pationt

ذیباطیس کا پھیلاﺅ کیوں؟

EjazNews

ہمارے ہاں یعنی پاکستان میں پھل اور سبزیاں رفتہ رفتہ عوامی قوت خرید سے باہر جا رہی ہیں ہیں۔ رمضان بازار خوب سجھتے ہیں جہاں آلو ٹماٹر کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں۔ سٹیج پر بیٹھا سبزی یا پھل فروش شاپر میں جو کچھ بھی ڈال دے گا وہی صبر و شکر کر کے گھر لیجانا پڑے گا، کلو میں آدھا کلو تو خراب نکل ہی جاتے ہیں اس لیے سبزیاں بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہیں اور طبی ماہرین کے مطابق پھل اور سبزیاں کم کھانے والے 1کروڑ 20لاکھ افراد ذیباطیس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
برطانوی ماہرین نے تو اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے اور اسے صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تنظیم نے بالغوں میں سروے میں کیا۔ زیادہ تر لوگوں نے روزانہ زیادہ سے زیادہ 75فیصد یا اس سے کم پھل اور سبزیاں استعمال کیں یعنی جسمانی ضرورت کے ایک چوتھائی سے کم، ان کے مطابق پھل استعمال کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو ذیباطیس ٹو سے بچا سکتے ہیں یا اسے ملتوی کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ بہت سے پھلوں اور سبزیوں میں بھی چینی چھپی ہوتی ہے۔ مثلاً بینس کے ایک ٹین میں 5چمچ چینی پائی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ پھل کھانے سے پہلے اس پر نمک چھڑک لیتے ہیں یہ لوگ بلڈ پریشر ، دل کے دورے، سٹوک اور کڈنی کی بیماریوں کو خود ہی دعوت دیتے ہیں۔ نمک کا کم سے کم استعمال ان بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ 60فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ لازماً سبزیاں کھانا چاہتے ہیں مگر 23فیصد کے نزدیک یہ بہت مہنگی ہیں۔ 10فیصد کے نزدیک ان کی تیاری میں بہت وقت لگتا ہے۔ کون پکائے کون کھائے۔ 16فیصد کے نزدیک انہیں جلدی دفتر جانے کے لیے سبزیاں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔
چیرٹی نامی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی نسل کو جینگ فوڈ سے بچانے کے لیے اقداما ت کرے ورنہ ہر تیسرا بچہ موٹاپے کا شکار ہو جائے گا۔ پرائمری سکول چھوڑنے سے پہلے اس کا وزن بڑھ جائے گا ایسے بچوں میں ذیباطیس کے اندیشے بھی بڑھ جائیں گے۔ ایم اے ایلگزین برطانیہ میں کلینکل ایڈوائزر ہیں ،انہوں نے بھی اس سروے کو تفتیش ناک قرار دیا ہے۔ ہم لوگوں سے کیا کہہ رہے ہیں وہ صرف اپنا لائف سٹائل بدل کر اپنی خوراک میں پھل اور سبزیوں کی مقدار بڑھانے کے بعد تھوڑی سی ورزش کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہر قسم کی ذیباطیس سے بچائے رکھے گا۔ اور یہی نہیں اس سے اندھے پن اور جلدی اموات میں بھی کمی ہوگی۔ اسی لیے برطانیہ میں اب اچھی خوراک کے لیے ایک مہم شروع کی جارہی ہے یہ تحقیق ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے ۔ ہم تحقیقات تو نہیں کر سکتے جو دنیا بھر میں ہو رہی ہیں ان تحقیقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہاں امراض میں کمی لاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ذیابطیس کے ساتھ صحت مند زندگی (درج ذیل احتیاطوں سے ممکن ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں