husband and wife with children

میاں بیوی کی پریشانیوں کے حل کرنے کیلئے اہم معلومات

EjazNews

وہ معلومات جن کی طرف میاں اور بیوی کی توجہ نہیں جاتی ہے ۔ان میں سے ایک ان کی آپسی پریشانیوں کے حل کرنے میں نفسیاتی پہلو ہے۔ وہ یہ ہے کہ شوہر کی فطری طبیعت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ روز کی پریشانیوں کو زیادہ سے زیادہ خاموشی سے نمٹے اور دوسروں کے سامنے ایک لفظ نہ بولے ورنہ اس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی عزت پر پڑا ہوا پردہ ہٹ گیا ہے اور وہ اسے اپنی ذاتی کمی محسوس کرتا ہے بلکہ ہم دیکھتے ہیںکہ مردوں کی اکثریت خاندانی تعلقات کو انتہائی پر اسرار اور چھپا کر رکھتی ہے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو اور نہ اس کی تفصیلات کسی غیر کو معلوم ہو۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مردوں کی اکثریت خاندانی تعلقات کو انتہائی پر اسرار اور چھپا کر رکھتی ہے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو اور نہ اس کی تفصیلات کسی غیر کو معلوم ہو ،اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مرد اپنی پریشانی کو چھپائے رکھتا ہے ا ور گہرے سکوت کے ذریعہ اس پر قابو پاتا ہے، مرد کی خاموشی کا دوسرا سبب یہ ہے کہ مرد اپنی نفسیاتی طبیعت کے لحاظ سے، اپنے اندرونی جذبات و احساسات کو اندر ہی اندر پی جاتا ہے۔ پریشانیاں اس کے اندر ہی اندر گھومتی رہتی ہیں اور شاذو نادر باہر آتی ہیں۔ اس کا جسم کتنا ہی دوسروں کے بارہ میں منفی جذبات کا اظہار کرے لیکن وہ جلد ہی ان جذبات پر قابو پالیتا ہے تاکہ باہر کے ماحول میں وہ واپس آسکے۔ مرد فطری طور پر کمزوری کو ناپسند کرتا ہے یا دوسروں کے سامنے کمزوری کے اظہار سے گریز کرتا ہے ،اس لئے وہ اپنی پریشانیوں کے چھپانے پر مجبور ہوتا ہے اور دوسروں پر بھروسہ کے بغیر خود ہی انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک بات اور بھی ہے وہ یہ کہ مرد نرمی اور نرم رویہ کے درمیان فرق نہیں کرتا کیوں کہ وہ اول آخر مرد ہے اور اس کی نفسیات اس پر رحم کرنے کو قبول نہیں کرتے۔ جبکہ عورت یہ پسند کرتی ہے کہ اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے وہ اپنی فطرت کے سبب اکثر ، اپنی کمزوری کو دوسروں پر ظاہر کرنے میں حرج نہیں سمجھتی کیوں کہ اسے نرم بات، اس کا لحاظ و خیال اور جذباتی انداز پسند آتا ہے۔ جب شوہر کسی متعین پریشانی سے دو چار ہوتا ہے خواہ وہ گھریلو ہو یا باہر کی تو وہ اپنی اندرونی فکر کو اس پریشانی کے علاج میں مرکوز کر دیتا ہے۔
جب وہ شام کو گھر لوٹتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ خاموش رہتا ہے ،روز مرہ کے الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں بولتا ہے۔ (جیسے کیا حال ہے ، فلاں کہاں ہے۔۔۔کھانے میں کیا ہے۔۔۔کیسے ہو۔۔۔؟) پھر سو جاتا ہے یا کوئی اخبار یا رسالہ پڑھنے لگتا ہے۔
یہاں حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ کتاب پڑھنے یا اخبار پڑھنے کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔دراصل وہ خارجی نظر کا سہارا لے رہا ہے جبکہ وہ اس موضوع کے بارے میں اندرونی طور پر مشغول ہے جس سے اس کا ربط گھر میں داخل ہونے سے پہلے تھا اور وہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی فکر میں مخل ہو یا کسی موضوع پر اس سے بات چیت کرے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ چڑ چڑے پن کا شکار ہوتا ہے اور بیوی سے گفتگو پر آمادہ نہیں ہوتا ہے یا یہ کہ وہ نفسیاتی طور پر بات چیت اور گفتگو کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ اس کے پاس بیوی کے ساتھ گھریلو معاملات پر گفتگو کرنے کی قدرت نہیں ہوتی ہے ۔یہاں تک کہ وہ کبھی اپنے آپ کو اور ارد گرد کے ماحول کو بھی بھول جاتا ہے اور ہ یہ بھی محسوس نہیں کرتا کہ آیا اس کی بیوی نے نیا لباس پہنا ہےیا نئے انداز سے میک اپ کیا ہے یا یہ کہ نئی چادر بچھائی ہے یا اس قسم کی بیوی کی کوئی بھی چیز جو شوہر کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کی گئی ہو وہ بالکل اتفاقی طور پر کسی ممکن عمل میں مشغول ہو جاتا ہے جیسے کتاب پڑھنا یا خبریں سننا یا کوئی اور کام کرنا، تاکہ اس کے اعصاب کو سکون ملے اور دھیر ے دھیرے وہ دوسرے شخص کی طرف کسی قدر متوجہ ہونا شروع کرتا ہے۔ گفتگو کرنے یا سننے کے لائق ہوہنےلگتا ہے اور بیوی سے گفتگو پر آمادہ ہونے لگتا ہے۔ عورت کا حال اس کے بالکل برعکس ہے وہ جب کسی مشکل میں پھنستی ہے تو مرد کی طرح اس کا حال نہیں ہوتا ہے وہ اپنے آپ میں بند نہیں ہو تی ہے اور نہ ہی خود اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں عورت کے لئے ناممکن ہے کہ وہ ا پنے دبے ہوئے جذبات کو چھپائے اگر وہ ایسا کرے تو وہ جذبات پھٹ پڑتے ہیں کیونکہ عورت کھلے انداز سے دوسروں پر اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی سہیلیوں یا جن عورتوں پر اس کو بھروسہ ہے۔ ان کے سامنے اپنی پریشانیوں کا تیزی سے ذکر کرتی ہے اور ازدواجی پریشانیوں کے بارے میں بھی گفتگو کرتے ہوئے اسے حرج محسوس نہیں ہوتا ہے۔ بر خلاف اس کے مرد کو اپنی پریشانیوں کو مانتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کیوں کہ یہ اعتراف براہ راست اس کی بڑائی سے ٹکراتا ہے جس کے سائے میں وہ زندگی گزار رہا ہے جب کہ عورت اس صراحت کو پیار و محبت اور دوسرے پر بھروسہ کے مترادف سمجھتی ہے۔ اس لئے شوہر کےبارے میں وہ زیادہ باریکی اور لمبی تشریح کے ساتھ اپنے جذبات کا اقرار کرتی ہے۔ اس لئے کہ اپنی سہیلی کو اپنی پریشانیاں بتلاتے ہوئے اسے راحت محسوس ہوتی ہے خصوصاً اس وقت جب اس کی سہیلی بھی ازدواجی پریشانیوں سے گزر رہی ہوتی ہے، یہاں دونوں کا حال رضا مندی اور را حت محسوس ہونے کا ہوتا ہے۔ جب عورت کسی سے اپنی پریشانیاں نہ بتا سکے تو وہ سکون کی خاطر رونے اور چڑنے کا سہارا لینے لگتی ہے۔
مشکل یہ ہے کہ بیوی شوہر کی نفسیات نہیں سمجھتی بلکہ اس کے اس طرز عمل سے تنگ آنے لگتی ہے بلکہ اس کو اپنی پریشانی کے خلاف اور اپنی توہین پر محمول کرتی ہے، اس لئے وہ اس کے اس غیر ارادی تصرف و سلوک کو قبول نہیں کرتی اور ہر طرح سے کوشش کرتی ہے کہ وہ خاموشی کی اس دیوار کو توڑ دے جسے شوہر نے اپنے ارد گر د بنائے رکھا ہے وہ مردوں کی دنیا کی اس حقیقت سے ناواقف ہے۔ یہاں سے دونوں کے درمیان اختلافات جنم لیتے ہیں اس طرح کہ بیوی اس مسئلہ کو سر پر اٹھا لیتی ہے کہ شوہر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ہے وہ ہمیشہ اس سے غافل رہتا ہے اور یہ کہ اس نے گھر کو ہوٹل بنا ر کھا ہے وہ ایک لا ابالی شخص ہے اور ازدواجی تعلقات کی اسے قدر نہیں ہے جبکہ شوہر کویہ خیال ہوتا ہے کہ بیوی کی بات اس کے گہرے احساسات اور فکروں پر زیادتی ہے ، اسے مرد کی نفسانی پریشانی کا اندازہ نہیں ہے۔ مرد اپنی فطرت کے لحاظ سے یہ پسند کرتا ہے کہ صرف اس مسئلہ پر غور کرے۔ مختلف عاملات میں ایک ساتھ ڈوب جانا وہ پسند نہیں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ بحث اور گفتگو پر آمادہ نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ بہت کم اس پر توجہ دیتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ سنتا تو ہے لیکن اس کی باتوں پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا ہے۔ اس کے برعکس عورت ایک وقت میں ایک سے زیادہ پریشانیوں پر توجہ دینے کی قدرت رکھتی ہے وہ جس لمحہ پڑھتی لکھتی یا کوئی اور کام کرتی ہے اس لمحہ شوہر کی طرف توجہ بھی دے سکی ہے۔ دراصل مرد کی فکر کا اندازہ ایک طرف مرکوز ہوتا ہے جب کہ عورت اپنے انداز فکر میں وسعت اور کھلے انداز کی مالک ہوتی ہے۔
شوہر اور بیوی کو اس نقطہ کوسمجھنا بے حد ضروری ہے تاکہ شوہر اپنے بیوی کوسمجھ سکے اسے قبول کرے، اس کا احترام کرے اور اس کے ساتھ نرمی اور سمجھداری کا معاملہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملکیت اور عورتوں کے معاشی حقوق

اپنا تبصرہ بھیجیں