنے شوہر کی شکایت کرتے ہوئے اس کا حال یوں بیان کیا، میرا شوہر ایسا ہے جیسے پہاڑ کی چوٹی پر معمولی مقدار میں گوشت رکھا ہو۔ تو نہ اس پہاڑ پر چڑھنا آسان ہے اور نہ ہی زیادہ مقدار ہے کہ اس کو لیا جائے۔( یعنی وہ کم فائدہ مند ہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہے اور در اصل اس میں کوئی خیر نہیں ہے)
دوسری عورت نے کہا: میرا شوہر، میں اس کی باتیں نہیں پھیلا ئو نگی۔ میں ڈرتی ہوں کہ کہیں میں اسے چھوڑ نہ دوں ، اگر میں اس کا ذکر کروں تو اس کی بیچارگی اور کمزوری ہی بتا سکوں گی۔ (یعنی اس کے شوہر میں بہت زیادہ عیوب ہیں، اتنے کہ اس کو احاطہ کرنا مشکل ہے اور وہ ڈرتی ہے کہ اگر بیان کرے گی تو اس کا دل کھٹا ہو جائے گا اس لیے خاموشی کو ترجیح دیتی ہے۔)
تیسری عورت نے کہا: میرا شوہر انتہائی لمبے قد کا ہے اگر بات کرے تو بولتا ہی چلا جائے اور اگر چپ رہے تو میں معلق بنی رہوں۔ (لیکن اس کا شوہر بھی کھوپڑی کا ہے لیکن بیوقوف اور بد اخلاق ہے اور وہ ڈرتی ہے کہ اس کی با تیں اگر اسے معلوم ہوجائے تو وہ اس کو طلاق دے دے گا اور اگر وہ خاموش رہے تو معلق بنی رہے تو نہ ہی وہ شادی شدہ ہے اور نہ مطلقہ)
چوتھی عورت نے کہا میرا شوہر انتہائی باوقار سردار ہے۔ نہ گرم نہ سردنہ ڈر اورنہ اکتاہٹ (یعنی اس کا شوہر نرم طبیعت کا ہے سمندر کی طرح پرسکون گویا وہ مرد نہیں عورت ہے)
پانچویں عورت نے کہا: میرا شوہر گھر میں آئے تو چیتے کی طرح ، باہر نکلے تو شیر کی مانند ہے۔ وہ جو چاہے کرے کوئی اس سے پوچھنے کی ہمت نہ کرے (یعنی اس کاشوہر بہادر اور اپنی قوم میں ہیبت ناک ہے لیکن وہ کثرت سے جماع کرتا ہے یہاں تک کہ اس کو تھکا دیتا ہے تو وہ چیتے کی طرح ہے گھر میں داخل ہوتے ہی اس پر سوار ہوجاتا ہے)
چھٹی عورت نے کہا :میرا شوہر کھائے تو سب ختم کرے، پیئے تو سارا پی جائے۔ جب لیٹے تو دور رہے۔ ہاتھ نہ ڈالے تا کہ میرےغم کو پہنچانے (یعنی اس کا شوہر کھانے پینے میں چکی کی طرح اس سے ہمیشہ دور سوئے اور سوتار ہے، اس کے کپڑوں میں ہاتھ بھی نہ ڈالے کہ اس کی محبت کا اندازہ لگا سکے)
ساتویں بیوی نے کہا: میرا شوہر بادلوں کی طرح ہے، وہ مردانگی سے خالی ہے اور بالکل بند ہے، ہر بیماری اس میں ہے یا تمہارا سر پھاڑے یا زخمی کرے یا دونوں طرح کی تکلیف پہنچائے (وہ کہہ رہی تھی اس کا شوہر گھنے تار یک سایہ کی طرح ہے اپنی بیوقوفی سے سارے معاملات سے نا آشنا۔ لوگوں کی ہر کمزوری اس کے اندر ہے۔ وہ اسے مارتا رہتا ہے یا اس کا سرزخمی کرتا ہے یا کسی عضو کوتوڑ دیتا ہے)
آٹھویں عورت نے کہا: میرے شوہر کا چھونا خرگوش کے چھونے کی طرح ہے اور اس کی خوشبورنب (ایک قسم کی خوشبو )کی طرح ہے (اس نے یہ کہا کہ اس کا شوہر صاف ستھرا، نرم انداز کا ہے جیسے کنواری لڑکیاں اس کی خوشبو اچھی ہے اور بہت حساس ہے۔
نویں عورت نے کہا: میرا شوہر بلندستون والا، بے حد مددکرنے والا، بہت زیاد راکھ والا۔یعنی کھلانے والا۔ مجلس کے مقابلہ میں گھر سے قریب رہنے والا ہے۔(یعنی اس کاشہور بہادر ، شان و شوکت والا اور بہت زیادہ مہمان نواز ہے)
دسویں عورت نے کہا :میرا شوہر بادشاہ ہے۔ اس سے بہتر کوئی بادشاہ نہیں ہے ،اس کے پاس بڑی برکت والی اونٹنیاں ہیں جو بہت کم آرام کرتی ہیں۔ جب ان کو گانے بجانے کی آواز آتی ہے تو وہ سمجھ لیتی ہیں کہ وہ ختم ہوجائیں گی۔ (یعنی اس کا شوہر مالدار اور ضرورت سے زیادہ شریف ہے۔ اگر اس کے یہاں مہمان آ جائیں تو وہ ان کے لیے گانے بجانے کا انتظام کرتا ہے۔ جب اونٹنیاں گانوں کی آواز سنتی ہیں تو ڈر جاتی ہیں کیو نکہ وہ سمجھ جاتی ہیں کہ مہمانوں کی ضیافت کے لیے ان کو ذبح کیا جائے گا۔)
گیارہ ہو یں عورت نے کہا: میراشوہرکھیتی والا ہے۔ کیا کھیتی والا ؟ ایسا شخص جس نے میرے کانوں میں زیور پہنایا میرے بازوں کو کھلا پلا کر موٹا کر دیا مجھے خوش کردیا اتنا کہ میں دل سے خوش ہوگی، مجھے مالداروں کے درمیان اس نے مشکل سے پایا تو مجھے گھوڑوں اور انٹوں کا مالک بنادیا۔ میں اس سے باتیں کرتی ہوں اور برانہیں مانتی ہوں۔ خوب سوتی ہوں صبح کو اٹھتی ہوں۔ پیتی ہوں تو پورے اطمینان سے پینی ہوں (یعنی اس کا شوہر اس کی بیحد عزت کرتا ہے، عیش و آرام میں رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طویل قصہ حضرت عائشہ ؓسے بغیر بات کاٹے یا اکتاہٹ کے سنا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارے ساتھ اس کھیتی والے کے اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کی طرح ہوں۔ (بخاری مسلم )لیکن حضرت عائشہ ؓنے فورا جواب دیا: آپ اس کیھتی والے کے اپنی بیوی کے ساتھ سلوک سے بھی کہیں زیادہ میرے لیے بہتر ہیں۔ (طبرانی نسائی۔ سنن کبریٰ)

یہ بھی پڑھیں:  النکاح من السنتی(زندگی تو شروع ہی اس سنت کے بعد ہوتی ہے)

مترجم: سید محمد ظفر ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں