husband justers

شوہروں کے مزاج

EjazNews

دنیا میں ہر شخص کا اپنا مزاج ہوتا ہے لیکن خاوند بننے کے بعد ہر شخص کا مزاج کچھ مختلف ہوتا ہے۔کس مزاج کے شوہر کیسے ہوتے ہیں اس تحریر میں ہم آپ کوبتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خباثت مزاج :
یہ وہ شوہر ہوتا ہے کہ تم اس پر مکمل بھروسہ کرومگر وہ پھر بھی خیانت کرتا ہے اور ایسازخم پہنچاتا ہے جوکبھی مندمل نہیں ہوتا،اس کا انداز ہمیشہ نفی ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ظلم کرتا ہے۔ اگر اس کی بیوی زندگی میں کوئی کامیابی حاصل کرے تو وہ اس کو بدمعاملگی سے قبول کرتا ہے کیوں کہ اس کا مزاج پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا ہوتا ہے ۔وہ اپنی چاہت کی چیز کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ اس سے گفتگو کے بعد آپ کو اپنی چستی اور پھرتی میں کمی محسوس ہوگی۔ آپ کو نیندمحسوس ہوگی یا بغیر حرکت بیٹھے رہیں گے۔
غضبناک مزاج:
ایسا شوہرمنگنی کے وقت سے ہی ہمیشہ لڑنے کے موڈ میں ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ ہر وقت جوش مارتا ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا بڑھانے کے لیے ہر طرح سے تیار رہتا ہے۔ کسی واضح سبب کے بغیر ہمیشہ چڑ چڑارہتا ہے۔ نفسیاتی راحت سے محروم ہونے ، دوسروں پر اپنی اہمیت جتانے اور گھر میں کسی متعین حالت تک پہنچنے میں اس کی ناکام خواہش کے سبب وہ جھگڑنے اور طوفان مچانے کو پسند کرتا ہے۔ اس مزاج کے شو ہرا کثر لوگوں کو خواہ وہ سڑک پر ہوں یا ہوٹل میں یا دوکانوں پروہ سب کو اپنے غصے اور اپنی ناراضگی کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس سے گفتگو میں آپ کو تھکن محسوس ہوگی اورکبھی آپ کو خود اپنی اہمیت کم لگے گی۔ اس سے گفتگو کے بعد آپ غم زدہ اور مایوس ہو جائیں گے۔
مایوس مزاج:
اس مزاج کے شوہر ہمیشہ مایوس اور بیزار رہتے ہیں۔اپنے اور بیوی کے درمیان پیش آنے والی ہر بات کو وہ زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ازدواجی زندگی کی پریشانیوں کا اس عاجزانہ زندگی سے تقابل کرتے ہیں جو انھوں نے بچپن سے گزاری ہے۔ ان کا بنیادی مقصد دوسروں کی شفقت اور عنایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ وہ دوسرں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں اور اپنے آپ کو بھلا دیتے ہیں وہ یوں سوچتے ہیں کہ زندگی ان کی خواہش کے مطابق نہیں گزرتی ہے بلکہ ان کے ارادہ کے برعکس رہتی ہے اس لیے وہ ہمیشہ بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا شکار رہتے ہیں اور بیوی بچوں کو بھی اسی میں مبتلا کرتے ہیں۔ کوئی ناپسند بات پیش آئے تو وہ انتہائی براخیال یا مفروضہ قائم کرتے ہیں کیونکہ ان کی نظر ہر مسئلہ میں منفی پہلو پر ہوتی ہے۔
متکبر مزاج:
ایسے مزاج کے شوہر کا سلوک اس طرح کا ہوتا ہے جیسے وہ انتہائی اونچے برجTawarمیں رہ رہا ہو۔ ان شوہروں کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنے اندرون کی گہرائیوں میں امن وسلامتی سے محرومی محسوس کرتے ہیں اور احساس کمتری کاشکار ہوتے ہیں۔ ایسا شوہر اپنی بیوی کے سامنے فخر و گھمنڈ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ فلاں کو جانتا ہے اور یہ کہ معاشرہ میں اس کا بڑا اونچا مقام ہے۔ جب وہ چلتا ہے تو دائیں بائیں دیکھتا ہے رہتا ہے۔ تا کہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ وہ سمجھتا ہے کہ سب لوگ اس کے دیکھنے کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس کے اردگرد کے لوگ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ وہ خود دوسروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ خاص سلوک کیا جائے۔ اپنی بیوی کے ساتھ اس کا سلوک مزاجی طور پر غیر پائیدار ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ گھر میں بدمزاج اور گھر سے باہر کسی معصوم بچے کی طرح ہوتا ہے جو ہمیشہ مسکراتا رہتا ہے۔
حاوی مزاج:
اس مزاج کا شوہر لوہے کی سلاخ سے زیادہ سخت ہوتا ہے کہ وہ ہر کام خود کرنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام ہو تو غصہ ہو جاتا ہے اور مرضی کے مطابق ہوتو لا ابالی پن اور سنی ان سنی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ حاوی مزاج شوہر جب غصہ ہوتا ہے تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ پر قابو پانے یا اس وقت بھی جب وہ یہ محسوس کرے کہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
شکی مزاج:
یہ بڑی پیچیدہ مشکل ہے جس کا سامنا اس قسم کے شوہر کے ساتھ بیوی کو کرنا پڑتا ہے۔ ہمیشہ شک کرنے والا جو بیوی کے ہر کام کو شک کی نظر سے دیکھے اور بغیر ثبوت کے کسی بات کو نہ مانے چاہے خود سنے یا دیکھے۔ کسی بات پر اسے مطمئن کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے وہ بس بدگمان ہوتا ہے کیونکہ وہ یوں سوچتا ہے کہ سب لوگ اس سے جلتے ہیں۔ آپ اس سے بات کریں تو آپ کو غصہ آنے لگے گا اور شدت جذبات سے وہ آپ کو رونے پر مجبور کر دیا۔
برف کی ٹکیہ مزاج:
ایسے مزاج کے شوہر کا بس ایک ہتھیار ہوتا ہے۔ مسائل کا سامنا کرنے میں خاموشی اختیار کرنا وہ زبان کے بدلے اپنی نظروں کو استعمال کرتا ہے۔ لیکن جب وہ بات کرتا ہے تو جیسے کوئی بھیانک ایٹم بم پھٹتا ہے جو ہر رشتہ دار اور غیر رشتہ دار کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ آپ بھی اس سے بات کرنا چاہیں گے تو اس کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے اس کے سر پر پرندہ بیٹا ہوا ہے اور اسے خطرہ ہے کہ وہ اڑ نہ جائے۔ اگر آپ اس سے جواب طلب کریں تو آپ کو اس کے حلق کے اندر سے وہ جواب نکالنا پڑے گا۔ شاید اسے وہی محسوس ہو جو آپ محسوس کررہے ہیں لیکن وہ اسے ظاہر نہیں کرتا ہے اس ڈر سے کہ کہیں وہ آپ پر قابو نہ کھودے۔ وہ آپ سے اپنے جذبات چھپائے رکھتا ہے اور ہمیشہ خاموش رہتا ہے۔ لیکن جب بات کرتا ہے تواس آتش فشاں کی طرح جو ہر چیز کو بربادکردے۔
سوکھا مزاج:
اس مزاج کا شوہر پتھریلی زمین اور چٹیل صحراءکی طرح ہوتا ہے۔ جذبات میں صفر۔ شاید ہی آپ کو اس میں کوئی محبت یا جذباتی انداز نظر آ ئے۔ وہ دنیا کو صرف مال اور مالداری کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اس کے پاس جذبات واحسابات کی محفل کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا ہے نہ تو تحفہ دینے کے معنی اسے معلوم ہوتے ہیں اور نہ کسی ہوٹل میں اپنی بیوی کے ساتھ رات کا کھانا کھانا اسے معلوم ہوتا ہے۔ گویا وہ ایک جنگی کیمپ میں رہتا ہے اور اس کا کام بس حکم دیا اور حکم ماننا ہے۔ ایسا شوہر سو کھے مزاج کا ہوتا ہے۔ وہ تمام معاملات کو صرف ایک زاویہ سے دیکھتا ہے کیونکہ زندگی اسے مکمل شکل میں دکھائی نہیں دیتی۔
آری مزاج:
اس مزاج کے شوہر کوکسی موضوع پر گفتگو اور سلیقہ مند بات کہنا نہیں آتا ہے ۔اس کی باتوں میں دل توڑنے والا انداز غالب رہتا ہے وہ دوسروں کے احساسات کا خیال نہیں کرتا۔ آپ سے اس طرح بات کرتا ہے جیسے وہ اپنی سوچ اور طرز گفتگو میں چھوٹا بچہ ہے۔ جو بات اسے کہنی ضروری ہوتی ہے وہ ہمیشہ اسے کہہ دیتا ہے۔ چاہے وہ کتناہی کامیاب انسان اور اپنے عمل میں چست ہو۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کے احساسات کا احترام نہیں کرتاہے۔
پنکھا مزاج :
کسی معاملہ کو ایسا شوہر سنجیدگی سے نہیں دیکھتا بلکہ اسے مذاق اور دل لگی سمجھتا ہے جب بھی اس کی بیوی اسے کسی کام کے لیے کہتی ہے وہ اس کا انکار کرتا ہے اور ان مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کرتا ہے۔ گفتگو کے دوران بعض اوقات وہ سخت ٹھیس پہنچانے والے جملے کہہ گزرتا ہے لیکن ان کو بھی ہنسی اور مذاق کے انداز میں۔ مذاق مذاق میں کہہ دینے کا انداز ہی اس کا وہ ہتھیار ہے جو اس کے زیادتی پسند ہونے کو بتلاتا ہے۔ جب بیوی اس کے ساتھ محبت میں غصہ سے ابل پڑتی ہے تو وہ مسکراتا ہے گویا اسے اس سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے جبکہ اندرونی طور پر اسے تکلیف ہوتی ہے اور نفی تاثیر سے وہ اندر ہی اندر بل کھاتا ہے مگر اس کے باوجود وہ ہر بات کوخوش دلی اور جھوٹے ہنس مکھ کے انداز میں لپیٹ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آبروریزی اور جنسی حملہ

اپنا تبصرہ بھیجیں