children math

بچوں کو ریاضی سے مت ڈرائیے

EjazNews

بہت سے والدین اپنے بچوں کو ریاضی میں خود کمزور کر دیتے ہیں ان کی تھوڑی سی دلچسپی اور مہارت ریاضی میں کمزور سے کمزور بچے کو اس کا ماہر بنا سکتی ہے۔ سنگا پور میں والدین بچوں سے اعداد کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ بچپن سے ہی سنگل ڈیجیٹ ، اشکال اور پیٹرن پر اس طرح سے بات کرتے ہیں کہ مشکل سے مشکل فارمولا بھی انہیں بہت آسان لگتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ان بچوں کے ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق جو والدین بچوں کے سامنے اپنی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہیں مثلاً میں میتھ میں کمزور تھا یا میتھ تو بہت مشکل سبجیکٹ ہے۔ وہ والدین اپنے بچوں کو بھی ذہنی طور پر اس مضمون میں کمزور بنا دیتے ہیں۔ میتھ تو آپ کے دائیں ہاتھ کا کام ہے۔ ایسی باتیں بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو زیادہ توانائی مہیا کرتی ہیں۔ جاپان میں ہونے والی تحقیق سے بھی ان نتائج کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  قصہ کبڑے بھائی کا

خاص کر اگر وطن عزیز میں دیکھیں تو اکثر والدین ریاضی میں خود کے کمزور ہونے کا ذکر بچوں کے سامنے کرتے ہیں جس سے بچو ں میں بھی ریاضی کے معاملے میں مشکل ہونے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کا سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اچھی نوکری مل جائے بچے کو وہ کچھ سیکھ پائے یا نہ پائے یہ مقصد کہیں دور بھٹک چکا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں بچوں کو سکھانے کا عمل سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ۔ اس میں ریاضی اورفزکس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہم نے اپنی ایک تحریر میں آپ کوبتایا تھا کہ کس طرح دنیا میں کم عمر ترین بچوں نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی۔ دنیا بدل رہی ہے ہمیں بھی اپنے بچوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ خود کو بدلنا ہوگا کیونکہ بچوں پر توجہ دینے سے مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وقت ضائع نہ کریں
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں