marriage

نکاح کے کچھ متفرق مسائل

EjazNews

اعلان نکاح
نکاح اعلان اور ظاہر کر کے کرنا چاہئے۔ چھپ کر نکاح کرنا جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نکاح کو اعلان کر کے کرو اور مسجدوں میں کرو۔ اور ڈگڈ گی پٹو ادو تاکہ سب کو معلوم ہو جائے۔ “ (ترمذی) ۔ ”نکاح حلال اور حرام میں فرق اعلان کرنا اور دف بجانا ہے۔“ (نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)
نکاح متعہ
نکاح متعہ کسے کہتے ہیں اور اب جائز ہے یا نہیں؟:
متعہ کے معنی فائدہ کے ہیں اسلامی محاورہ میں معین وقت اور چنددنوں کے لئے کسی عورت سے نکاح کر کے فائدہ اٹھائے اور وقت گزرنے پر چھوڑ دے۔ جیسے دس دن کے لئے کسی عور ت سے نکاح کرے اور دس دن تک جماع وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا رہے۔ جب دس دن گزر گئے وہ نکاح جاتا رہا۔ ابتداءمیں یہ جائز تھا۔ فتح مکہ کے دن قیامت تک کے لئے حرام کر دیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اسلام کے شروع زمانہ میں لوگ پردیس جاتے جہاں کسی سے جان پہچان نہیں ہوتی تو جتنے دنوں تک رہنے کا خیال ہوتا اتنے دنوں کے لئے وہاں کسی عور ت سے نکاح کر لیتے تاکہ سامان وغیرہ کی نگرانی کرے۔ جب آیت نازل ہوئی تو بیوی اور باندی کے علاوہ سب شرمگاہیں حرام ہو گئیں ۔ (ترمذی)
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ کے بارے میں فرمایا: ”خبر دار، یہ نکاح متعہ آج کی تاریخ سے قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ “ (مسلم)
نکاح شغار
نکاح شغار کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا حکم ہے؟:
شغار کے معنی پاﺅ اٹھانے کے ہیں اور محاورہ میں نکاح شغار کی تعریف یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے تو اپنی لڑکی یا بہن کی شادی مرے لڑکے کے ساتھ کر دے اس کے بدلے میں اپنی لڑکی یا بہن کی شادی تیرے لڑکے کے ساتھ کر دوں گا یا یوں کہے تو اپنی لڑکی کی شادی میرے ساتھ کر دے اور میں اپنی لڑکی کی شادی تیرے ساتھ کردوں یا تو اپنی بہن کا نکاح میرے ساتھ کر دے اور میں بھی اپنی بہن کا نکاح تیرےس اتھ کردوں اور یہی بدلین مہر قرار پائے تو ایسا نکاجائز نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ آدمی کہے تو اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کر دے اور میں اپنی لڑکی کا نکاح تیرے ساتھ کردوں یا تو اپنی بہن کا نکاح میرے ساتھ کر دے اور میں اپنی بہن کا نکاح تیرے ساتھ کر دوں ۔ “ (مسلم ، احمد)۔ اور فرمایا ”اسلام میں شغار نہیں ہے۔“ (مسلم)
نکاح حلالہ
نکاح حلالہ کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا حکم ہے؟:
حلالہ کے معنی حلال کرنے کے ہیں اور محاورے میں نکاح حلالہ اسے کہتے ہیں کہ کسی نے اپنی بیوی کو تین طہر میں تین طلاقیں دے دی ہیں اب یہ عورت اس خاوند پر حرام ہو گئی ہے اگر یہ دوسرے خاوند سے نکاح کر لے اور اس سے ہم بستر ہو جائے اور وہ بھی اپنی خوشی سے طلاق دے دے، یا وہ مر جائے تو عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند سے دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ۔ ”فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ“اگر اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر دوسرے خاوند سے نکاح کرے پھر دوسرے خاوند کے طلاق وعدت کے بعد پہلے خاوند سے نکاح جائز ہوگا ۔ عیلہ والی حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر پہلا خاوند حلال کرانے کی غرض سے دوسرے سے نکاح کرادے اور دوسرا خاوند صرف حلال کرنے کی نیت سے دو ایک روز کے لئے نکاح ر لے اور اس سے جماع کر کے چھوڑ دے تو اس کو نکاح تحلیل کہتے ہیں اور چھوڑنے کی نیت سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے اور ایسا نکاح باطل ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓفرماتے ہیں : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال کرنے والے اور حلال کرانے والے دونوں کے لئے لعنت فرمائی ۔ “(احمد، ترمذی)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ کیا میں منگنی کے بکرے کی خبر نہ دوں صحابہ نے عرض کیا فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال کرنے والا ہے۔ حلال کرنے اور کرانے والے دونوں پر اللہ تعالیٰ لعنت کرتا ہے۔ “ (ابن ماجہ)
نیل الاوطار میں ہے ”والا احادیث المذکورہ تدل علی تحریم التحلیل “ یعنی یہ حدیثیں تحلیل کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
نکاح میں جائز اور ناجائز شرطوں کا بیان
نکاح میں کیسی کیسی شرطیں جائز ہے ’:
خلاف شرع شرطیں ناجائز ہیں جیسے کوئی عورت شرط کر ے کہ پہلی بیو ی کو طلاق دے دو تب میں تم سے نکاح کروں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت اپنی سوت کے طلاق کی درخواست نہ کرے تاکہ اس کے برتن کی چیز اونڈیل لے، کیونکہ روزی اللہ کے ذمے ہے اور شریعت کے موافق شرط کرنا جائز ہے۔ جیسے نان و نفقہ ، مکان و مہر وغیرہ کا اور ایسی شرطوں کا پورا کرناضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن شرطوں کا پورا کرنا زیادہ لائق ہے وہ شرطیں ہیں جن سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔ “ (بخاری، مسلم)
زانیہ عورتوں کا نکاح
مومن موحد کا زانیہ عوت سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟:
مومن کا زانیہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”زانی مرد زانیہ عورت سے یا مشرکہ سے نکاح کرے، اور زانیہ عورت زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرے اور یہ ایمان والوں پر حرام کیا گیا ہے۔“ (سورہ النور)

یہ بھی پڑھیں:  نان و نفقہ و سکنی

اپنا تبصرہ بھیجیں