kashmir-karfio

پاکستان اور بھارت کے درمیان عداوت قائم رہی، توکیا دونوں ایک دوسرے کو تباہ کر دیں گے؟

EjazNews

پاکستان اور بھارت کے مابین تنائو ایک بار پھر بلندیوں کو چھو رہا ہے اور اس کا سبب کشمیر کو ہتھیانے کی بھارتی کوشش ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے، پلواما میں ہونے والے خودکُش حملے میں بھارتی نیم فوجی دستے میں شامل 40سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مقبوضہ کشمیر پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی ہے۔جو تادم تحریر جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر ہونے والے اس حملے نے بھارت میں ایک طوفان سا برپا کر دیا اور واقعے کی ذمداری فوری طور پر جیش محمد نامی ایک شدّت پسند تنظیم کی جانب سے قبول کیے جانے کے باوجود پاکستان سے بدلہ لینے ، اسے سبق سکھانے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ اور بات ہے کہ لڑاکا جہاز اور پائلٹ پاکستانیوں سے مار کھا رہے تھے۔ انڈین پائلٹ کو پاکستانی مار رہے تھے اور جہاز کو پاکستانی ائیر فورس نے گرایا تھا۔
پلوامہ واقع کے چند روز بعد وزیراعظم، عمران خان نے قوم سے خطاب میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کو حملے کی تحقیقات اور ذمدار عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد کی پیش کش کی۔ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے کی گئی پیش کش دہشت گردی کے خلاف تعاون کا ایک بہتر طریقہ تھا، لیکن بھارت نے حسب معمول ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے رد کر دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چونکہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا شدید فقدان ہے، اس لیے نیک نیتی سے کی جانے والی کوششیں بھی فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ جنوبی ایشیا کے ان دو اہم ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک طویل عرصے سے تنازع کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے مابین کئی جھڑپیں اور جنگیں بھی ہو چُکی ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں اور وہاں روزانہ ہی شہادتیں ہو رہی ہیں۔ بھارت کے زیرِ قبضہ اس خطے میں آئے 5اگست 2019ء سے کرفیو لگا ہے اور میڈیا مکمل طور پر بلیک آئوٹ ہے۔ نا جانے وہاں ظلم و ستم کی کون سے کہانیاں رقم ہو رہی ہیں نسل کشی پوری طرح جاری ہے ، جبکہ بھارتی فوجی اور خصوصی نیم فوجی دستے مسلسل کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کُچلنے میں مصروف ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ تحریک زور پکڑتی جارہی ہے اور بھارتی سرکار کے لیے ایک مستقل درد سَر بن چُکی ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم، کشمیریوں کی شہادت اور ان کی املاک کی تباہی کے نتیجے میں جنت نظیر وادی، گویا تباہی و بربادی کا فسانہ بن چُکی ہے، لیکن بھارتی حکمران، کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر آمادہ نہیں۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی تنائو پیدا ہوتا ہے، تو عالمی طاقتیں اور ادارے فریقین کو مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات حل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بیرونی دبائو کی وجہ سے عارضی طور پر کشیدگی کم ہو جاتی ہے، لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے کہ پھر دونوں ممالک پر جنگ کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔
پاک، بھارت کشیدگی ختم نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ان دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت داخلی سیاست کا لازمی جزو بن چُکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ذہنی اور جسمانی معذوریوں کو مجبوری نہ بننے دیں
ظلم جتنا بڑھتا جارہا ہے مزاحمت اتنی ہی شدت اختیار کرتی جارہی ہے

مثال کے طور پر اپنی انتخابات میں بی جے پی کی حکومت پلواما واقع کی آڑ میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے پاکستان مخالف مُہم چلا تی رہی ہے۔ کم و بیش بھارت کی ہر سیاسی جماعت ہی پاکستان کے خلاف جذبات بھڑکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، جبکہ اس کے برعکس پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم اپنی وکٹری سپیچ سے لے کر اب تک کئی مرتبہ بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کر چُکے ہیں۔ عمران خان نے یہ تک کہا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھائے گا، تو ہم دو قدم۔ لیکن جب سے کشمیر پر انڈیا نے قبضے کی کوشش کی انہوں نے بھی کہہ دیا کہ اب مذاکرات نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے دونوں ممالک کو قریب لانے کے لیے کرتار پور راہ داری بھی کھولی، جس کی دنیا بھر میں ستائش ملی، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی اور اب کشمیر کے سپیشل سٹیٹس کے ختم ہونے کا واقعہ رونما ہو گیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بر صغیر کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کو اس معاندانہ رویے پر حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ پاکستان اور بھارت، جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ممالک ہیں، جن کی مجموعی آبادی تقریباً 1.5ارب ہے اور دونوں ممالک کے عوام کا معیار زندگی کسی طور بھی اطمینان بخش نہیں۔ غربت، جہالت، آبادی میں بے ہنگم اضافہ اور صحت و ماحولیات کے مسائل خطرے کی گھنٹیاں بجارہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت اور اہل دانش مستقلاً ان مسائل کا اظہار کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے لازمی عنصر کشیدگی کے خاتمے اور قیامِ امن کی جانب قدم بڑھانے کی جرأت نہیں کرتے، جو ناقابل فہم ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر اپنی فوجی طاقت کا اظہار اور جنگ کی دھمکیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت، دانشوروں اور میڈیا کو جنگ کی تباہ کاریوں کا اداراک نہیں یا پھر وہ سفارت کاری کے نت نئے اسرار و رموز سے نابلد ہی رہنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ترقّی یافتہ ممالک کی حکومتیں اپنے مُلک میں دہشت گردی کا واقعہ رُونما ہونے کے بعد فوری طور پر رد عمل ظاہر نہیں کرتیں اور چھان بین کے صبر آزما مرحلے کے نتیجے میں حاصل کردہ ثبوتوں کی روشنی میں کوئی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ اس دوران ان ممالک کے ذرائع ابلاغ بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور ایسا مواد شائع و نشر کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ جس سے کسی کے جذبات مجروح ہوں۔ اس کے برعکس ہمارے خطّے میں ان واقعات پر جلد بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور کم و بیش ہر دوسرا فرد ہی دوسرے ممالک کو ذمدار ٹھہرا کر خود کو محب وطن ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ معاملہ انڈیا میں بہت زیادہ ہے، انڈیا میڈیا کو انڈیا کے اندر بھی اس لیے قابل اعتبار نہیں گردانا جاتا کیونکہ ٹی آر پی کے چکروں میں خاص کر انڈین میڈیا یہ بھول جاتا ہے کہ جب بم چلیں گے تو وہ کسی بکتر بند گاڑی میں نہیں بیٹھ سکیں گے نیو کلیر جنگ میں سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ ایسے مواقع پر عوام کے جذبات بھڑکانے میں بھارتی میڈیا کا کوئی ثانی نہیں، جو شاید یہ چاہتا ہے کہ واقع کی تفتیش کی بجائے اُس پر کان دھرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ چونکہ سیکڑوں بھارتی ٹی وی چینلز پر بیٹھے سیاسی و دفاعی ماہرین، سیاستدان اور سابق فوجی افسران اپنے جذباتی بیانات کے ذریعے مسلسل آگ پر تیل چھڑکنے میں مصروف رہتے ہیں، لہٰذا عوام کے دلوں میں پڑوسی مُلک سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے، جس پر قابو پانا پھر حکومت کے لیے مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ بعض طبقات کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ نفرتیں پھیلا کر سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم، کسی دوسرے مُلک کے خلاف نفرتیں پھیلا کر عارضی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن آگے چل کر یہ عمل مشکلات پیدا کرتا ہے اور آخر کار فریقین کو بات چیت ہی پر مجبور ہونا پڑتا ہے، لیکن تب عوام کو سمجھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ مذاکرات کا نام لیتے ہی رہنمائوں پر ہر طرف سے غدار اور مُلک دشمن کے الزامات عائد کیے جانے لگتے ہیں۔ کسی مُلک کی معاندانہ پالیسی پر تنقید کرنا غلط نہیں، لیکن اس موقع پر اس کے رہنمائوں پر کیچڑ نہیں اُچھالنا چاہیے، کیونکہ پھر جب مذاکرات کی بات آتی ہے، تو ماضی میں کی گئی کردار کُشی مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔ اس تجزیہ کار کے مطابق نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان عداوت قائم رہی، تو آخر کار دونوں ایک دوسرے کو تباہ کر دیں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں اگر کسی مُلک کو چاہے وہ طاقتور ہو یا کمزور، ترقّی کرنی ہے، تو اسے نہ صرف اپنی سر زمین پر امن قائم کرنا ہو گا، بلکہ اپنے گرد و پیش میں بھی اطمینان اور آسودگی کو جگہ دینی ہو گی اور یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، بلکہ معمولی سی عقل و فہم رکھنے والا فرد بھی امن و آشتی کی اہمیت سے آگاہ ہے۔آج ہر قوم جنگ کی تباہ کاریاں دیکھ چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل چاہتی ہے۔ اس وقت جنوبی ایشیا کے حکمرانوں اور عوام کو بھی ہوش کے ناخن لینے اور جنگوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اگر تلخیوں اور نفرتوں میں اضافہ ہوتا رہا، تو اس سے سب کا نقصان ہو گا اور ہمیں اس زیاں کو روک کر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انڈیا مقبوضہ کشمیر میں جو کھیل کھیل رہا ہے اسے وہاں وہ کھیل بند کرنا ہوگا اور کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق دینا ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں کے باوجود بات چیت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ لیاقت نہرو پیکٹ۔ انڈس بیسن واٹر ٹریٹی، معاہدۂ تاشقند، اعلان شملہ اور اعلان لاہور سمیت کرکٹ ڈپلومیسی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ پھر گزشتہ دور حکومت میں پاکستانی وزیر اعظم، میاں نواز شریف کی نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ کی تقریب حلف برداری میں شرکت، بھارتی وزیراعظم کی لاہور آمد اور اپنے پاکستانی ہم منصب کی گھریلو تقریب میں شرکت اور پھر ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا طویل سلسلہ بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میڈیا، حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ عبوری زمانہ بہتر تھا کہ جب مختلف بھارتی وفود اور عوام بلا خوف و خطر پاکستان آتے تھے یا موجودہ خوف ناک ماحول۔ سیاست دان ہوں یا جرنیل، اہل دانش ہوں یا فنکار، سبھی کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی جاری رکھنی چاہیے اور ایک دوسرے کے لیے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ ہمیں ان افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ جو ان تلخیوں کو نرمی میں بدلنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یاد رہے کہ ریاستوں کے درمیان زمانۂ جنگ میں بھی رابطے قائم رہتے ہیں اور ان رابطوں کو غداری یا مُلک دشمنی سمجھنے کی بجائے مثبت انداز سے استعمال کرنے کا فن ہی سفارت کاری کہلاتا ہے۔ اس وقت پاک، بھارت تعلقات کی نوعیت بالکل ویسی ہی ہے، جیسی ایک دور میں یورپی ممالک کی ہوا کرتی تھی۔ یورپی ممالک ایک دوسرے سے جنگیں لڑتے رہے اور تباہ ہوتے رہے، لیکن دو عالم گیر جنگوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور خون ریزی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اتفاق سے رہنے ہی میں بھلائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 28یورپی ممالک کے درمیان کوئی سرحد نہیں اور سب ایک دوسرے کی خوش حالی میں شریک ہیں۔ یہ کوئی کرامت نہیں، بلکہ انسانی عقل و فہم کا کارنامہ ہے اور یہ سب جنوبی ایشیا میں بھی ممکن ہے۔ لیکن یہ ختم نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا سکتا ہے، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرے اور ان کی پارلیمنٹ نے جو کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم کیا ہے اسے بحال کیا جائے۔ کیونکہ کشمیر سے ساری کشیدگی شروع ہوتی ہے اور کشمیر سے ہی ختم ہوتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر ایک واحد مسئلہ ہے جس کو حل کر کے دونوں ممالک اپنے اپنے ملک میں ترقی و خوشحالی کے بیج بو سکتے ہیں ۔ کیونکہ اگر امن نہیں ہوگا اور خوف کی فضا رہے گی تو انڈیا میں بھی اس طرح کی سرمایہ کاری کبھی نہیں ہوگا جس طرح کی وہ چاہتے ہیں اور نہ ہی ترقی ممکن ہوگی۔اس بات کو ذہن نشین کر لیجئے کہ امن کے بغیر ترقّی و خوش حالی ممکن نہیں اور دونوں ممالک کو مل کر کوئی ایسا لائحہ عمل اپنانا ہو گا کہ جس میں سب کی جیت ہو۔ کشمیریوں کی بھی ، پاکستانیوں کی بھی اور انڈین کی بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  وائرس سے بچوں کی حفاظت ضروری ہے مگر خوف کے بغیر

اپنا تبصرہ بھیجیں