air force

تحریک آزادی کی کامیابی۔ کیسے ؟

EjazNews

(گزشتہ سے پیوستہ)

پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا فعا لکر دار اس وقت تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا جب تک، الفاظ ذوالفقار علی بھٹو، کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔ انہوں نے جولائی 1972ء میں قومی اسمبلی سے معاہدہ شملہ کی توثیق حاصل کرنے کے لیے تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’ان کے لیے یہی واحد ذریعہ ہے اسے حاصل کرنے کا اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو پاکستان ان کے ساتھ شامل ہوجائے گا۔‘‘
ماضی میں مسئلہ کشمیر پر جب بھی ہمیں بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی۔ ایسے حالات میں ہوئی جب کشمیری عوام خود اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جب ایسا نہ ہوسکا تو ہم حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بین الاقوامی برادری کشمیریوں کی موجودہ تحر یک کو بڑے غور سے جانچے گی کہ کیا واقعی یہ عوامی تحریک آزادی ہے اور اس میں ہندوستان سے آزادی حاصل کرنے کی قوت ہے۔ ماضی میں جب 9 مارچ کو ہندوستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے راہنما ایک دن کے لیے سری نگر گئے تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اس تحریک کی جڑیں عوام میں ہیں۔ اس طرح ہندوستانیوں نے خوداپنے پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی کہ یہ تحریک پاکستان کی تخلیق ہے۔ اب یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ تحریک طویل عرصے کے لیے چلے گی اور اس میں یہی شدت باقی رہے گی۔ تحریک کی طوالت اور شدت ہی عالمی برادری کو ماننے پر مجبور کرے گی کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ کشمیری حریت پسند اس امر سے آگاہ ہیں کہ سیاسی عمل کے ساتھ جہاں لازمی ہوں وہاں انقلابی طریق کار کا استعمال ضروری ہے۔ جنوبی افریقہ میں افریقی نیشنل کانگریس نے اسی اصول کو استعمال کیا تھا۔ نیلسن مینڈیلا 27 سالہ قید کے بعد اس وعدے پر رہا کیے گئے تھے کہ وہ صلح مندی کے ساتھ مسئلے کا حل تلاش کریں گے مگر جیل سے رہا ہوتے ہی منڈیلا نے اعلان کیا کہ جہاں خود حکومت تخریب کاری کے حربے استعمال کر رہی ہے وہاں قوت کا بھر پور استعمال ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں یہی صورت حال ہے۔
اب یہ سوچنا ہے کہ پاکستان کا مدد گاری کردار کیا ہونا چاہیے؟
ہندوستان کے ساتھ جنگ کے احتراز کرتے ہوئے، بشرطیکہ جنگ پاکستان پر تھوپ نہ دی جائے، پاکستان کو کشمیری حریت پسندوں کی ہر قسم کی مدد کرنی چاہیے۔ یعنی پاکستان انہیں اخلاقی مادی اور سیاسی و سفارتی مدد بہم پہنچائے تاکہ یہ تحریک طویل عرصے تک چل سکے اور کشمیری حریت پسندوں کو ویسی اہمیت اور وقعت حاصل ہو سکے جیسی تحریک آزادی فلسطین اور افریقن نیشنل کانگریس کو حاصل ہے، اور ہندوستان مجبور ہوجائے کہ تنازعہ کشمیر کا تسلی بخش حل تلاش کرے۔
موجودہ تحریک آزادی اور پاکستان
موجود تحریک کے بارے میں حکومت پاکستان کی ’’باخبری‘‘ کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف مسلمانان کشمیر ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے تیار تھے اور دوسری طرف وی۔ پی۔ سنگھ کی حکومت سے دوستی کا نیا باب شروع کرنے کی تگ و دو جاری تھی، پہلے خصوصی ایلچی عبدالستار کو اور پھر وزیر خارجہ یعقوب خان کو ہندوستان بھیجا گیا تاہم تحریک کے دوران میں واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے حکومت پاکستان کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کردیا کیونکہ پاکستان میں کوئی ایسی حکومت قائم نہیں رہ سکتی جو کشمیریوں پر ہونے والے جبر وستم اور استبداد کے خلاف نہ ہو۔ اب تک کشمیریوں کی اخلاقی حمایت میں جو اقدامات کیے گئے ہیں، ان سے کشمیریوں کے جذبے اور حوصلے بڑھے ہوں گے۔ 1965ء کے بعد پہلی بار پوری قوم کی ایک مسئلے پر متحد اور یک جان ہوئی ہے۔

کشمیر میں صورتحال بڑی گھمبیر ہے

کیا محض اخلاقی حمایت سے کوئی تحریک آزادی چل سکتی ہے؟ غالباً ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ مالی و عسکری مدد کے بغیر محض اخلاقی حمایت حاصل کر لینے سے کوئی تحریک کامیاب و کامران رہی ہو۔ تحریک آزادی فلسطین کو عربوں نے رقم اور ہتھیار دئیے۔ اسی طرح سوویت یونین ، چین، مشرقی یورپ کے مالک اور شمالی کوریا نے تحریک آزادی فلسطین کو ہتھیار مہیا کیے۔ اسی طرح مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق افریقن نیشنل کانگریس کو سوویت یونین نے ہتھیار مہیا کیے تھے۔ افغان مجاہدین کو بھی بھی ہتھیار ملتے رہے ہیں۔
کشمیر کی موجودہ تحریک آزادی نے پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس پر جمال عبدالناصر کے زمانے میں مصر تھا اور انہوں نے فلسطینیوں کے لیے اپنی سرزمین کھول دی تھی۔ اسی طرح لبنان نے فلسطینیوں کو قبول کیا۔ تمام مصر نے اچھی حالت میں اور اس کے برعکس لبنان نے برے حالات میں یہ اقدامات کیے۔ ہندوستان ، پاکستان پر حملے کے سلسلے میں اسرائیل جیسا کردار ادا کر سکتا ہے اور پاکستان کو اہل کشمیر کی تحریک آزادی کا پچھواڑہ (HINTERLAND) بنے کا RISK لینا پڑے گا۔
کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے پچھوارہ بن جانے میں پاکستان کو کیا خطرات لاحق ہیں ؟ ہندوستان سے جنگ کے امکانات کو بالکل مسترد نہیں کیا جاسکتا اور پاکستان کو اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار رہنا چاہیے اور امید ہے کہ حکومت نے بیانات جاری کرنے سے پہلے افواج کے سربراہوں کو اعتماد میں لیا ہو گا۔ تاہم لگتا یوں ہے کہ اگر کبھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے امکانات سب سے کم تھے تو وہ یہ زمانہ ہے۔ دونوں ملکوں میں جنگی جنون نہیں ہے اور دونوں ملکوں میں عام آدمی ہر گز جنگ نہیں چاہتا۔ عوام میں اس قدر شعور موجودہے کہ جنگ کے مضر اثرات اقتصادیات کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جنگ کی صورت میں ہندوستان پر پنجاب کے سکھوں اور کشمیریوں کا دباؤ ہو گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔
مندرجہ بالا اسباب کے پیش نظر جنگ کے امکانات کم ہیں، تاہم ہندوستان کشمیر کو ہاتھےسے نکلتا دیکھ کر جنگ چھیڑ سکتا ہے۔
ہندوستان جس سفاکی کے ساتھ تحریک کو کچل دینے کے درپے ہے۔ اس کے پیش نظر مظلوم کشمیریوں کو اس انداز کی مدد کی اشد ضرورت ہوگی جیسی ورلڈ کونسل آف چرچز سوڈان اور ایتھوپیا میں بہم پہنچارہی تھی۔ ورلڈ کونسل آف چرچز اور اس جیسے دوسرے اداروں کے کام سے یہ نظریہ تسلیم کیا گیا کہ جن علاقوں میں، چاہے وہ خود مختار ممالک کا حصہ ہی کیوں نہ ہوں، ہتھیار بند جتھے اٹھ کھڑے ہوں اور شہری آبادی محاصرے جیسی کیفیت سے دوچار ہو، وہاں انسانی ہمدردی کے حوالے سے رفاہی کام کرنے والے اداروں کو کام کرنے کی اجازت ہے۔ کشمیریوں کو اس طرح کی مدد بہم پہنچانے کیلئے پروگرام بنا یا جا نا چاہیے۔ بیرونی اداروں کو اس طرف توجہ دلائی جائے اور خود مسلم دنیا سے بھی ایسے ادارے سامنے آنے چاہئیں۔
سفارتی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے لیے ہمارا سب سے اہم ہدف وہ گروہ ہونے چاہئیں جو قوموں کی سوچ بتاتے یا اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے خیالات اور سوچ پر اثر ڈالنے کے لیے عوام سے عوام کی ڈپلومیسی PEOPLE TO PEOPLE DIPLOMACY اس لیے ضروری ہے کہ یہی مالک ہیں جو دنیا کے مسائل پر چودھراہٹ قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس سفارتی سطح کی مہم میں تین چیزیں پیش نظر رہنی چاہییں۔
تحریک آزادی عوام کے دل کی ترجمان ہے اور عوامی زور سے چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاطینی امریکیوں کی آوازگبریل گارشیا مارکیز

کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی نفی کی جارہی ہے۔
اہل پاکستان کشمیری عوام سے خون کی بنیاد پر رشتے اور ناطے رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بہنے والے دریاؤں کے منابع کشمیر میں ہیں اور ان دریاوں کا پانی روک کر ہندوستان پاکستان کو صحرا بنانے پر تلا ہوا ہے۔
ہندوستان اتنا طاقتور ہے کہ وہ عوامی تحریک کا گلا گھونٹ سکتا ہے۔ بیرونی صحافیوں کو کشمیر سے نکال دیا گیا مگر کہیں سے اس کے خلاف زور دار احتجاج نہیں ہوا۔ بیرونی دنیا کشمیریوں کی ہمدردی میں جب ہی سامنے آئے گی جب اسے یقین ہوجائے گا کہ کشمیر میں اٹھنے والی تحریک پاکستان کے ہاتھ میں کٹھ پتلی نہیں ہے۔ فی الحال یہ رجحان عام ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظاہرے پاکستان نے کرائے ہیں اور یہ تاثر اس لیے ہے کہ کشمیر کو پاکستان و ہندوستان کے در میان ایک علاقائی تنازعہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے حالانکہ یہ حق خودارادیت کی جنگ اور مسئلہ ہے۔ آج کل آزادی اور جمہوریت کی جو عالی لہر چلی ہوئی ہے اسی تناظر میںاسے سمجھا جانا چاہیے۔
’’عوام سے عوام کی ڈپلومیسی ‘‘ کے لیے بہترین ذریعہ غیر سرکاری افراد اور منتخب نمائندے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کشمیریوں کے وفود باہر جانے چاہئیں جن میں ان کے منتخب نمائندے شامل ہوں۔ وزیروں کی حیثیت بعض اوقات سرکاری افسروں سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی ،زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ دانشوروں ، صحافیوں اور علماء کے وفود باہر جائیں۔
اب تک حکومتوں کے مابین سفارتی سطح پر ہندوستان نے پہل حاصل کی ہے۔ماضی میں ایس ۔ کے۔ سنگھ کو ماسکو اور واشنگٹن یہ خیال عام کرنے کے لیے بھیجا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور پاکستان اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کر نا چاہتا ہے۔ بیرونی دنیا میں پہلا رد عمل ہندوستانی نظرئیے کو قبول کرنے کا تھا۔ ان ممالک کی جانب سے یہ بیانات کہ ’’مسئلہ کشمیر کو صلہ مندی کے ساتھ لے کر نا چاہیے‘‘ کے معنی یہ تھے کہ اگر پاکستان اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے کوئی فوجی اقدام کر نا چاہتا ہے تو اس سے اجتناب کرے تاکہ جنگ ٹل جائے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر کو معاہدہ شملہ کے تحت عمل کرنے کا مطلب یہ تھا کہ
1- لائن آف کنٹرول کو مستقل سمجھناچاہیے۔
2 کشمیریوں کے حق خودارادی کی حمایت کرنے کے معنی ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر نا ہے۔
3۔ مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ چوٹی کے مذاکرات سے طے کر نا چاہیے یعنی پاکستان اسے بین الا قوامیت نہ دے۔
ضمناً ان بیانات کے معنی یہ بھی تھے کہ ہندوستان بھی جان لے کہ
1- وہ اس معاملے کو فوجی ٹکراؤ تک نہ لے جائے۔
2۔ دوطرفہ مذاکرات کا آغاز کرے۔
جہاں تک اقوام متحدہ کے اندر مسئلہ کشمیر کے اٹھانے کا تعلق ہے۔ یہ مسئلہ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں میں کئی بار اٹھایا جا چکا ہے مگر نتیجہ ظاہر ہے۔ جب تک کشمیری حریت پسنداپنے مصمم ارادوں کا کوئی ثبوت نہیں دیتی، سلامتی کونسل اس پر کوئی توجہ نہ دے گی۔ جب یہ تحریک ایک سطح پر پہنچ جائے گی کہ نظرانداز کرنا بالکل ناممکن ہوجائے گا تو بڑی طاقتیں مسئلے کا حل نکالنے کے لیے موجود ہوں گی۔ آخر ویت نام جواس صدی کا ایک اہم مسئلہ تھا، سلامتی کونسل کے ذریعے توحل نہیں ہوا۔
اس مسئلے کو رواں مرحلے میں سلامتی کونسل میں اٹھانا ایک بات ہے اور دوسرے اداروں مثلا او آئی ۔سی، غیروابستہ ممالک کی تنظیم، جنرل اسمبلی اقوام متحدہ اور سارک وغیرہ میں اٹھانا دوسری بات ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے پاکستان کو یہ مسئلہ اٹھانا چاہیے۔ او آئی سی اور سارک کے رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ سارک اپنے دستور کے مطابق سیاسی مسائل پر بحث کرنے کی مجاز نہیں ہے مگر اس تنظیم کا کیا فائدہ جو کم از کم اپنے رکن ممالک کے در میان افہام وتفہیم کا وہ کردار ادا نہیں کر سکتی جو دولت مشتر کہ غیر رسمی طور پر ادا کرتی ہے۔اگر سارک یہ بھی نہیں کر سکتی تو یہ محض ایک مکمل نام ہے۔
سفارتی سطح پر اپنے OPTION بہت احتیاط اور صبر کے ساتھ طے کرنے چاہییں اور جب تک کشمیری حریت پسند میدان عمل میں اپنی قوت نہیں منواتے، سفارتی سطح پر زیادہ کامیابی محال ہے تاہم یہ بھی عقل مندی نہیں ہے کہ مختلف ممالک کے اولیں رد عمل کو حتمی سمجھ لیا جائے۔ کشمیری حریت پسندوں کی تحریک کی کامیابی کے ساتھ ان کا موقف بدل جانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔
رواں مرحلے پر ہمیں کسی مصالحت تک پہنچنے کی جستجو بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر یہ کوشش ہوئی تو تحریک آزادی پر اس کے منفی اثرات ہوں گے اور دیگر ممالک یہ خیال کریں گے کہ ہم جان چھڑانے کی فکر میں ہیں۔ ابھی صبر کا وقت ہے۔ کامیابی ذرا واضح ہوجائے تو پھر موقع آئے گا کہ مصالحت کے لیے میز پر بیٹھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں اولیاء اللہ کے مزارات(۲)

ڈاکٹر ایس ایم قریشی

اپنا تبصرہ بھیجیں