children-play game

بچوں کا خاص خیال رکھیں کہ جدید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کریں

EjazNews

دُنیا بھر میں 7سے 9برس کے بچّوں میں سے کم از کم نصف ایسے ڈیجیٹل گیمز کھیلتے ہیں کہ جو صرف بالغوں کے لیے تیارکی جاتی ہیں اوربرطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، کم عُمر بچّے ہینڈ ڈیوائسز پر ریکارڈ وقت گزارتے ہیں۔ 5برس سے کم عُمر بچّے سمارٹ فونز یا ٹیبلٹس پر یومیہ 2.8گھنٹے گزارتے ہیں، جبکہ گزشتہ برس یہ شرح 2.6گھنٹے یومیہ تھی۔ہر 4میں سے 3بچّے کمپیوٹر یا ٹیبلٹ تک رسائی رکھتے ہیں، جبکہ 5برس سے کم عُمر ہر 10میں سے 3بچّے ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ سکول جانے سے پہلے کی عُمر کے بچّوں کی اکثریت کے پاس اپنی ڈیجیٹل ڈیوائسز ہیں اور ان میں یو ٹیوب سب سے مقبول ایپلی کیشن ہے۔ 8سے15برس کی عُمر کے بچّے روزانہ 7گھنٹے سے زائد وقت تک سکرینز پر جھکےرہتے ہیں۔ 11سے 12 برس کی عُمر کے 70فیصد اور 14برس کی عُمر کے 90فیصد بچّوں کے پاس ذاتی موبائل فونز ہیں۔
ایک سروے کے مطابق، جرمنی میں نوجوان لڑکے، لڑکیاں موسیقی سے لطف اندوز ہونے، دوستوں سے گپ شپ کرنے یا پھر سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے روزانہ اوسطاً 3سے4گھنٹے انٹرنیٹ پر صَرف کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دیگر ممالک کی طرح امریکہ میں بھی موبائل فون کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ 95فیصد امریکی باشندوں کے پاس موبائل فونز ہیں اور 12فیصد امریکی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے اپنا موبائل فون ہی استعمال کرتے ہیں۔ جنوبی کوریا میں ایک ہزار طلبہ پر ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے72فیصد 11سے 12سال کی عُمر کے بچّوں کے پاس ذاتی سمارٹ فونز ہیں اور وہ ان پر روزانہ اوسطاً 5.4گھنٹے صرف کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 25فیصد بچّوں کو موبائل فون کا عادی قرار دیا گیا۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موبائل فون کے استعمال میں اضافہ ہو ا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 82فیصد پاکستانی شہریوں کے پاس موبائل فونز ہیں اور ان میں سے 31فیصد سمارٹ فونز استعمال کر رہے ہیں۔یہ سمارٹ فونز ،ٹیبلٹ اور جدید دور میں سمارٹ ٹی ویز پر بچوں کا وقت پاکستان میں بھی بہت زیادہ گزرنا شروع ہو چکا ہے ۔ اس جدید دور میں ان چیزوں کور وکا نہیں جا سکتا لیکن یہ ممکن ہے کہ ایک تو نظر رکھی جائے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں یا کھیل رہے ہیں اور دوسرا ان کا سکرین کو دیکھنے کا ٹائم محدود کیا جائے تاکہ وہ دوسری ہیلتھی ایکٹی ویٹی میں شامل ہو سکیں یہ بچے مستقبل ہیں اور سب کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں ۔ دور جدید کی اشیاء خرید کر دینا ہی کام نہیں ہے ان کا مثبت استعمال کروانا بھی ایک کام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلی کی کہانی

زندگی کے ابتدائی دو برس بچّوں کی نشوونما کے اعتبار سے خاصے اہم ہوتے ہیں۔ اس عرصے کے دوران بچّے دن کا 40سے 60فیصد حصّہ سو کر گزارتے ہیں۔ چُونکہ اس دوران وہ بولنا سیکھتے ہیں، اس لیے انہیں والدین کی قُربت کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جبکہ بچّے کی مجموعی نشوونما کے اعتبار سے زندگی کے ابتدائی 6برس ’’سنہری دَور‘‘ کہلاتے ہیں اور اسے وہ اپنے والدین کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اس مدّت میں انجام دی جانے والی معیاری سرگرمیاں مستقبل میں بچّے کے سیکھنے، سمجھنے، سوچنے اور سماجی اشتراک کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لہٰذا، سکرین ٹائم پر حد لگانے کا مقصد بچّوں کو صحت مند جسمانی و ذہنی سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے۔ اس کی وجہ سے بچّے کھیل کُود، تعلیم اور ڈرائنگ جیسی دوسری تخلیقی سرگرمیوں سمیت خاندان اور دوستوں کے لیے وقت نکال پاتے ہیں۔ اگر یہ حد مقرّر نہ ہو، تو بچّے کی نیند اور بھوک ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تاہم، اس حد کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچّے کو ٹی وی دیکھنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے سے بالکل ہی روک دیا جائے۔ نیز، بچّہ ہوم ورک کے لیے بھی ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچو !کیا آپ سلطان صلاح الدین ایوبی کے بارے میں جانتے ہو؟
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں