maqboza kashmir

محرم الحرام میں قابض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں عزاداروں پر ظلم کی انتہا کردی

EjazNews

5 اگست 2019ء کو انڈین حکومت نے اپنے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ کر لیا تھا جو تاحال جاری ہے۔مسلمانان مقبوضہ کشمیر کو عید پر بھی اسی محاصرہ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے لیے عید کی نماز پڑھنا بھی منع تھیں۔ زبردستی مسلمانان کشمیر باہر نکلے جس کے بعد ان کو گولیوں اور بندوقو ں کا سامنا کرنا پڑا۔
اب اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں مسلمانان کشمیر پر محرم میں بھی زندگی تنگ ہو گئی ہے۔ ان کے لیے محرم کے مہینے میں مجالس اور جلوس نکالنے پر پابندی ہے اور اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے لاٹھیاں اور گولیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مواصلات پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے اور ایک مہینے سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ خطہ محاصرے میں ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود عزداروں نے گرفتاریاں دیں

نویں محرم کو پولیس نے صبح سویرے سے شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانات کرنا شروع کردئیے تھے جس میں شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔اہل تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد دنیا بھر میں محرم کے مہینے میں مجالس کرتے اور جلوس نکالتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جہاں پہلے 5اہلکار تعینات تھے اب وہاں پر 10اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
وادی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق شیعہ مظاہرین کو پولیس فوری طور پر گرفتار کر کے لے گئی ،اس کے علاوہ عزاداروں کو مارا گیا ۔

تم ظلم کی انتہا کر لو۔ جب جب ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتاہے
یہ بھی پڑھیں:  یونان میں پناہ کے قوانین مزید سخت

اپنا تبصرہ بھیجیں