kashmir humanity

کشمیر جنت نظیر !؟ (ایک جلتا ہوا انگار)

EjazNews

جغرافیائی پس منظر:
دنیا کے بلند ترین سلسلہ ہائے کوہ ہمالیہ قراقرم کے مابین گھری ہوئی وادی کشمیرایک طرف شمال میں وسط ایشیا، چین، تبت سنکیانگ تاجکستان سے پہلو ملائے ہوئے ہے اور دوسری طرف جنوبی ایشیا میں پاک و ہند کے میدانی علاقوں سے اس کا جوڑ ملا ہوا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے اس خطے کا جائزہ لیا جائے تو اس کے دریاؤں اور ندی نالوں کا بہاؤ اس خطۂ ارضی کے رخ اورگل وقوع کا تعین واضح طور پر کرتا نظر آتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے شمالی کوہستانوں کے آبی منبوں سے نکلنے والے بڑے دریاؤں (سندھ ساگر، ستلج، گنگا ،جمنا ،برہم پترا) کا رخ ملاحظہ کیجئے ۔ ان بڑے در یادوں کا منبع کوہ ہمالیہ میں قریب قریب یکساں موقع پر (جھیل مانسرور ) ہے۔ مگر یہ در یامختلف سمتوں کا رخ کر کے شمالی ہند کے ملکوں کی تقسیم کا قدرتی ذریعہ بن جاتے ہیں۔
تمدن ہند کے فرانسیسی مصنف دکتر گستائولی بان نے انیسویں صدی میں ہند کی ظاہری شکل کو ایک مربع قرار دیا تھا جو قریب قریب دو مساوی مثلثوں میں بٹا ہوا ہے۔ جنولی مثلث (دکن ) اور شمالی مثلث جو کوہ ہمالیہ کے شمال مغرب کی بلند ترین چوٹی نانگاپربت سے لے کر مشرق میں نیلگری کی پہاڑیوں تک شمالی ہند کے میدانوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ اس بڑی مثلث کے بھی طبیعی طور پر تین حصے ہو جاتے ہیں۔ مشرقی وسطی اور شمال مغربی (جن میں اب بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان واقع ہیں) ان تینوں ملکوں کی جغرافیائی سطح کو دریاؤں کے رخ سے ملاحظہ کیے ۔ برہم پترا یکساں دامن کوہ تبت، لداخ کے نواح میں) سے نکل کر شمال سے مشرق کی طرف کوہ ہمالیہ کے ساتھ ساتھ بہتے ہوئے نیلگری کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان ) کو سیراب کرتا ہو خلیج بنگال میں جا گرتا ہے۔ گنگا وجمنا دریا بھی اسی مقام سے اپنے بحری سفر کا آغاز کرتے ہیں اور ہر دوار سہارنپور سے جنوب کی طرف اور پھر مشرق میں اتر پردیش، بہار (شمالی بھارت) کے علاقوں سے گزرتے ہوئے خلیج بنگال کا رخ کرتے ہیں۔ جبکہ سندھ ساگر اپنے اسی منبع سے نکل کر بلتستان اور شمال مغرب میں گلگت کو چھوتا ہوا اور اپنے معاون دریاؤں کو ساتھ لے کر جنوب میں پاکستان (کشمیر ،سرحد، پنجاب، سندھ ) سے گزرتا ہوا بحر عرب کا رُخ کرتا ہے۔ پنجاب کے پانچ دریائے ستلج،بیاس، راوی، چناب، جہلم بھی چند اورپنج ند اورمٹھن کوٹ کے مقام پر سندھ ساگر سے مل جاتے ہیں۔ دریاوں کا یہ قدرتی بہاؤ بھی کشمیر سرحد اور پنجاب کے علاقوں کی قدرتی حد بندی کرتا ہوا پاکستان کی جغرافیائی حدود کا تعین کر دیتا ہے۔ شمالی ہند کی حد بندی کا یہ سلسلہ ہزاروں سال سے یونہی چلا آرہا ہے۔ اور اس لحاظ سے کشمیر، سرحد پنجاب، سندھ اور بلوچستان ایک سیاسی یونٹ یعنی پاکستان بن جاتا ہے۔ سیاسی اور استعماری ریشہ دوانیاں اس قدرتی وحدت سے ٹکراتو سکتی ہیں مگر اسے کالعدم نہیں کر سکتیں۔

کشمیر میں میڈیا مکمل طور پر بلیک آئوٹ ہے اور جو چیزیں منظر عام پر آرہی ہیں وہ مہذب دنیا کوجھنجوڑنے کیلئے بہت ہے

تاریخی پس منظر:
وادی کشمیر بشمول ملتان ،گلگت ،ہنزہ ،جموں ،لداخ کارقبہ تقریباً ۸۵۰۰( پچاسی ہزار) مربع میل ہے اور برف پوش پہاڑوں سے لے کر وادیوں، جھیلوں ،چمن زاروں، سمن زاروں ،انواع و اقسام کے میووں ان تم سیبوں ،ناشپاتیوں ،چنار کے سایہ دار درختوں گل و گلزار اور زعفران زار کا یہ خطۂ ارضی اپنی خوبصورتی و دل کشی کے لئے اور یہاں کے باشندوں کی جفاکشی، محنت و مشقت اور ہنر مندی کے لئے دنیا بھر میں مشہورر ہا ہے۔
کشمیر کی تاریخ بہت قدیم ہے اور افسانوں و داستانوں سے بھر پور ہے مگر میں یہاں تاریخ کے قدیم و جدید شاہی سلسلوں سے کچھ سروکار نہیں ،صرف یہاں کی معاشرتی، تہذیبی اور تمدنی زندگی کی ایک جھلک دکھانا مقصود ہے۔ اس خطۂ ارضی کے باشندے اپنے گرم و سرد ماحول میں خوشگوار زندگی بسر کرتے تھے۔ راعی اور رعایا کا روایتی تعلق یہاں ایک خاندان کا سارہا۔
مذہب اور تصوف سے لگاؤ زندگی کا معمول اور معاشرت کا کمال رہا۔ یہ مذہب ویدانتی ہو یا بدھ مت،یہ خطہ امن و امان، عدل و انصاف کا گہوارہ رہا اور لوگوں کی زندگی اپنے اپنے ماحول میں آسودہ حال رہی ۔ ویدانتی سلسلے میں اونچی جاتی یعنی استعماری ذہنیت کے برہمن (کشمیری پنڈت) اپنے حال میں مست رہے اور عوام الناس اپنے حال میں مطمئن تھے۔ جمہور میں بدھ مت کو تفوق حاصل رہا اور یہاں کے حکمران زیادہ تر اسی سلسلے کے لوگ تھے۔
کشمیر میں اسلام کا ظہور بھی برصغیر کے دوسرے علاقوں کی طرح علماء وصلحا و صوفیا کے توسط سے ہوا اور جس طرح عرب میں ظہور اسلام کے ساتھ عرب و عجم کی کایا پلٹ گئی اسی طرح وقت آنے پر کشمیر میں بھی دعوت اسلام کا توحیدی سلسلہ انہی بزرگوں کے ذریعے یہاں پہنچا۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں فاتحین کے شاہی سلسلے بھی آتے رہے اور اپنا اپنا سکہ چلا کر چلے جاتے رہے۔ ان سلسلوں کے ساتھ ہی فقر و درویشی کے سلسلے بھی دلوں کو تسخیر کر کے رشد و ہدایت کے سلسلوں کو پھیلاتے رہے۔ بقول اقبال
نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازی
کشمیر کا قدیم ترین مورخ پنڈت کلہن بارہویں صدی عیسوی میں لکھتا ہے کہ کشمیروہ ملک ہے جسے روحانی اوصاف سے فتح کیا جا سکتا ہے مسلح افواج سے نہیں۔( راج ترنگنی)
اسی فقر و درویشی کے سلسلے نے کشمیر میں بھی دلوں کو خیر کر لیا اور مفتوح القلوب کے اسی عظیم سلسلے نے کشمیری تہذیب وتمدنی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس کی ابتدا کب اور کس طرح ہوئی؟ اس کے واضح آثار میں چودھویں صدی عیسوی کے شروع میں ملتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے پچھلی صدیوں میں اسلام کی شعاعیں بیان نہیں پہنچی ہوں گی ۔کشمیر کی تاریخ کا یہ واقع مشہور ہے اور اکثر راویوں نے اسے بیان کیا ہے:۔
کشمیر کے بد ھ حکمران لداخ کے راجہ رینچن نے ایک درویش عبدالرحمن بلاول شاہ (المعروف بلبل شاہ ) کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا جس کی مختصر روداد یہ ہے: ۔
’’چودھویں صدی کے ربع اول میں لداخ کا راجہ رینچن (Renchana) وادی کشمیر کا حکمران تھا- وہ وادی کشمیر کے لوگوں کی طرح وہاں کے مذہبی خیالات و رجحانات سے مطمئن نہیں تھا اور کسی حقیقی مذہب کی تلاش میں سرگرداں تھا جو اس کے قلب کو سکون و اطمینان بخش دے۔ وہ اپنے مصاحبوں اور درباریوں سے اکثر اپنے مذہبی احوال پر مباحث کرتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز اس نے خالق حقیقی پر یقین کرتے ہوئے یہ طے کیا کہ وہ کسی ایسے شخص کے مذہب کو اختیار کر لے گا جو اگلے روز علی الصباح اسے نظر آ جائے۔ چنانچہ یہ حکمران اپنے محل کے ایک در یچے میں بیٹھ کر ماحول کا جائزہ لیتا رہا۔ اس نے سحر کے وقت ایک ایسے شخص کو دیکھا جو دریا کے کنارے کی طرف جا رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے۔ پھر ایک چٹان پر مغرب کی طرف رخ کر کے کھڑا ہوا اور رکوع و سجود میں مصروف ہو گیا ۔ یہ گویا ایسی عبادت تھی جسے عربی میں صلوٰۃ اور فارسی میں نماز کہا جاتا تھا۔ جیسے ہی وہ انہیں اپنا کام مکمل کر کے وہاں سے چلنے لگا ،ریچن راجہ اس کے قریب گیا اور پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اور وہ یہاں مغرب کی طرف رخ کر کے کیا کر رہا تھا؟،اس درویش صفت انسان نے اپنا تعارف کراتے ہوئے عبدالرحمن (عرف بلاول شاہ المعروف بلبل شاہ) نام بتایا اور کہا کہ مسلم ہے، اس نے اپنے دین کے بنیادی اصول کی وضاحت کی اور بتایا کہ وہ یہاں اللہ کی عبادت کر رہا تھا جس طرح پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ نے سکھائی ہے۔ آپ ؐ نے مذہب اسلام کی تکمیل کی، جو حقیقت میں تمام دنیا کے ان انبیا کا مذ ہب تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ہر ملک اور قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا ۔ درویش نے وضو کرنے کا سادہ طریقہ اور عبادت کرنے کے سادہ انداز بادشاہ کو بتائے ،بادشاہ نے مسلم ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ درویش نے کلمہ طیبہ پڑھ کر اسے اسلام کی عظیم برادری میں شامل کر لیا۔
سلطان صدر الدین (سابق راجہ ریچن) کے اہل در بار اور عوام کی غالب اکثریت نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ اس طرح ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہو گیا ۔ وادی کشمیر میں اسلام سرعت سے پھلنے لگا ،تاہم شرع محمدی کے ملی نفاد میں کچھ وقت لگا۔
نومسلم سلطان صدرالد ین چند سال تک جیئے ۔ ان کی وفات (۱۳۲۶ء) کے بعد کچھ عرصہ نظام حکومت میں اختلال رہا۔ پھر ان کے وزیرشاہ میر سلطان شمس الدین نے تمام حکومت (۱۳۲۹ء۱۳۴۲ء) قائم کی اور یہ شاہ میری سلطنت وادی کشمیر میں صدیوں تک خوشحالی و مرفع الحالی کا باعث بنی رہی۔ سلطان شمس الدین کی وفات کے بعد سلطان شہاب الدین ۱۳۵۴ء میں سریر آرائے سلطنت ہوئے جو اپنے عہد کے ایک بڑے فاتح اورمنتظم تھے۔ ان کے بارے میں علامہ اقبال جاوید نامہ میں لکھتے ہیں: ۔
عمر ہاگل رخت بربست و کشاد
خاک ما دیگر شہاب الدین نزاد
وادی کشمیر میں شاہ میری سلسلے نے عرصہ دراز تک حکومت کی اور اس خاندان میں بڑے نیک اولوالعزم اور رعایا پرور حکمران صاحب اقتدار ہے۔ انہی سلاطین میں سلطان قطب الدین ،سلطان سکندر (بت شکن) سلطان علی و سلطان زین العابدین شامل ہیں۔ سلطان زین العابد ین کا پچاس سالہ عہد سلطنت (۱۴۷۰ء – ۱۴۲۰ء) کشمیر کا عہد زریں کہلاتا ہے۔ سلطان شہاب الدین کے عہد میں ایران کے نامور صوفی بزرگ سید علی ہمدانی تقریبا سات سو درویشوں کے ہمراہ کشمیر میں تشریف لائے اور انہوں نے یہاں رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کر کے وادی کشمیر صحیح معنوں میں اسلام کا گہوارہ بنادیا۔
سولہویں صدی کے وسط میں شاہ میری خاندان بھی زوال آمادہ ہو گیا اور۱۵۸۶ء میں مغل بادشاہ اکبر نے کشمیر کو سلطنت مغلیہ کا حصہ بنالیا اور مغل بادشاہوں کی طرف سے ان کے نامزد گورنر یہاں حکومت کرنے لگے۔ تاہم شاہی سلسلہ کے نامور سلاطین جہانگیر شاہ جہاں اورنگ زیب عالمگیر کے لئے زمانہ شاہزادگی ہو یا بادشا ہت ،خطہ مینوسواد کشمیران کے لئے خاص طور سے سیر و سیاحت کا مرکز رہی اور ان بادشاہوں نے کشمیر کی تعمیر وترقی میں از حد دلچسپی لی جس کی وجہ سے یہاں کے عوام کی خوش حالی اور صنعت و زراعت میں بہت ترقی ہوئی اور عالیشان مساجد ،مدارس ،باغات، ازقسم شالیمار اس عہد کے نقوش پارینہ کو تا حال اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔
زوال کا آغاز:
کشمیر جنت نظیر کا یہ لکش منظر پانچ صدیوں تک اپنا جلوہ پر بہار دکھا کر نگاہوں سے اوجھل ہونے لگتا ہے۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں اسلامی سلطنت کے زوال کے ساتھ کشمیر کے چنارو سبزہ زار وگل گلزار پربھی خزاں کا دور دور شروع ہوگیا – اور پت جڑ کے ساتھ یہ تار یک سائے بڑھتے ہی چلے گئے۔
پانی پت کی تیسری جنگ (۱۷۶۱ء) میں فاتح احمد شاہ ابدالی اپنے لا ولشکر سمیت کابل کو سدھارتے ہیں۔ مفتوح مرہٹوں کی ابھرتی ہوئی طاقت دم توڑ دیتی ہے اور مشرق کی طرف سے بڑھتی ہوئی برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی نویلی طاقت ناتواں والا چارمغل بادشاہت کو اپنی تحویل میں لے کر جنوبی ایشیا پراپنا پرچم یونین جیک لہرانےلگتی ہے۔ لاوارث پنجاب سکھ گردی، لوٹ مار اور غارتگری کا شکار ہوا ،اور بے کس ،کشمیر افغانی سرداروں کی باہمی آویزش میں مبتلائے آلام ہو جاتا ہے۔ رنجیت سنگھ لاہورو پنجاب پر قابض ہو کر نواحی علاقوں کشمیر ،سرحد اور ملتان کو اپنے زیر تسلط کرتا ہے۔ کشمیر پر اس کا قبضہ۱۸۱۹ء میں ہوا ،اور یہی وہ دور ہے جب یہ حملہ کشمیری مسلمانوں کی بدنصیبی اور استحصال کا مرکز بنا اور اکثر لوگ یہاں سے ہجرت کرنے پرمجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  بدترین قتل عام: جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری
کشمیر میں اب ہر طرف صرف ایک ہی نعرہ ہے آزادی، آزادی اور آزادی

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد سکھوں کا وقت زوال بھی قریب آگیا۔ آنجہانی مہاراجہ کا دست راست جرنیل، جموں کا راجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ اپنے اقتدار کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ساز باز کر چکا تھا۔سبھر اوں کی فیصلہ کن جنگ میں اس سازش کی بدولت سکھوں کو شکست ہوئی اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ سکھوں کا اقتدار لاہور اور مغربی پنجاب کے بعض اضلاع تک محدود ہو کر رہ گیا۔ فاتح ایسٹ انڈیا کمپنی اور مفتوح سکھ در بار لاہور کے مابین عہد نامہ لاہور ۹- مارچ ۱۸۴۶ء کو ہوا ،جس میں جموں کے ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کا اقتدار مفتوحہ پہاڑی علاقوں(گلگت ،بلتستان ،کشمیر) میں برقرار رکھا گیا۔ ڈوگر هہ راجہ کو لاہور پنجاب کے سکھ دربار سے غداری کا یہ انعام ایسٹ انڈیا کمپنی نے دیا جس کے لئے الگ معاہد ہ ہونا قرار پایا۔ چنانچہ عہد نامہ امرتسر کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے مابین ۱۷ ربیع الاول ۱۲۶۲ھ؍۱۶ – مارچ۱۸۴۶ء کو قرار پایا جس کی دس شقیں درج ذیل ہیں:
کشمیر کی خریدوفروخت اورظلم وستم کی آندھی

یہ بھی پڑھیں:  صفائی نصف ایمان ہے

Article 1
The British Government transfers and
makes over for even in independent
possession to Maharajah Gulab Singh and the heirs males of his body all the hilly and mountainous country with its dependencies situated to the eastward of the ceded to the British Government by the Lahore state, according to the
provision of Article IV of the Treaty of Lahore, dated 9th March 1846.
Article 2.
The eastern boundary of the tract
transferred by the foregoing article, to
Maharajah Gulab Singh shall be laid down by the Commissioners appointed by the British Government and Maharajah
Gulab Singh respectively for the purpose
and shall be defined in a separate
agreement after survery.
Article 3.
The Consideration of the transfer made to
him and his heirs by provisions of the foregoing article, Maharajah Gulab Singh
will pay to the British Government the
sum of seventy five lakes of rupees
(Nanakshahi), fifty lakes to be paid on
ratification of this Treaty and twenty five
lakes on or before the first of October of the current year, A.D, 1846.
Article 4.
The limits of the territories of Maharajah Gulab Singh shall not be at any time changed without concurrence of the
British Government.
Article 5.
Maharaja Gulab Singh will refer to the arbitration of the British Government any
disputes or question that may arise
between himself and the Government of
Lahore or any other neighbouring states and will abide by the decisions of the British Government
Article 6.
Maharajah Gulab Singh engages for himself and heirs to join, with the whole of his military forces, the British troops, when employed within the hills or in the
territories adjoining his possessions.
Article 7.
Maharajah Gulab Singh engages never to take or retain in his service any British subject nor the subject of any European
or American States without the consent of
the British Government.
Article 8.
Maharaiah Gulab Singh engages to
respect in regard to the territory transferred to him, the provisions of the articles V, VI and VII of the separate
Engagement between the British Government and the Lahore Durbar, dated 11th March, 1846. “Referring to jagirdars, arrears of revenue and property in the forts that are to be
transferred.”
Article 9
The British Government will give its aid to
Maharajah Gulab Singh Protecting his
territories from external enemies.
Article 10
Maharajah Gulab Singh acknowledges
the supremacy of the British Government
annu
and will, in token of such supermacy, present annually to the British Government, one horse, twelve (shawl) goats of approved breed, (six male six female) and three pairs of Kashmiri Shawls-“

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر: بین الاقوامی قانون کے تناظر میں

معاہدہ امرتسر کی دستاویز پر تاج برطانیہ کے نمائندے ( گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ ) کے علاوہ فریقین کے دستخط ہوئے ۔ مگر کشمیر کے باشندوں کو کانوں کان بھی مطلق خبر نہ ہوئی کہ ان کی خرید و فروخت کا سودا کون کر رہے ہیں؟ اور کیسے کر رہے ہیں؟۔

اپنا تبصرہ بھیجیں