dowland trap

امریکہ کے چار سینیٹرز کا کشمیر کی صورتحال پر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط

EjazNews

ریپبلکن سینیٹر لنڈزے گراہم اور ٹاڈ ینگ کے علاوہ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولر اور بین کورڈین نے کشمیر میں انسانی حقوق سے جڑے حالات کے سلسلے میں امریکی صدر کو خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔چار امریکی سینٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھا ہے کہ وہ انڈیا پر دباو¿ ڈالیں کہ کشمیر میں مواصلاتی سروسز کو بحال کیا جائے جبکہ حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔
ان سینیٹرز نے اپنے خط میں کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیر کے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس لیے انڈین وزیر اعظم مودی سے مواصلاتی نظام کی بحالی، کرفیو ہٹانے اور حراست میں لیے گئے کشمیریوں کو رہا کرنے کی درخواست کی جائے۔
امریکی سینیٹرز کے لکھے گئے خط پرڈونلڈ ٹرمپ کیا کریں گے اس کا ابھی تک کوئی اشارہ نہیں مل پایا ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کشمیر سے متعلق ثالثی کا کردار ادا کرنے کا وہ پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں۔
کشمیر میں ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے وہاں مسلسل کرفیو ہے لوگوں کو نماز اور مذہبی رسومات کی ادائیگی تک سے روکا گیا ہے۔ میڈیا پر مکمل شٹر ڈاﺅن ہے۔ اس گلوبل ویلج میں دنیا میں جنت کہلائے جانے والے کشمیر میں کیا ہو رہا ہے سب ناواقف ہیں۔مہذب دنیا میں اگر کسی کا اندرونی معاملہ بھی ہو تو کیا لوگوں کو ایک ماہ سے زیادہ کرفیو میں رکھا جاسکتا ہے کیا اس دنیا سے انسانیت اٹھ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دوسروں کے کام پر اپنا نام لکھنے والے ذہنی غلام

اپنا تبصرہ بھیجیں