kashmiri women

کشمیر جنت نظیر!؟(ایک جلتا ہوا انگارا)۲

EjazNews

گزشتہ سے پیوستہ
علامہ اقبال کاکشمیر کی سودابازی پرتبصرہ بھی تاریخ عالم میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور نام نہاد مہذب دنیا کی سیاست و تہذیب کے چہرے پر بھر پور طمانچہ ہے:
”باد صبا اگر بہ جنیوا گذر کنی
حرف ز ما بہ مجلس اقوام باز گوے
دہقان و کشت و جوئے و خیابان فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند !‘‘
کشمیر اُس وقت سکھ دربار لاہور کا مقبوضہ علاقہ تھا اور لاہور دربار کا گورنر یہاں کا حکمران تھا۔ اس لئے فوری طور پر یہاں کے لوگوں کو لاہور یا امرتسر کی اس خرید وفروخت کا علم کیا ہو سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب مہاراجہ گلاب سنگھ معاہدہ امرتسر طے پا جانے کے بعد وادی کشمیر پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے وہاں پہنچا تو لاہور دربار کے گورنرشیخ امام الدین نے ڈوگرہ راجہ کے کشمیر پر قبضے کی بھر پور مزاحمت کی اور اس کی سکھ سپا ہ اور کشمیری عوام نے سخت مقابلہ کیا ۔ گلاب سنگھ کے ڈوگرہ سپاہی بڑی تعداد میں مارے گئے اور گلاب سنگھ بچی کچی سپاہ کے ساتھ جموں کی طرف بھاگ گیا ۔سری نگر کا لال چوک جہاں یہ معرکہ آرائی ہوئی غالباً اسی معرکے کی یادگار ہے۔ مہاراجہ گلاب سنگھ اپنے برطانوی آقاؤں کے پاس یہ شکایت لے کر پہنچا کہ وادی کشمیر کا جو علاقہ فروخت کے بعد اسےمنتقل ہونا تھا وہ اسے نہیں ملا۔ برطانیہ نے راجہ کی درخواست منظور کر لی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی سپاہ ڈوگر فوج کے ہمراہ کشمیر روانہ کی گئی اور اس مشترکہ فوج کی یلغار کے بعد سرینگر پر قبضہ ہوا۔ یہ قبضہ 9نومبر 1846ء کو یعنی معاہدہ امرتسر کے چھ ماہ بعد ہو سکا اور اسی لحاظ سے خرید و فروخت کی رقم معاہدے کے مطابق وقت پر ادا نہ ہو سکی اور کشمیری عوام کو لوٹنے اور75 لاکھ روپے نانک شاہی ادا کرنے کے لیے مہاراجہ گلاب سنگھ کو چند سال کی مہلت مل گئی۔
مہاراجہ گلاب سنگھ نے معاہدہ امرتسرکی تکمیل پر اپنے ہی لفظوں میں یہ کہہ کر اپنی حیثیت واضح کر دی تھی کہ وہ’’ برٹش کازرخرید غلام ہے۔‘‘ اس ڈوگرہ راجہ کی زبان، اس کا مذہب ،اس کارہن سہن (کلچر) کشمیریوں سے مختلف تھا۔ اس لحاظ سے اسے کشمیر کے مسلم عوام سے کیا ہمدردی ہوسکتی تھی۔ چنانچہ گلاب سنگھ (مرگ1857ء) اور اس کے جانشین رنبیر سنگھ (مرگ1885ء) ،پرتاب سنگھ (مرگ 1925ء ) اور ہری سنگھ وغیرہ کشمیری مسلم عوام کے بدترین دشمن ثابت ہوئے۔ گذشتہ ادوار میں (بد ھ راج ہو یا مسلم راج) راعی اور رعایا کاتعلق ایک روایتی خاندان کے طور پر چلتا تھا جواب حاکم ومحکوم آقا اور غلام کا ہو گیا۔ خصوصاً کشمیر میں مسلم عوام کی محکومی کا تاریک ترین دور شروع ہو گیا۔ یہاں ظلم و ستم کی آندھیاں چلنے لگیں اور مسلم عوام پر وحشیانہ اور غیر انسانی مظالم ہونے لگے جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں – گلاب سنگھ کے وحشی ذہن اور بہیمان طریقہ کار کی صرف ایک جھلک ملاحظہ ہو۔
’’یہ ڈوگرہ مہاراجہ آزادی کے متوالوں کی زندہ کھال اتارنے کا ذاتی حکم دیتا تھا ،اور پھر اس کا مشاہدہ اپنے بیٹوں سمیت خود کرتا تھا۔ جلادوں کو حکم دیا جاتا کہ کھال سر سے پاؤں کی طرف نہیں بلکہ پاؤں سے سر کی طرف آتاری جائے ۔ کیونکہ سر سے پاؤں کی طرف کھال اتارنے سے فوری موت ہو جاتی ہے اور اس سے اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی لیکن اگر کھال پاؤں سے سرکی طرف اتاری جائے تو مقتول ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ یہ کارروائی اتنی ظالمانہ تھی کے جلاد بھی اس سے ہچکچاتے تھے۔ لیکن گلاب سنگھ کھال اتارنے کے احکام ذاتی طور پر جاری کرتا تھا۔ اور اپنے ولی عہد رنبیر سنگھ کوبھی یہ منظر دکھاتا تھا) کارروائی مکمل ہونے کے بعد اُس کا حکم تھا کہ کھال میں گھاس پھونس بھر کر کے درخت کی اونچی شاخ پر اس کی نمائش کی جائے تا کہ دوسروں کو سبق ملے۔‘‘
عطاء الحق سہروردی ،المیہ کشمیر’’ The Tragedy of Kashmir‘‘بحوالہ اقبال اور تحریک آزادی کشمیری ۲۲ (غلام نبی خیال) – پونچھ پر قبضہ کرنے کے بعد گلاب سنگھ نے وہاں کے عوام کا قتل عام کروایا۔ ان کے لیڈروں سردار سبز علی خاں اور ملی خاں کی زندہ کھالیں اُتروا ئیں۔
سردارشمس خان کا سرقلم کروایا اور ہزاروں خواتین اور بچوں کو اغوا کر کے جموں پہنچادیا ‘‘ ۔گلاب سنگھ کی ان انسانیت کش کارروائیوں اور خوفناک انتقامی اقدامات نے کشمیری مسلمانوں کو اس ظلم و ستم کے خلاف بغاوت کرنے سے وقتی طور پر باز رکھا۔ مسلمانان کشمیر کے اندر ڈر خوف و ہراس مایوسی اور پست ہمتی کی کیفیت پیدا کر دی اور اُن کی بزدلی ضرب المثل بن گئی ۔ انگریزوں کے زرخرید غلام ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ اور اس کے جانشینوں کے عہد میں کشمیری مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ نہ انہیں مذہبی آزادی حاصل تھی، نہ تعلیمی لحاظ سے وہ اپنے بچوں کا انتظام کر سکتے تھے۔ اقتصادی طور پر انہیں اس قدر پیس کر رکھ دیا گیا کہ اکثر فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے تھے اور پھر اوپر سے ان پرظلم وتشددکی کوئی حد نہ رہی تھی۔ مسلمانان کشمیر سے بیگار لیناریاست کا معمول بن گیا تھا اور اگر کوئی بیگار کی صعوبتیں برداشت نہ کرتے ہوئے مر جاتا تو ہندو ڈوگرہ فو جی اس گھرانے کے کسی دوسرے فرد کو پکڑ لاتے تا کہ ادھورا کام مکمل کروایا جا سکے۔ ڈوگروں کی ہوں اور لالچ کے سامنے کسی کشمیری مسلمان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ ان بے بس و لاچار مسلمانوں پرٹیکسوں کا اس قدر بوجھ ڈالا گیا تھا کہ تمام پیداوار اور آمدنی حکومت کوٹیکس کے طور پر ادا کر دینے کے بعد بھی مظلوم ٹیکس گزارمکمل طور پر یہ ٹیکس ادا نہیں کر پاتے تھے۔ ان ناجائز ٹیکسوں میں شادی ٹیکس، کھڑکی ٹیکس اور ختنہ ٹیکس، جیسے کئی مضحکہ خیزٹیکس کشمیری مسلمانوں کو ادا کرنے پڑتے اور جو کوئی ٹیکس کی رقم مکمل طور پر ادا نہ کرتا ڈوگرہ سپاہی اسے ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے اور قید کر لیتے تاوقتیکہ اس کا واجب الاداٹیکس ادانہ کردیا جاتا۔ اسی ظلم و جبر کے پیش نظر کئی کشمیری مسلمانوں نے ترک وطن کی راہ اختیار کی اور جو ایسا نہ کر پاتے وہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں آ کر مزدوری کرتے اور واپس اپنے وطن جا کر ڈوگروں کو ٹیکس ادا کرتے ۔کشمیری مسلمانوں کی مظلومیت اور پسماندگی کا ایک منہ بولتا نقشہ مہاراجہ ہری سنگھ کے ایک وزیراعظم سر ایلبین بینز جی نے لاہور میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کو بیان دیتے ہوئے صورت حال بیان کی۔ سر بینر جی دو سال تک ڈوگرہ حکومت میں وزیراعظم رہے اور پھر مستعفی ہو گئے تھے۔ مناسب ہوگا کہ اس تاریخی بیان کو سابق وزیراعظم کشمیر کے الفاظ ہی میں پیش کر دیا جائے۔ بینر جی نے یہ بیان 15مارچ 1929ء کو لا ہور میں دیا:

یہ بھی پڑھیں:  خیال کی قوت

Sir Albion Bannerjee’s plain Speaking: “Jammu and Kashmir state is labouring under many disadvantages with a large Muhmmedan population absolutely illiterate, labouring under poverty and very low economic condition of living in the villages and practically driven like dumb driven cattle. There is no touch between the Government and the people, no suitable opportunity for representing grievances and the administrative machinery itself requires overhauling from top to bottom to bring it upto modern conditions of efficiency. It has at present little or no sympathy with the people’s wants and grievances.
“There is hardly any public opinion in the state.
As regards the press, it is practically non-existent with the result that the Government is not benefited to the extent that it should be by the impact of healthy criticism.”

سرایلبین بینرجی نے مہاراجہ کو شہر میں عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا مشورہ دیامگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اور کشمیری مسلمانوں کا معاشی استحصال بدستور جاری رہا۔ ان سے شدت سے بیگارلی جاتی رہی۔ ان پرنت نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتارہا – اُن کی زرعی اراضی ہتھیا کر ڈوگرہ جاگیرداروں کے حوالے کی جاتی رہی۔ ان کے مذہبی حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ تعلیم سے انہیں دور رکھا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ برطانی علاقوں کے کشمیری مسلمان بھی اگر اپنے بھائیوں کی تعلیمی ترقی کے لئے مدد کرنا چاہتے تو انہیں اس کی اجازت نہ دی جاتی ۔ کشمیری بدستور ڈھور ڈنگروں کی طرح زندگی بسر کرنے پرمجبور کر دیئے گئے تھے۔
سرایلبین بینر جی کا یہ بیان جنوبی ایشیا اور انگلستان میں بھی شائع ہوا اور اس پر تبصرے ہوئے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے محل میں ایک زلزلہ سا آ گیا اور اس بیان کے اثرات کو زائل کرنے کے سلسلے میں چند کاسہ لیس اور ضمیر فروش مسلمانوں کی خدمات حاصل کی گئیں، جن کے کچھ تردیدی بیانات ہندو پریس میں شائع کروائے گئے۔ پنجاب کے مسلم پریس نے ایڈیٹوریل شائع کر کے سر بینرجی کے بیان کی تائید و حمایت کی – آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس نے اپنے اجلاس مورخہ28اپریل 1929 میں حکومت کشمیر پر زور دیا:
“That Kashmir Government should abandon its cruel policy about the Kashmiri Muslims.”
اسی سلسلے میں علامہ اقبال کے یہ دردانگیز اشعار بھی خون کے آنسو بن کر ان کے کلام میں ٹپک رہے تھے۔
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوزناک
مروحق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقان پیر

یہ بھی پڑھیں:  سیاسی،سماجی، اقتصادی بے چینی عوام کا سکھ چین لے گئی

جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں