new marriage

نکاح کی ترکیب

EjazNews

نکاح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟:
ولی اور دو گواہوں اور دیگر ضروری رکنوں اور شرطوں کے پائے جانے کے بعد سب لوگوں کے سامنے ایجاب و قبول ہو۔ یہ ایجاب و قبول نکاح کے رکنوں میں سے ایک رکن ہے، جو پہلے کہے وہ ایجاب کہلاتا ہے اور اس کے جواب میں جو دوسرا لفظ بولے اسے قبول کہتے ہیں۔ جیسے متعا قدین میں سے ایک کہے کہ میں نے اپنے کو تیری زوجیت میں دے دیا، تو یہ ایجاب ہے اور دوسرا اس کا یہ جواب دے کہ میں نے اپنی زوجیت میں تجھےقبول کیا، تو یہ قبول ہے ایجاب مرد کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور عورت کی طرف سے بھی۔ اسی طرح قبول مرد کی طرف سےبھی ہو سکتا ہے اورعورت کی طرف سے بھی۔
اگر بالغہ عاقلہ عورت کہے کہ میں نے اپنے آپ کوتیری زوجیت میں دے دیا ہے تو یہ ایجاب ہے عورت کی طرف سے اور مرد نے کہا کہ میں نے اپنی زوجیت میں تجھے قبول کر لیا ہے تو یہ قبول ہے مرد کی طرف سے۔ اور اگر کوئی باپ اپنی نابالغہ صغیرہ بچی کے لئے ایجاب کرے تو وہ یوں کہے میں نے اپنی بیٹی کو تیری زوجیت میں دے دیا اور اگر نکاح کرنے والی کا کوئی وکیل ہے تو وکیل یوں کہے کہ میں نے اپنی موکلہ کو تیری زوجیت میں دے دیا ہے۔ قبول کرنے والا اگر خود ہی اپنا نکاح کر رہا ہے تو یوں کہے کہ میں نے تجھے یا اسے اپنی زوجیت میں قبول کر لیا ہے اور اس ایجاب و قبول کے ساتھ ساتھ مہر کا ذکر بھی آجانا چاہئے۔ جیسے ایجاب کرانے والا ۔ مثلاً باپ یوں کہے کہ میں نے اپنی لڑکی آمنہ کو پانچ سو مروجہ روپے کے بدلے میں تیری زوجیت میں دے دیا ہے اور دوسرا کہے میں نے اس پانچ سو مروجہ روپے کے عوض میں اپنی زوجیت میں قبول کر لیا ہے اور مجلس عقد نکاح میں یہ ایجاب و قبول کم سے کم دو ایسے گواہوں کے سامنے ہونا ضروری ہے جو ایجاب و قبول کو اپنے کانوں سے سنیں تاکہ وہ ضرورت کے وقت گواہی دے سکیں اور ایجاب و قبول صریح لفظوں سے ہونا چاہئے اشارہ کنایہ سے ٹھیک نہیں ہے۔
پس نکاح کا یہ طریقہ ہے کہ سب کے سامنے مجلس عقد میں پہلے مسنونہ مندرجہ ذیل خطبہ پڑھے اس کے بعد جس کا نکاح کرنا ہے اس کو سامنے بٹھا کر اس سے مخاطب ہو کر یوں کہے کہ میں نے فلاں عورت فلاں کی بیٹی کو تیری زوجیت میں اتنے مہر کے عوض دے دیا۔ تم نےقبول کیا، دولھا جواب دے میں نے اتنے مہر میں اپنی زوجیت میں قبول کرلیا ہے۔ اس کے بعد مسنونہ دُعائیں پڑھیں جن کا بیان آگے آرہا ہے۔
خطبہ نکاح
نکاح کے وقت ایجاب و قبول سے پہلے اس خطبہ کو مع آیات قرآنی پڑھو خطبہ یہ ہے۔
ترجمہ: اللہ کے نا م سے شروع کرتا ہوں میں جو بہت ہی مہربان رحم کرنے والا ہے۔ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش چاہتے ہیں اور اسی پربھروسہ کرتے ہیں۔اور اسی کی پناہ چاہتے ہیں اپنے نفسوں کی برائی سے اور اپنے برے کاموں سے جس کو اللہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ۔ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صرف اللہ (اکیلا) عبادت کے لائق ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ کو حق کے ساتھ خوشبخری دینے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے اس کے بعد تحقیق بہتر کلام اللہ کی کتاب ہے اور تمام طریقوں سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور تمام کاموں سے برا دین میں نیا کام ہے اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہر ایک گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی تو اس نے پانی ذات کو نقصان پہنچایا۔
اللہ کی پناہ چاہتا ہوں مردود شیطان سے ۔ شروع کرتاہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا وہے۔ اے لوگو ڈرو اپنے پروردگار سے، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اوران سے پھیلا دئیے بہت سے مرد اور عورتیں اور ڈرتے رہو اس اللہ سے جس سے تم مانگتے ہو ، اور رشتہ داروں کا خیال رکھو بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری دیکھ بھال کرنے والا ہے۔
اے ایمان والو! ڈرنے کی طرح ڈرو اللہ سے اور مسلمان ہو ہی کر مرو۔
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ اللہ تمہارے کاموں کو سنوار دے گا اورت مہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو اللہ اورا س کے رسول کی اطاعت کرے گا تو اسے بہت بڑی کامیابی حاصل ہوگی۔( احمد ، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا پس وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے اور بھی فرمایا محبت کرنے والی زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو کیونکہ تمہاری وجہ سے میں اور امتوں پر فخر کروں گا۔ “(ابوداﺅد)
اس خطبے کے بعد ایجاب و قبول کرنے کرانے سے نکاح ہو جاتا ہے۔
دولہا دلہن کو دُعا
نکاح ہو جانے کے بعد دولہا دلہن دونوں کویہ دعا دینی چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے موقع پر یہ دُعا دیتے تھے۔
ترجمہ: ” اللہ تعالیٰ تیرے اس کام میں برکت دے اورتیرے واسطے برکت دے اور تجھ پربرکت نازل کرے اورتم دونوں میاں بیوی کے درمیان بھلائی میں اتفاق پیدا کرے۔“ (ابوداﺅد)
نکاح کے بعد چھواروں کا لٹوانا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، البتہ تقسیم کرنا بعض روایتوں سے ثابت ہے ، جیسا کہ حضرت فاطمہ ؓ کے نکاح کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ (واللہ اعلم)
تنبیہ: نکاح کے خطبہ کی آیتوں میں میاں بیوی کے حقو ق اور حُسن معاشرت اور اصلاح اعمال و تقوی اور خشیت الٰہی اور اللہ و رسول کی اطاعت اور صلہ رحمی اسلام پر خاتمہ اورنجات اخروی کی طرف جو اشارہ کیا گیا ہے وہ اس موقع پر اگر بیان کر دیا جائے تو خطبہ کا مقصد حل ہو جائے گا۔ خطیب صاحب اس طرف توجہ فرمائیں۔
رُخصتی
دولہن کی رخصتی کے وقت کیا کرنا چاہئے؟:
دولہن کو اچھی طرح بنا سجا سنوار کر کے خاوند کے گھر رخصت کردینا چاہئے۔ حضرت عائشہ ؓ اپنی رخصتی کا واقعہ یوں بیان فرماتی ہیں۔
ترجمہ: جب میری عمر چھ برس کی تھی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ نکاح کیا اور میری رخصتی نو برس کی عمر میں ہوئی۔ (فرماتی ہیں) میں ہجرت کر کے مدینہ آئی ایک مہینے تک بخار آنے کی وجہ سے سر کے بال ٹوٹ ٹوٹ کر چھوٹے چھوٹے کانوں کی لو تک ہو گئے تھے میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی کہ میری ماں ام رومان نے مجھے آواز دی میں حاضر ہوئی مجھ کو خبر نہیں کہ میرے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہیں مجھے دروازے پر کھڑا کردیا۔ میں ہانپ رہی تھی جب میرا ہ انپنا ٹھہر گیا تو مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ اس میں انصاری عورتیں تھیں مجھے دیکھ کر دعائیں دینے لگیں۔ خیرو برکت اور اچھے نصیبے پر آئیں۔ میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے حوالے کر دیا۔ ان عورتوں نے میرے سر کو دھویا اور مجھے ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ اتنے میں اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت تشریف لائے میں ڈر گئی۔ ان عورتوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر کر دیا۔“ (مسلم)
یہ حضرت عائشہ ام المومنینؓ کی رخصتی کا حال ہے، نہ تکلف ہے، نہ بارات ہے، نہ ڈولا ہے، اور نہ گھوڑا ہے اور نہ وہ تکلفات ہیں جن کا اس زمانے میں رواج ہے۔
جہیز
جہیز کسے کہتے ہیں؟:
جہیز کے معنی سامان تیار کرنے کے ہیں۔ یہاں دہلن کی رخصتی کے وقت جو سامان تیار کر کے اس کو دیا جاتا ہے اس کو جہیز کہتے ہیں۔ دلہن کے والدین اپنی حیثیت کے مطابق جو مناسب سمجھیں لڑکی کی رخصتی کے وقت دے دیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ؓ کی رخصتی کے وقت میں ایک چادر، ایک مشک اور ایک تکیہ دیا تھا۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کے جہیز میں یہ چیزیں عنایت فرمائیں تھیں ایک چادر حاشیہ داراور ایک مشک اور ایک چمڑے کا تکیہ جس کا بھراﺅ اذخر گھاس کا تھا۔“(النسائی)
اور ایک پلنگ ، دو نہالچہ اور ایک پانی کا گھڑا اور ایک چکی اور چاندی کے دوبازو بند کا دینا بھی بعض روایتوں میں آیا ہے اور ریا نمود کے لئے جہیز دینا جائز نہیں۔
ولیمہ
ولیمہ کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکا م ہیں؟:
ولیمہ التیام سے مشتق ہے جس کے معنی اجتماع اور جمع ہونے اور ملنے کے ہیں۔ میاں بیوی کے اجتماع و ملاقات کے بعد شکریہ کے طورپر جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس کو ولیمہ کہتے ہیں بعض علماءکے نزدیک ولیمہ واجب ہے اوربعض کے نزدیک سنت اور بعض کے نزدیک مستحب ہے۔ حدیث میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا تھا ”اولم ولو بشاة “(بخاری)۔ ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ہر ازواج مطہرات کے عقد کے وقت ولیمہ کیا۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنا بڑا زبردست ولیمہ زینب کے عقد میں کیا تھا اتنا بڑا ولیمہ اور کسی بیوی کا نہیں کیا۔ حضرت زینب کے ولیمہ میں بکری کی تھی۔“ (بخاری)
اور آپ نے بعض بی بی کا ولیمہ ستو اور کسی کا کھجور وغیرہ کا کیا تھا یہ اپنی حیثیت پر موقوف ہے سنت کی پیروی مقصو ہو۔ ریا، نمود ہرگز نہ ہو۔ اور آپ نے فرمایا جب ولیمہ کی دعوت تم کو دی جائے تو آﺅ ۔ (بخاری)
اور آپ نے فرمایا: ”سب کھانوں میں ولیمہ کا وہ کھانا برا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے۔ “ (بخاری)
اور آپ نے فرمایا : ”پہلے دن کا کھانا حق ہے اور دوسرے دن کاکھانا سنت ہے اور تیسرے دن کا ریاو نمود ہے۔ “(ترمذی)
اور جس جگہ فسق و فجور اور خلاف شرع کام ہوتا ہے اور دعوت دینے والے فاسق ہوں تو ان کی دعوت میں نہیں جانا چاہئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسقین کی دعوت قبولکرنے سے منع فرما دیا ہے۔ (بیہقی)

یہ بھی پڑھیں:  طلاق کا بیان ۔ (۳)

اپنا تبصرہ بھیجیں