jo jonsan

بریگزٹ برطانوی سیاست سے اور کتنی قربانیاں لے گا

EjazNews

سابق برطانوی وزیراعظم ڈیویڈ کیمرون نے بریگزٹ ریفرنڈم کا فیصلہ کیا تھا،جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا تو وہ بہت پر اعتماد تھےکہ وہ میاب ہو جائیں گے اور ایک عرصے تک کے لیے یہ باب بند ہوجائے گا۔ ان کا یہ اعتماد بلا جواز بھی نہ تھا، وہ اپنے فیصلے سے پہلے دو سیاسی فتوحات حاصل کرچکے تھے۔ عوام و خاص طور پر اُن کی اقتصادی کامیابیوں سے جن کی وجہ سے عالمی اقتصادی بحران کے بعد برطانیہ کی بحالی ممکن ہوئی، بہت خوش تھے اور کھلے عام کہا جارہا تھا کہ برطانیہ اگلے دس سال میں یورپی یونین کی اہم معاشی طاقت ہوگا، لیکن اُن کے ریفرنڈم کے فیصلے نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ انہیں نہ صرف یہ کہ شکست ہوئی، بلکہ اس کے ساتھ ہی اُن کا سیاسی کیریئر بھی ختم ہوگیا، جس نے برطانیہ جیسی مضبوط جمہوریت میں بھی قیادت کا بحران پیدا کردیا۔ اُن کی جانشین، مسز تھریسامے اُن کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوئیں، بریگزٹ ریفرنڈم میں ایک سادہ سا سوال تھا کہ’’ ساتھ رہنا چاہتے ہو یا علیٰحدہ ‘‘، جبکہ اس مہم کے دوران یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ کسٹم کے مسائل، مالیاتی برابری اور تجارتی معاملات کو کیسے طے کیا جائے گا۔ خاص طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ جب آرٹیکل50 کو حرکت میں لایا جائے گا، تو اُس کے بعد الگ ہونے کے عمل میں صرف دو سال کا وقت ملے گا۔ برطانیہ اور یورپی یونین کا ساتھ چالیس سال کا ہے، بلکہ برطانیہ تو اس کے قیام کے فلسفے کے خالقوں میں سےایک ہے، جس کے مطابق آپس کی دشمنی سے بچ کر عوام کو ترقّی اور خوش حالی کے لیے یورپی ممالک کا اتحاد لازمی قرار دیا گیا تھا۔ بریگزٹ نے یہ سب ہوا میں اڑا دیا۔ برطانوی عوام کے سامنے جب اس علیٰحدگی کی ٹھوس حقیقتیں سامنے آرہی تھیں، تو اُن میں انتشار کی سی کیفیت تھی، جس کا عکس کبھی عدالتی فیصلے میں سامنے آرہا تھا اور کبھی، پارلیمان میں بریگزٹ بل پر حکومتی شکست میں۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو اس کا خاتمہ ہو جائے گا: امریکی صدر

تھریسامے برطانیہ پر حکومت کر رہی تھیں اور مارچ2019 ء میں یورپی یونین کو چھوڑ دینا تھا اور اس سلسلے میں یورپی یونین سے مذاکرات جاری تھے، جنہیں عرفِ عام میں’’ بریگزٹ مذاکرات‘‘ کہا جاتا ہے۔ وزیر اعظم، تھریسامےکی کنزر ویٹو حکومت کو اس وقت انتہائی دشواری کا سامنا تھا۔تھریسا مے جب دسمبر کے وسط میں یورپی یونین کے سربراہان سے اہم مذاکرات کے لیے جارہی تھیں، تو اُن کے سامنے دو محاذ کھل چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک میدان جنگ تو یورپی یونین کے ساتھ مذاکراتی عمل ہے، جس میں یونین کے رہنما اُنہیں کسی بھی قسم کی کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، یورپی یونین کے رہنماؤں نے اس’’ سختی‘‘ کا اُسی وقت اعلان کر دیا تھا، جب برطانوی عوام نے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کا ووٹ دیا تھا، لیکن وزیر اعظم تھریسامے کے لیے جو دوسرا محاذ کھلا ہے، وہ اندرون مُلک اور خاص طور پر ملکی پارلیمان کے اندر ہے، جہاں نہ صرف بریگزٹ مخالف ارکان ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے، بلکہ اب خود ان کی پارٹی کے ارکان بھی ان کیخلاف کھڑے ہوچکے ہیں۔ وسط دسمبر میں برسلز جانے سے قبل پارلیمان میں بریگزٹ بل پر حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جب خود کنزر ویٹو پارٹی کے 9 ارکان نے حکومتی بل کے خلاف ووٹ ڈال کر بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ اس بغاوت پر یورپی رہنماؤں کو کھلے عام یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ’’ پہلے اپنے گھر میں تو یکجہتی پیدا کرلو، پھر ہم سے علیٰحدگی کی بات کرنا۔‘‘
اگربریگزیٹ ریفرنڈم گزرنے کے بعد برطانیہ کی سیاسی اور عوامی صورتحال پر نظر ڈالی جائے، تو ایک انتشار کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ پارلیمان کے اندر حکومت کی شکست نے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا تھا۔ بریگزٹ، یعنی یورپی یونین سے علیٰحدہ ہونے کے عمل کو ایک قانونی شکل دینے اور اس پر مرحلہ وار عمل کے لیے حکومت نے پارلیمان میں’’ بریگزٹ بل‘‘ پیش کیا۔ یہ کنزر ویٹو حکومت ہی نہیں، بلکہ برطانیہ کی اس بنیادی حکمت عملی کے خد وخال پیش کرتا ہے، جس کے تحت یورپی یونین سے علیٰحدگی پر عمل کیا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یورپی یونین کے قانون کی بالادستی کو ختم کرکے اس کی جگہ ،برطانوی قوانین کو بالادست کیا جائے، تاکہ بریگزٹ کے دن کوئی ابہام نہ رہے کہ ملک میں کس کی عملداری ہے اور یہ بھی واضح طور پر دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اب برطانیہ، کسی طور بھی یورپی یونین کے کسی بھی قانون کے تحت نہیں آتا، سارے معاہدے براہ راست اسی سے کرنا ہوں گے۔ یہ نہیں کہ اس بل کے الفاظ اور معنی میں کوئی پہلی مرتبہ کسی تبدیلی کی کوشش کی گئی تھی۔ درحقیقت شاید ایک سو سے زیادہ ترامیم تو مختصر عرصے میں پیش کی جاچکی تھیں، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت کو ووٹنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسے309 ووٹس کے مقابلے میں306 ووٹس ملے تھے۔ بظاہر تو یہ اتنا بڑا مارجن نہیں اور اگر حکومت پھر تیاری کے ساتھ بل پیش کرتی ہے، تو اس کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں، لیکن ناکامی کا اصل دھچکا یہ ہے کہ یہ شکست ’’ بریگزٹ مذاکرات‘‘ سے عین دو دن قبل ہوئی تھی، جب وزیر اعظم تھریسامے برسلز جانے کے لیے روانہ ہورہی تھیں۔ لندن کے میئر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ برطانیہ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ اُنھوں نے تاجر نمائندوں سے طویل ملاقاتیں کیں، جن میں اُنھیں بتایا کہ بریگزٹ کے بعد اُن کا ملک کس قسم کے اقتصادی روابط کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
بریگزٹ بل پر تھریسا مے کی حکومت کی شکست کا یہ بھی مطلب تھا کہ اس کے پتے اب محدود ہوتے جارہے ہیں۔برطانیہ میں ایک پارلیمانی بحران کی سی کیفیت نظر آرہی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا فائدہ براہ راست دوسرے فریق کو ہونا تھا جو ہوا بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر ٹرمپ کا دور کلائمنٹ چینج پر بہت بھاری گزرا

تھریسامے جو قبل از وقت انتخابات کروائے تھے، اُس نے بھی ملکی جمہوریت اور پارٹیوں میں افراتفری کی کیفیت پیدا کردی۔سابق وزیر اعظم تھریسامے نے یہ غلط فیصلہ نہ کیا ہوتا، تو اُن کی پوزیشن اندرون ملک اور یورپی یونین سے مذاکرات میں مضبوط ہونی تھی۔پھر اس کے بعد، ایک کمزور اتحادی حکومت بنانے میں بھی ان کا بہت سا وقت ضائع ہواتھا۔برطانیہ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق، مانچسٹر میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں شدّت سے یہ احساس پایا گیا تھاکہ مستقبل کی قیادت پر ابھی سے غور کرنا ضروری ہے۔ پھر اس کا یہ بھی نتیجہ نکلا کہ اس کی حریف، لیبر پارٹی کے، جو خاصی کمزوری ہو چکی تھی، ایک بار پھر اقتدار میں آنے کی باتیں ہونے لگی ہیں، لیکن اس سارے بحران سے، جو سب سے بڑا سبق سامنے آیا تھا، وہ یہ تھا کہ بریگزٹ کے لیے ریفرنڈم کروانا، ایک فاش غلطی تھی۔ بریگزٹ برطانوی سیاست کو پوری طرح اپنی جکڑ بند میں باندھے ہوئے ہے ۔ وزیراعظم بورسن جانس کے بھائی نے استعفیٰ دے دیا ہے یہ کہہ کر کہ وہ خاندان سے وفاداری اور قومی مفاد کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں۔جبکہ اپنی پیش رو کے مطاق وزیراعظم بورس جانسن بھی قبل از وقت انتخابات کی بات کرنا شروع ہو چکے ہیں۔ دیکھتے یہ بریگزٹ برطانیہ میں کوئی تاریخ رقم کرتا ہے یا پھر خود تاریخ بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کو نیا شہزادہ مل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں