save occupation kashmiri mothers

تحریک آزادی کشمیر : حقائق اور تقاضے

EjazNews

اسلام کے تحفظ ، آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام جس جرات اور پامردی سے محض اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے بھارتی سامراج کے خلاف برسر پیکار ہیں ، اس سے مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر سردخانے سے نکل کر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر ریاستی عوام کے مطالبہ آزادی کی اس سے قبل اتنی وسیع پذیرائی بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو تحریک چل رہی ہے یہ نظریے اور عقیدے کی تحریک ہے۔ جس تحریک کی پشت پر نظریہ اور عقیدہ ہوتا ہے وہ تحریک ظلم وعدوان سے دبتی نہیں بلکہ برابر شدید تر ہوتی جاتی ہے۔
نظریاتی بیداری:
یہ نظریہ اور عقیدہ کس طرح پیدا ہوا جب کہ اسلام دشمن بھارتی سامراج کا خیال تو یہ تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ جو نسل سامنے آئے گی، وہ بھارتی ثقافت کی چکا چوند کر دینے والی روشنی کے سبب اسلام کے نظریہ حیات اور اقدار سے بے بہرہ ہوگی لیکن سلام ہو مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریک اسلامی کے علمبرداروں کو جنہوں نے بے پناہ مصائب اور مشکلات کے باوجود مدارس، لٹریچر اور مجالس کے ذریعے ریاست میں 1947ءکے بعد پیدا ہونے والی نسل کو سابقہ نسل سے بڑھ کر اسلای تصور حیات کے قریب کیا۔ بھارتی سامراج کے قبضے اور غیر اسلامی ثقافتی یلغار کے باوجود نئی نسل کے یہ مرد وزن نور ایمانی ، جذ بہ قربانی، شوق شہادت اور عزم جہاد سے معمور ہو کر خرمن باطل پر برق تپاں اور ضرب حق بن کر گر رہے ہیں اور بڑی سے بڑی ظالمانہ کارروائی ان کی مومنانہ جدوجہد کے سامنے ہیچ نظر آتی ہے۔
برطانوی سامراج کی خوفناک سازش:
تحریک کے تقاضوں پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو چشم تصور سے اس خطہ جنت نشان کو دیکھنے کی دعوت دوں گا تاکہ آپ کو یہ اندازہ ہو سکے کہ یہ وادی گل رنگ اور خطہ جنت نشان بھی اپنے حسن و آسودگی کے سبب کفر و باطل کا نشانہ بنا اور کبھی اپنی مخصوص اور انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے جبرواستبداد اور سامراجیت کا شکار ہوا۔ غیر اسلامی طاقتوں نے اپنی سازشوں کے پیش نظر اسے تاخت کرنے کی کوششیں کیں۔ ان کوششوں میں خطرناک ترین کوشش تقسیم برصغیر سے قبل روس۔ برطانیہ آویزش کی وجہ سے برطانوی سامراج نے کی، جب اس نے اپنے تخلیق کردہ اور پرداخت کردہ نئے مذہب۔ ”احمدیت“ کویہاں پرورش دینا چاہی۔ مہاراجہ کشمیر لندن میں دیسی ریاستوں کے بارے میں ایک بیان دیتے ہوئے روس سے کشمیر کے جغرافیائی تعلقات کا ذکر کرتا ہے۔ انگریزوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ احمدی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے ذریعے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کراتے ہیں تا کہ انگریزوں کے خود کاشتہ پودے”(احمدیت)“ کے ذریعے ریاست پر قبضہ کیاجائے اور انگریز با آسانی اس ریاست کے ذریعے روس کا مقابلہ کرسکے۔ نیز احمدیت کے ذریعے ریاست پورے عالم اسلام کے لیے ایک مستقل خطرہ اور ناسور بن جائے۔
یہ سازش اللہ کے فضل سے کامیاب نہ ہو سکی البتہ اتنا ضرور ہوا کہ جارحیت کے خلاف ریاست میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جس کا تشخص اور مزاج اسلامی تھا اور جو خالصتاً اسلام کی بالادستی کے لیے کوشاں تھی۔ تحریک آزادی اور جذ بہ اسلام:
1819ءمیں طویل مسلم اقتدار کے خاتمے پر سکھوں نے ریاست جموں و کشمیر پر قبصہ کیا۔ مسلمانان ریاست نے غیر مسلم تسلط کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ظلم و ستم کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ ان کی اس تمام تر جدوجہد میں اسلام ہی وہ منبع تھا جس نے انہیں قوت اور جذبہ دیا۔ میں آج بھی کشمیر کی تحریک آزادی کو اسلام ہی کے حوالے دیکھنا چاہیے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک آزادی کا اسلامی تشخص ریاست کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر ابھارا جائے۔اسے محض ایک تحریک آزادی قرار دینے سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوں گے جو ریاستی مسلمانوں کے پیش نظرہیں ۔
بھارتی سامراج تحریک سے اس لیے زیادہ خائف ہے کہ یہ خالصتاً ایک اسلامی تحریک ہے اور اسلام کے جذ بہ حریت کے تحت ہی کشمیر کے عوام جہاد اور شہادت کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ اگر ہم اس تحریک کے اسلامی رنگ کو فراموش کرنے کی غلطی کر بیٹھے تو یہ کشمیر کی تاریخ ہی کا نہیں بلکہ دنیائے اسلام کی تاریخ کا ایک المیہ ہو گا۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی اسلامیت کا یہ حال ہے کہ وہ لوگ بھی عوام کو اسلامی نعروں کی بناءپر اپیل کرتے ہیں جو سیاسی سیٹ پر اپنے آپ کو اسلام کے بجائے دوسرے نظریات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس امرسے یہ حقیقت واضح ہے کہ بھارت کے خلاف نفرت اور بغاوت کے جذبات کو جو چیز زندہ رکھ سکتی ہے وہ اسلام کا نعرہ اور جذبہ جہاد ہی ہے۔
اسلامی ممالک کو بطور خاص یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ کشمیری عوام کی جائز اور منصفانہ تحریک کی حمایت کر نا بھارت کے مسلمانوں کے مفاد میں بھی ہو گا۔ بھارت دنیائے اسلام کو بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے کشمیر کے بارے میں خاموش رہنے کی تلقین کرتا ہے جو اس کی سامراجی چالوں کا حصہ ہے۔
بھارتی حکومت کی پروپیگنڈمہم:
بھارتی حکومت نے دنیا کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات سے بے خبر رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے تمام نمائندوں کو وہاں سے نکال دیا۔ اس کے ساتھ بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ تحریک بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ بہانہ بھارت نے اس وقت تراشا جب وہ پاکستان کو کشمیر کے واقعات میں ملوث قرار دینے کی بے بنیاد الزام آرائی میں ناکام ہو گیا۔ اسلامی جذبے کے تحت اٹھنے والی تحریک آزادی کا بحالت موجودہ ریاست کے اقتصادی امور سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مقبوضہ ریاست کے وہ لوگ جو اقتصادی طور پر خوشحال ہیں اور محفوظ مستقبل رکھتے ہیں، ہرگزاس تحریک میں شامل نہ ہوتے۔ البتہ مقبوضہ ریاست بھارت کے جابرا نہ قبضے کی وجہ سے اقتصادی مشکلات کا شکار ہے لیکن وہاں جاری تحریک کو محض اندرونی معاملہ بھارت ہی قرار دے سکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کا استعمال ، وقت کی ضرورت ہے:
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ آج کا دور ابلاغ اور پروپیگنڈے کا دور ہے۔ اگر بھارت اپنے جھوٹ اور ڈپلومیسی سے دنیا کو دھوکہ دے سکتا ہے تو ہم حقائق کے بل بوتے پر دنیا کو اس مسئلے کی طرف کیوں متوجہ نہیں کر سکتے۔ اگر چہ علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کی موجودہ تحریک کے بارے میں ہم نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی جرائم کو بے نقاب کرنے اور بھارتی جارحیت کے خلاف وہاں کے برسر پیکار عوام کے کارناموں سے دنیا کو باخبر کرنے کے لیے بڑے پیمانے اور ہر سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مجاہدین کشمیر کو یہ بھی باور کر نا چاہیے کہ ملی مقاصد کے حصول کے لیے چلنے والی تحریکیں طویل بھی ہوسکتی ہیں ،اس لیے حصول مقصد تک تحریک کے تسلسل کو قائم رکھنا اور کارکنوں میں مزاحمت کا زیادہ سے زیادہ حوصلہ پیدا کرنا ضروری ہے جس کے لیے الیکٹرانک میڈیا کردار ادا کر سکتاہے۔ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سطح پر ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پریس کو اسلامی اقدار اور ملی تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے ہم ذہنی، فکری اور روحانی طور پر ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو باطل کے خلاف ہمہ وقت تیار کر سکتے ہیں۔ اس طرح ان کا جذ بہ مزاحمت بڑھتا رہے گا۔
میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ اب مسلمانوں کا مزاج بن چکا ہے۔ وہ طاو¿س و رباب کو چھوڑ کر اب شمشیر وسنان کے خوگر بن رہے ہیں۔ ریڈیو مظفر آباد سے تجرباتی طور پر اردو میں ایک پروگرام شروع کیا گیا تھاجس میں شوخ و شنگ فلمی نغموں اور ہیجان انگیز موسیقی کی جگہ ملی تھے شامل ہوتے ہیں اور زیادہ تر گفتگوحریت ، اسلامی تعلیمات اور تاریخ کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ عام خیال یہ تھا کہ یہ پروگرام سنے والوں میں زیادہ پذیرائی اور قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ پروگرام پاکستان اور جنگ بندی لائن کے دونوں طرف بے حد مقبولیت حاصل کر گیا اور یہ پروگرام اب بڑی توجہ اور چاہت سے سنا جاتا ہے۔
تجرباتی پروگرام کی کامیابی اور عوام کے رجحانات میں واضح مثبت تبدیلی دیکھتے ہوئے دیگر پروگراموں کو بھی اس منچ پر ڈھالا گیا جس سے ان پروگراموں کی مقبولیت میں سوفیصد اضافہ ہوا۔ حالانکہ اس سے پہلے یہ تصور عام تھا کہ پروگراموں کی مقبولیت میں جذبات انگیز موسیقی اور شوخ نغمے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔
دین سے عام مسلمان کی محبت کا تقاضا ہے کہ وہ اسلام کی جانب راغب ہو مگر اس کے لیے شرط اول یہ ہے کہ اس جانب اس کی راہنمائی کی جائے۔ نیز اسلام پیش کرنے والے کی زندگی قول اور عملاً کسی تضاد کا شکار نہ ہو۔ آج جبکہ تحریک آزادی نے ایک نیا انداز اختیار کر لیا ہے یہ زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اپنے پروگراموں اور اپنی تحریروں کو اسلام کے نظریے کے مطابق ڈھالیں۔ مقبوضہ کشمیر کی تمام علاقائی زبانوں میں لٹریچر تیار کرنا ضروری ہے اسی طرح آزاد کشمیر کے ریڈیو سٹیشنوں سے ڈو گری اور لداخی زبانوں میں نشریات کا آغاز کرنا لازمی ہے۔
وادی کا ہندو بڑا شاطر ہے۔ جموں کا ڈوگرہ 1947ءمیں محروم اقتدار ہونے کے بعد مایوس چلا آرہا ہے اور ہر ایسا ہتھکنڈا اختیار کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کے اقتدار کو ممکن بناتا ہو۔ اس طبقے کے پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ لداخ کے بودھ طبعاً امن پسند ہیں۔ بھارت نے ایک خاص منصوبے کے تحت انہیں اسلام کے تصور آزادی سے خوف زدہ کر رکھا ہے تا کہ وہ بھارتی سامراج کے خلاف مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ لداخی زبان میں نظریات اور لٹریچر ہی یہ پروپیگنڈہ زائل کر سکتا ہے۔ لداخ کی بودھ آبادی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام ہی انسانی آزادی کا یہ تصور پیش کرتاہے جس میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا پورا پورا تحفظ کیا جا تا ہے۔
بھارتی سامراج کی کوشش ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی غیر مسلم آبادی کو مسلم اکثریت سے لڑادیا جائے۔ ایک طرف وادی کے ہندو اور پنڈت خاندانوں کے افراد کو ریاست سے بھاگنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور جموں کی ڈوگرہ آبادی کو تحریک آزادی سے خوف زدہ کیا جارہا ہے تا کہ وہ مسلمانوں سے خوف زدہ ہو کر اٹھ کھڑی ہو۔ اس کے ساتھ غیر مسلم نوجوانوں کو تخریب کاری، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی تربیت دیکر مسلم نوجوانوں کے بالمقابل کھڑا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مسلم اکثریت کو کمزور کرنے کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائے۔
بھارت کے ایسے خفیہ خطر ناک منصوبوں کو طشت از بام کرنے کی ضرورت ہے جو ذرائع ابلاغ کے بھر پور اور موثر استعمال سے ممکن ہے۔
مسعود کشفی

یہ بھی پڑھیں:  خواجہ سرا بھی انسان ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں