marriage-Rasumat

رسومات و بدعات نکاح

EjazNews

نکاح کی دینی و دنیوی بڑی اہمیت ہے۔ نکاح کرنے سے دین و دنیا کی درستگی ہوتی ہے اور ہزاروں برائیوں سے نجات مل جاتی ہے، ایمان قائم رہتا ہے۔ خدا اوررسول کی خوشنوی حاصل ہوتی ہے یہ سب باتیں شریعت کے مطابق نکاح کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ نکاح میں شرعی حیثیت سے جن جن باتوں کی ضرورت پڑتی ہے ان کا بیان قدرے آچکا ہے ہر مسلمان کو ان ہی مذکورہ باتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ لیکن بعض نکاح میں بہت سی غیر شرعی باتوں کے کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان میں بعض شرک و کفر کی ہوتی ہیں اور بعض فسق و فجور اور حرام کی ہوتی ہیں اور بعض مرتبہ سودی روپیہ پیسہ لے کر اس رسم و رواج کو ادا کرتے ہیں۔ سود لینا سخت گناہ ہے اور اس کے علاوہ اس سودی روپے کی بدولت ساری جائیداد تباہ ہو جاتی ہے ۔ ساری زندگی بوجھ تلے دبے رہتے ہیں ہم چند ناجائز رسموں کو ذیل میں بیان کرتے ہیں۔
منگنی کی بدعت:
بعض جگہ جب کسی کے یہاں منگنی ہوتی ہے تو نائی خط لے کر آتا ہے اور اس کے سامنے شکرانہ رکھا جاتا ہے اور اس کو ضروری سمجھا جاتا ہے حالانکہ شریعت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح کیا اور اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کیا لیکن نہ کبھی شکرانہ کھلایا اور نہ روپیہ پیسہ دیا۔ بعض جگہ جب لڑکی کا باپ کچھ نقد روپیہ لڑکے کو دیتا ہے اوروہ اس کو قبول کرلیتا ہے۔ تب منگنی کی بات چیت پکی سمجھتی جاتی ہے۔ یہ ہندوانہ رسم ہے اس سے بچنا ضروری ہے صرف زبانی بات چیت کافی ہے۔ حضرت فاطمہ ؓ کے نکاح کے وقت حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی درخواست کی تھی آپ خاموش ہو گئے ،بعد میں حضرت علیؓ خود ہی شرماتے ہوئے حاضر ہوئے ،آپ کی عظمت اورشان کی وجہ سے کلام کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ آپ نے خود ہی دریافت فرمایا ’’لعلک جئت تخطب فاطمۃ ‘‘ شاید تم فاطمہؓ سے منگنی چاہتے ہو۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ’’نعم‘‘ ہاں ! آپ ؐ نے ان کی درخواست منظور فرمالی ۔اس وقت حضرت فاطمہ ؓ عمر شریف ساڑھے پندرہ سال کی تھی۔ اور حضرت علیؓ اکیس برس کے ۔آپ ؐنے حضرت انسؓ سے فرمایا کہ تم جا کر ابوبکر، عمر ، عثمان، طلحہ، زبیر اور دیگر انصار کی ایک جماعت کوبلا لائو۔ جب یہ لوگ آگئے آپ ؐ نے سب کے سامنے ایک بلیغ خطہ دیا
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ ؓ کا نکاح علی بن ابی طالب سے کردوں۔ لہٰذا تم سب گواہ رہو میں نے فاطمہ ؓ کا نکاح علیؓ سے چار سو مثقال چاندی پر کر دیا ہے۔ اگر علیؓ اس سے راضی ہوں۔‘‘
حضرت علی ؓ نے فرمایا ’’قد رضیت یا رسول اللہ‘‘ یا رسول اللہ میں راضی ہوں۔ پھر آپؐ نے کھجوروں کا ایک طبق منگوا کر حاضرین میں تقسیم کا حکم دیا۔ اس کے بعد آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو حضرت ام ایمن ؓکے ہمراہ حضرت علیؓ کے گھر رخصت کر دیا اور جہیز میں ایک چادر، ایک مشک اور ایک چمڑے کا تکیہ عنافت فرمایا۔ (ابو حاتم احمد)
پھر آپ ؐ حضرت علی ؓ کے گھر تشریف لائے۔ حضرت فاطمہؓ سے فرمایا تم پانی لائو وہ لکڑی کے پیالہ میں پانی لائیں آپ ؐ نے اس میں کلی کر دی اور حضرت فاطمہؓ سے فرمایا تم ادھر منہ کرو آپؐ نے اس پانی کو تبر کاً ان کے سینے اور سر پر تھوڑا سا چھڑک دیا اور پھر یہ دعا فرمائی۔
ترجمہ:’’ الٰہی تو فاطمہ اور اس کی اولاد کو شیطان کے شر اور فساد سے بچائیو۔‘‘
پھر فرمایا: ادھر پیٹھ کرو۔ پھر آپ ؐنے اس پانی کو ان کے شانے کے درمیان چھڑک کر وہی دعا فرمائی۔ پھر حضر ت علی ؓ سے پانی منگوایا اور یہی کام ان کے ساتھ بھی کر کے فرمایا:
’’ادخل باھلک بسم اللہ والبرکۃ ‘‘ (ابو حاتم ، احمد) بسم اللہ کی برکت کے ساتھ اپنے اہل کے پاس جائو۔
حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علیؓ کی منگنی اور نکاح میں غور کرو اورسوچو کہ حضرت علیؓ نے خود ہی منگنی کا پیغام دیا۔ نائی اور دوسروں کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ صرف زبانی پیغام کافی سمجھا گیا اور نکاح کے وقت نہ گھوڑا تھا اور نہ کوئی سواری آئی جیسا کہ اس زمانے میں رواج ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اپنی لڑکی کا نکاح پڑھایا۔ اس زمانے میں بعض نادان لڑکی کے نکاح کےوقت خود شرم کی وجہ سے چھپے چھپے پھرتے ہیں ،سامنے نہیں آتے یہ ایک جہالت اور حماقت ہے اور رخصتی کے وقت نہ کوئی راگ باجا ہے نہ کوئی دھوم دھمام ہے، نہایت خاموشی سے حضرت ام ایمنؓ کے ہمراہ رخصت فرما دیا اور آپؐ خود بھی تشریف لائے اورلڑکی سے پانی منگوا کر وہ کام کیا جس کا بیان اوپر آگیا۔
شادی کی بعض بری رسمیں:
جس لڑکی کی شادی کی تاریخ مقرر ہو جاتی ہے تو نکا ح کی تاریخ سے دو چار دن پہلے لڑکی والے کے گھر برادری کی عورتیں جمع ہو جاتی ہیں اور منگنی شدہ لڑکی کو گھر کے ایک گوشے میں تخت و چوکی پر بٹھاتی ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں بٹنا رکھتی ہیں اور گود میں کچھ مٹھائی اوربتاشے اور کِھیل وغیرہ بھر دیتی ہیں اور گاتی بجاتی ہیں۔ پھر یہ مٹھائی تقسیم کر دیتی ہیں اور لڑکی کے بدن میں بنٹا ملتی ہیں دو چار روز اس لڑکی کوگوشتہ تنہا ئی میں رکھا جاتا ہے اور پھر بنٹا ملا جاتا ہے اس حرکت کو مائیوں کہتی ہیں۔ شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حضرت فاطمہؓ ،عائشہ ؓ کو نہ مائیوں میں بٹھایا گیا اور نہ بٹنا ملا گیا اور نہ آپ نے اس کا حکم دیا لہٰذا یہ رسم ناجائز اورگنا ہ ہے ۔ لڑکی کی گود میں کھیل مٹھائیوں کا رکھنا ایک شگون ہے جو شرک ہے اور گانا بجانا حرام ہے ۔ جس کی برائی آگے بیان ہوگی۔
کنگنا کسے کہتے ہیں اور اس کا کرنا کیسا ہے؟:
سرسوں اور اسپنددانہ، ہلدی اور لوہے کی انگوٹھی ایک کپڑے میں باندھ کر اس کڑے کو دولہا دلہن کے ہاتھ میں باندھ دیتے ہیںا س کو کنگنا کہتے ہیں۔ اس رسم کا ثبوت شریعت میں نہیں ہے۔
صاحب مظاہر حق فرماتے ہیں کہ یہ کفر صریح ہے اور اس کا کرنے والا اور اس سے راضی ہونے والا کافر ہے۔ (مظاہر حق )
بعض جگہ دولہا مرد کے ہاتھ پائوں میں شادی کے موقع پر مہندی لگاتے ہیں تو مردوں کو مہندی لگانا درست ہے یا نہیں؟:
ایسے موقع پر مرد کو مہندی لگانا حرام ہے۔ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور عورتوں کے ساتھ مشابہت بہت حرام ہے۔ نصاب الاحتساب میں ہے۔
ترجمہ: ’’یعنی مردوں کے ہاتھ پیر میں مہندی لگانا درست نہیں ہے۔‘‘ (الخ)
اور فتاوی حمادیہ اور کنز العباد اور اشبا و نظائر میں مردوں کو مہندی لگانا مکروہ لکھا ہے اور عورتوں کے لئے اس کا استعمال سنت ہے۔
بعض جگہ دولہا کو بغیر غسل کی ضرورت کے غسل دلانے کو ضروری سمجھتے ہیں اور غسل کے بعد اس کو ریشمی جوڑے پہناتے ہیں ، میں تو ایسا کرناجائز ہے یا نہیں؟
یہ غسل شرعی غسل میں داخل نہیں ہے اور اسلاف سے شادی کے وقت غسل کرنا ثابت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد نکاح کئے لیکن کسی نکاح کے وقت ایسا غسل کرنا منقول نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو شرعی غسل سمجھ کر کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر صفائی ستھرائی کے لئے کیا جاتا ہے تو جائز ہے لیکن جس جواز کو لوگ واجب العمل سمجھتے ہیں اس کا کرنا جائز نہیں ہے۔
مردوں کو ریشم پہننا حرام ہے خواہ شادی کے وقت ہو یا غیر شادی کے وقت۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لئے حلال کیا گیا اور مردوں کے لئے حرام کیا گیا ہے۔‘‘(نسائی)
دولہا اور دلہن کو شا دی کا جوڑا پہناتے وقت برادری کے لوگ اپنی اپنی حیثیت کے موافق نائی کو کچھ انعام دیتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
یہ رسم و رواج ہے شرعی دلیل نہیں ہے ۔اس لئے اس کی پابندی جائز نہیں ،البتہ اس کے کام کی جو مزدوری ہوتی ہے سو وہ مزدوری کرانے والا ادا کرے۔
دولہا دولہن کو سہرا باندھ نا کیسا ہے؟:
ناجائز ہے کیونکہ کافروں ، مشرکوں، مجوسیوں کے یہاں کا دستور ہے اور ان کی مشابہت کرنی حرام ہے۔ مسائل اربعین میں ہے کہ پھولوں کا سہرا باندھنا کافروں کی مشابہت کی وجہ سے جائز نہیں بلکہ پھولوں کا ہار نوشہ اور دولہا کے سر پر رکھنا نکاح کے وقت یا اس کے بعد بدعت ہے اور مجوسیوں کی مشابہت ہے اور کافروں اور مجوسیوں کی مشابہت سے بچنا ضرور ہے۔ مرأۃ الصفا میں بھی اسی طرح ہے۔
شادی کے موقع پر بارات لے جانا اور خوشی کے بعد کھانا کھلانا کیسا ہے؟:
مروجہ بارا ت کے لے جانے کا شرعاً ثبوت نہیں۔ دولہا اور دوگواہ اور قاضی وکیل وغیرہ کا ہونا کافی ہے۔ تمام برادری اور غیر برادری کولازمی طور پر جمع کر کے لے جانا اور یہ خیال کرنا کہ بغیر بارات لے جائے۔ نکاح ہی نہیں ہوگا ناجائز ہے۔
نیوتہ لینا دینا کیسا ہے؟:
مروجہ نیوتے کا ثبوت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔صلہ رحمی کے طورپر کچھ لینے دینے میں کوئی حرج نہیں اور قرض لے کر اس کو ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
بارات کے ساتھ بری لے جانا اور سب کو دکھا کر واپس لانا کیسا ہے؟:
بری لے جانا جس میں شاہانہ جوڑا، انگوٹھی، رومال ، عطر، تیل، سرمہ دانی، کنگھی وغیرہ وغیرہ کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اور ریا، نمود اور فخر کے لئے یہ کرنا حرام ہے۔
بارات کے ساتھ ناچ باجہ لے جانا اور ناچ باجہ کرانا کیسا ہے؟:
شادی اور غیر شادی ہر موقع پر ناچ باجہ کرانا حرام اورگناہ کبیرہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے
ترجمہ: ’’ اور بعض لوگ کھیل تماشے کی چیزوں کو خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کر دیں۔ ‘‘ (لقمان)
اسی گانے کو لہو الحدیث ، رقیہ الزنا، قرآن الشیطان ، منبت النفاق اور مزمارالشیطان صوت الفاجر، صوت الاحمق کہا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر صحابہ کرام کے نزدیک اس لہو سے گانا ہی مراد ہے۔ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’گانا دل میں نفاق کو اس طرح اُگاتا ہے جس طرح پانی کھیت کو اُگاتا ہے۔‘‘(بیہقی)
ایک موقوف حدیث میں ہے کہ جب ابلیس راندۂ درگاہ باری ہو کر زمین پر پھینک دیا گیا تو اس نے کہا میرا عمل جادو ہے۔ میرا قرآن شعر اور غزل اور گانا ہے۔ میری کتاب جسموں کو گودنا ہے ۔ میرا کھانا مردار ہے اور وہ جانور جو نام خدا پر ذبح نہ کیا جائے۔ میرا پانی نشہ آور چیزیں ہیں۔ میرا مکان بازار میں ہے۔ میری آواز گاجے باجے ہیں۔ یہ روایت الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ طبرانی میں مرفوعاً بھی مروی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے کہا کہ میرا مؤذن کون ہے ؟ فرمایا گیا: باجے گاجے ۔اس نے کہا: الٰہی میرا قرآن کیا ہے؟۔کہا:شعر اشعار ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے شراب کو جوئے کو باجو ں کو پانسو اور طبلوں کو اور گانے کو حرام کیا ہے۔ (احمد)
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے سارے جہان کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمام باجوں اور گاجوں اور کھیل وکود اور جاہلیت کے بتوں کو جوپہلے پوجے جاتے تھے مٹادوں۔‘‘ (احمد)
منحوس باجے کی آواز سے آپ کان کو بند کرلیتے تھے۔ نافع روایت کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ نے کسی چرواہے کی بانسری کی آواز سنی، جلدی سے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنی سواری کو راستے سے موڑکر دوسری طرف کرلیا۔ آپ چلے جاتے اور مجھ سے دریافت کرتے جاتے کہ باجے کی آواز آتی ہے۔ میں جواب دیتا ابھی آتی ہے۔ آپ چلتے جاتے جب بہت دور نکل گئے کہ باجے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی تب میں نے کہا اس کی آواز نہیں آتی ہے اس وقت آ پ نے ہاتھوں کو کانوں سے جدا کیا اور سواری کو راستے کی طرف لوٹایا اور فرمایا میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تھی تو آپ ؐنے اسی طرح کیا تھا جیسا کہ میں نے کیا ہے۔ (تلبیس ابلیس)
اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جن سے گانے بجانے کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ ناچنا اور ناچ دیکھنا قطعاً حرام ہے کیونکہ اجنبی عورت کو دیکھنا اس سے ہنسی مذاق کرنا زنا کے حکم میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آنکھ کا زنا نامحرم کو دیکھنا ہے اور ہاتھ کا زنا نا محرم کو پکڑنا ہے اور پیر کا زنا نامحرم کی طرف چلنا ہے اور شرمگاہ اس کی صدیق و تکذیب کرتی ہے۔‘‘
اور فرمایا آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا نا محرم کو دیکھنا ہے اورزنا ہاتھ کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑدھکڑ ہے او ر پائوں زنا کرتے ہیں ان کا زنا اس راستے پر چلنا ہے اور زبان کا زنا بات چیت ہے ۔دل کا زنا خواشہ ہے اور شرمگاہ ان سب کی تصدیق و تکذیب کرتی ہے ۔ (ابودائود، مسلم)
ناچ دیکھنے میں ان سب کا زنا ہوتا ہے۔ رنڈیوں سے باتیں کرتے اور ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ یہ زبان کا زنا ہے ان کی طرف دیکھتے اور نظر بازی کرتے ہیں یہ آنکھ کا زنا ہے۔ ان کا گانا سنتے ہیں اوران کے دیکھنے کو دل چاہتا ہے یہ دل کا زنا ہے۔ بعض ان کو پکڑ بھی لیتے ہیں یہ ہاتھ کا زنا ہے اوربعض ان رنڈیوں سے حقیقۃ ً زنا بھی کرتے ہیں ان سب پر خدا کی لعنت پڑتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ اس پر خدا کی لعنت جو کسی اجنبی عورت کو دیکھے اور اس عورت پر بھی خدا کی لعنت جو اپنے آپ کو دکھانے کے لئے لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ‘‘ (مشکوۃ)
اورناچ کرانے والا تو سب سے زیادہ مجرم ہے۔ جتنا گناہ سب ناچ دیکھنے والوں کوہواگااتنا گناہ اس ایک اکیلے کو ہوگا کیونکہ وہ اس کا سبب بنا ہے ۔اللہ تعالیٰ سب کو نیک ہدایت دے ۔ (آمین)۔
شادی میں آتشبازی کا چھوڑنا کیسا ہے؟۔
شادی اور غیر شادی ہر موقع پر آتشبازی کا چھوڑنا حرام ہے کیونکہ یہ فضول خرچی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘ (بنی اسرائیل)
نکاح کے بعد قاضی یعنی نکاح پڑھانے والے کو کچھ رقم دینا کیسا ہے؟:
قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت نہیںملتا ہے رسم و رواج کے طورپر لینا دینا جائز نہیں۔
خزانۃ الروایۃ میں مرقوم ہے:
’’بعض قاضیوں نے دارالاسلام میں صریح ظلم ایجاد کر رکھا ہےکہ وہ نکاحوں میں کچھ لے کر میاں بیوی کے ولیوں کو اجازت دیتے ہیں ان دونوں کی طرف سے جب تک رقم وغیرہ پر راضی نہیں ہوجاتے تو اس کی اجازت ہی نہیں دیتے ہیں، یہ قاضی اور مناکح دونوں کے لئے حرام ہے۔‘‘
بغیر رسم و رواج کے دیۃ و تحفقہً دینے لینے میں کوئی حرج نہیں
نکاح کے بعد چھواروں کا تقسیم کرنا یا دودھ شربت کا پلانا کیسا ہے؟
چھواروں کے تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ بعض ضعیف روایتوں میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ (نیل الاوطار)
لیکن دودھ و شربت کے پلانے کا ثبوت نہیں ملتا۔ پیاس کے وقت بغیررسم و رواج کی پابندی کے پینے پلانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور رسم و رواج کے طور پر اور نکاح کے لوازمات میں سمجھنا بدعت ہے۔
نکاح کے بعد دولہا میاں کو دلہن کے گھر میں بلایا جاتا ہے اور وہ اجنبی اور نا محرم عورتوں کو دیکھتا ہے اور یہ عورتیں بھی بے پردہ اس کے سامنے ہو کر دیکھتی ہیں تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟
اجنبی مرد کا عورت اجنبیہ کو دیکھنا اور اجنبی عورتوں کا اجنبی مردوں کو دیکھنا حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ مسلمانو ں سے فرما دیجئے کہ اجنبی عورتووں کے دیکھنے سے اپنی نگاہ نیچی رکھیں۔ (النور)
اور عورتوں کے متعلق بھی فرمایا:
’’مومنہ عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔‘‘ (النور)
بعض جگہ نکاح کے بعد دولہا میاں کھانے کے لئے بیٹھتے ہیں تو بتکلف روٹھ جاتے ہیں اور جب تک خاطر خواہ ا نعام نہیں دیا جاتا کھانے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب بخشش مل جاتی ہے تب کھانا شروع کرتے ہیں تو ایسا کرنا کیسا ہے؟:
یہ ایک رسم ورواج ہے ۔شرعاً ایسا کرنے کا ثبوت نہیں ملتا ہےیہ حماقت و جہالت ہے ۔کھانا بھی کھلائو اور انعام بھی دو۔ یہ کون سی عقل کی بات ہے۔ مثل مشہور ہے کھانے کا کھانا کھائیں اور اوپر سے دانت گھسائی طلب کریں۔ ایسی رسموں کا مٹانا ضروری ہے۔
بعض بعض جگہ دھوبی نائی وغیرہ کو زبردستی انعام دیا جاتا ہے؟
ان کی مزدوری دینی فرض ہے اور مزدوری کے علاوہ زبردستی انعام دینا دلانا ً ناجائز ہے۔
لڑکی کی رخصتی کے وقت لڑکی کے خویش و اقارب اور ملنے جلنے والے روتے ہیں تو اس خوشی کے وقت رونا کیسا ہے؟۔
جدائی کے صدمہ کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو نکل آتےہیں ۔بلا آواز کے رونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چیخ چلا کر رسم و رواج کے طور پر رونا پیٹنا منع ہے۔
لڑکی کی رخصتی کے وقت بعض جگہ دستور ہے کہ دولہا کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ دلہن کو گود میں لے کر ڈولے و سوار ی وغیرہ میں سوار کرے اور یہ سب لوگوں کے سامنے ہوتا ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
اگر وہ خود سوار ہونے کے قابل ہے تو خود بخود سوا ہو جائے گود میں لے کر سب لوگوں کے سامنے سوار کرنا نہایت بے شرمی کی بات ہے اور اگر دلہن بھاری بدن کی ہو تو میاں اٹھا نہیں سکیں گے اس سے ان کی ہنسی ہوگی۔ اسی طرح سواری سے اتارتے وقت گود میں لے کر اتارنا بھی بے حیائی اور جہالت ہے۔
منہ دکھائی کی رسم ادا کرنا کیسا ہے؟
اجنبی مردوں کے سامنے دلہن کا منہ کھول کر دکھانا حرام ہے۔ عورتوں کے سامنے جائز ہے، لیکن اس موقع پر منہ دکھائی دینا جائز نہیں کیونکہ شرعاً اس کا ثبوت نہیں اور رواج کی پابندی بدعت ہے۔
چوتھی کرنا اور چوتھی کھیلنا کیسا ہے ؟۔
یہ بھی ایک رسم و رواج ہے اور بے غیرتی و بے حیائی ہے ۔اس سے بچنا ضروری ہے اور آرسی مصحب بھی ناجائز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں نکاح کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں