kashmir-karfio

مسئلہ کشمیر اور ہماری خارجہ پالیسی : چند گزارشات

EjazNews

زیر نظر تحریر کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے چند گزارشات پیش کی جائیں جو کشمیر کی تحریک آزادی کو آگے بڑھانے اور بالاخر اسے کامیابی تک پہنچانے کے لیے میرے خیال میں ضروری ہیں۔ اس ضمن میں ماضی میں اختیار کی گئی پالیسیوں کا تجزیہ مفید ہو گا۔ یہ پالیسیاں کس پس منظر میں اپنائی گئیں۔ ان کے نتائج کیا نکلے اور یہ نتائج مسئلہ کشمیر کے حل میں کہاں تک معاون ثابت ہوئے۔

مسئلہ کشمیر کا پہلا دور : 1948۔1956:
کشمیرسے متعلق ہماری حکمت عملی کا سب سے کامیاب دور 1948ءسے 1956ءتک محیط ہے۔ اس دور میں کشمیر کی جدوجہد آزادی کے پیچھے یہ نظریاتی جذبہ کار فرما تھا کہ مسلم اکثریت کے اس علاقے کو پاکستان کا حصہ بننا ہے۔ مسلمانان کشمیر نے جنگ آزادی کا آغاز اسی جذبے سے کیا تھا جس سے تحریک پاکستان نے قوت حاصل کی تھی۔ ہندوستان ، مسلمانان کشمیر کے جذبہ جہاد و آزادی کو فوجی کارروائی سے نہ دبا سکا۔ جبکہ اس نے ہندو مہاراجہ کی امداد کے لیے وادی کشمیر میں فوجیں اتار دی تھیں۔ چونکہ مہاراجہ نے ہندوستان اور پاکستان دونوں سے معاہدہ قائمہ (STANDSTILL AGREEMENT ) کررکھا تھا جس کے تحت پاکستان کو ریاست کشمیر کے دفاع، امور خارجہ اور مواصلات پر اتنا ہی حق حاصل تھا جتنا ہندوستان کو اس لیے پاکستان کی مداخلت قانون کے مطابق تھی اور مسلمانان کشمیر کی بقا کا تقاضا بھی یہی تھا۔مہاراجہ کی طرف سے کشمیر کا ہندوستان سے الحاق عارضی تھا اور اس حقیقت کو خود وزیراعظم ہندوستان پنڈت جواہر لال نہرونے تسلیم کیا تھا۔ ان واقعات کے باوجود اقوام متحدہ میں ہم اب تک اپنی اس قانونی حیثیت کو نہیں منوا سکے۔ تسلیم یہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان قانونی طور پر اور پاکستان محض اخلاقی طور پر مسئلہ کشمیر پر جائز مقام رکھتے ہیں۔ عرصے تک ہم اس سوچ میں پڑے رہے کہ کشمیر پر اپنی قانونی حیثیت منوانے کے سلسلے میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کریں یا نہ کریں۔ اب وقت اس قدر گزر چکا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں جانے کے بجائے یہی مناسب ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی مسئلہ ہی رہنے دیا جائے اور قوموں کے حق خودارادی کے اصول کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جائے۔
جب ہندوستان اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا تو اس سے پاکستان کو یہ فوائد حاصل ہوئے:
1۔ جنگ بندی لائن سے ریاست دو حصوں میں منقسم ہوگئی۔ ایک حصے پر ہندوستان کا قبضہ ہو گیا اور دوسرا حصہ آزاد جموں و کشمیر کہلایا۔ آزاد جموں و کشمیر مقبوضہ علاقے کے لیے جدوجہد آزادی کا باعث بنا۔
2۔ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا۔
3۔ یہ مان لیا گیا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک غیر جانبدارانہ اور منصفانہ استصواب رائے سے کشمیر کا مستقبل طے کیا جائے گا۔
4۔ اس کے ساتھ ہی کشمیر میں ہندوستانی افواج ، ہندوستان (یا ہندو) کے مفادات کا غلبہ قائم کرنے والی قوت قرار دی گئیں اور پاکستانی افواج کشمیری مسلمانوں کی محافظ گردانی جانے گئیں۔
1948ء، 1949ءاور 1956ءمیں اقوام متحدہ میں جو قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان پر کشمیریوں کے حقوق اور مسئلے کی بنیاد ہے۔ یہ قراردادیں پاکستان کے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ مفید تھیں۔ 1956ء ے لے کر جواہر لال نہرو کی وفات تک ہندوستان کی بھر پور کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح استصواب رائے کے تسلیم کردہ اصول سے جان چھڑالی جائے۔ جب یہ کہا گیا کہ کشمیر میں مقامی انتخابات ، استصواب رائے کا بدل ہیں تو 1956ءمیں سلامتی کونسل نے ہندوستان کا یہ دعوی مسترد کردیا۔
1948ءسے 1956ءتک اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادیں در حقیقت سہ فریقی بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت رکھتی ہیں جن کے فریق پاکستان ، ہندوستان اور کشمیری عوام ہیں۔
ہندوستان اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا تو اس کے پیش نظر تھا کہ وہ اس گھڑی کو ٹال دے۔ جہاد کشمیر کا خاتمہ ہوجائے اور وقت کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کو ہندوستانیت میں سمودیا جائے۔ اس کے ساتھ کشمیر پر اپنا فوجی تسلط مضبوط کرتارہے ۔ پاکستان کی طرف سے اہل کشمیر کی ممکنہ معاونت کے خلاف قوت استعمال کی جاتی رہے۔ سفارتی سطح پر تگ و دو کر کے کشمیر پر اپنے قبضے کو قانونی طور پر تسلیم کرایا جائے۔ حکمت عملی کے ان پہلووں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وقت درکار تھا۔ مگر 1956ءتک ہندوستان ان مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاسی،سماجی، اقتصادی بے چینی عوام کا سکھ چین لے گئی
کشمیر میں کرفیو سے بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے

1948ءسے 1956ءتک مسئلہ کشمیر بڑی طاقتوں کی کشمکش کا شکار نہ ہوا ،اور روایتی طور پر ہندوستان کی جانب جھکاو رکھنے والا سوویت یونین بھی سلامتی کونسل میں اپنا ووٹ ڈالنے سے اجتناب کرتارہا۔
دوسرا دور : 1956- 1965:
تنازعہ کشمیر کا دوسرا دور 1956ءسے شروع ہو کر 1965ءمیں ختم ہوا۔ اس عرصے میں سلامتی کونسل کی دلچسپی بتدریج کم ہوتی چلی گئی۔ یہ عرصہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا زمانہ تھا جب آئے دنوں وزارتیں بنتی اور ٹوٹتی تھیں۔ پاکستان نے جب بھی مسئلے کو سلامتی کونسل میں اٹھانے کی کوشش کی، اسے مایوسی ہوئی۔ پاکستان سیٹو (SEATO) اور سنٹو (CENTO) جیسے جنگی معاہدوں میں شامل ہو چکا تھا اور روس – امریکہ سرد جنگ کے پس منظر میں سوویت یونین نے 20 فروری 1957ءکو پہلی بار اپنا حق استرداد استعمال کیا۔ اس کے بعد 22 جون 1962ءکو جب مصر اور گھانا نے سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر ووٹ ڈالنے سے اجتناب کیا تو یہ ہندوستانی ڈپلومیسی کی کامیابی اور پاکستان کے لیے ایک صدمہ (SETBACK) تھا۔ دو سال بعد یعنی 1964ءمیں پاکستان سلامتی کونسل سے کوئی قرار داد منظور کرنے میں ناکام رہا اور محض ایک عمومی بیان حاصل کر سکا۔ 1965ءمیں سلامتی کونسل نے کشمیر کا ذکر کرنے سے بھی انکار کر دیا اور جنگ بندی کی قرارداد میں اس کے لیے محض ”وہ سیاسی مسائل جو اس (ہندوستان اور پاکستان کے مابین) جھڑپ کے مضمرات ہیں“ کے الفاظ پر اکتفاءکیا گیا۔
اس دوسرے دور میں مقبوضہ کشمیر میں ”محاذ رائے شماری“ یہ سمجھے ہوئے تھا کہ پاکستان اس کی حمایت میں نبرد آزما ہو گا۔ اس وقت ہندوستان اور پاکستان کا فوجی توازن اتنا ڈراونا نہ تھا۔ ہندوستان پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتا تھا۔ اس پس منظر میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے جبرالٹر آپریشن کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس آپریشن میں بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ کشمیری مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پاکستانی کمانڈوز اور کشمیری حریت پسند مل کر ہندوستان پر پشت سے کاری ضرب لگائیں گے جبکہ پاکستانی فوج ہندوستان کے مد مقابل ہوگی، یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ منصوبہ بنانے والوں نے یہ سوچا تھا کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحدوں تک لڑائی نہیں لائے گا اور یہ محض کشمیر کے متنازعہ علاقہ میں محدود رہے گی۔ ناکامی کا دوسرا سبب یہ تھا کہ کشمیر میں ہندوستان کے خلاف کوئی زبردست عوامی تحریک نہ اٹھ سکی۔
ستمبر 1965ءکی جنگ کے زمانے میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ زیادہ بہتر تھی اور اخلاقی طور پر کشمیر پر پاکستان کا حق، ہندوستان کی نسبت زیادہ سمجھا جاتا تھا۔ چین کی مکمل حمایت پاکستان کو حاصل تھی۔ سوویت یونین تقریباً غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھا، لیکن چند وجوہ کی بناءپر زیر نظر مقالہ کی حدود سے باہر ہیں، پاکستان نے جنگ بندی کے لیے اپیل کردی۔
1965ءمیں آخری مرتبہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ اس کے بعد جبرالٹر آپریشن کی ناکامی، کشمیر سے متعلق پاکستان کی حکمت عملی پر مسلسل سایہ ڈالے رہی ہے۔ اس لیے 1965ء کے واقعات کا تجزیہ کرنا نامناسب نہ ہوگا۔
1965ءمیں پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت نے مثبت نتائج حاصل ہو جانے تک جنگ جاری رکھنے کی اہلیت نہ دکھائی بلکہ بیرونی طاقتوں کے دباو¿ میں آکر جنگ بندی قبول کرلی جو جنگ کو جلد ختم ہوتے دیکھنا چاہتی تھیں۔ غالباً قیادت میں اس قوت ارادی کا فقدان تھا جو کسی جنگ کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ جنگ بندی جلد قبول کرلینے کا دوسرا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے جنگ اس لیے شروع کی تھی کہ سلامتی کونسل کی توجہ منعطف کر اسکیں تا کہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر سامنے آجائے۔ غالباً اسی لیے انہوں نے جنگ کو سنجیدہ مذاق سے ذرا ہی زیادہ اہمیت دی۔ 6 ستمبر کو جنگ کا آغاز ہوا اور 16 ستمبر کو جنگ بندی کی اپیلیں شروع ہو گئیں۔
اسی طرح 1971ءمیں جنگ 3 دسمبر کو شروع ہوئی اور 7 دسمبر کو امریکی قونصل جنرل کے ہاں بھاگے بھاگے گئے کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو جنگ بندی کی اپیل کا برقیہ روانہ کر دے۔ حالانکہ بڑی طاقتوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد کو اس وقت تک نہیں آنے دیتیں یا منظور نہیں ہونے دیتیں تاوقتیکہ ان کا منظور نظر اپنا ہدف پورا نہ کرلے یا اس پوزیشن میں نہ آجائے جوجنگ بندی یا صلح میں بہتر شرائط حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مستقل ارکان کو اپنا حق استرداد استعمال کرنے سے کبھی عار نہیں رہی۔ 1971ءمیں سوویت یونین نے جنگ بندی کی قرارداد اس وقت تک سلامتی کونسل میں نہیں آنے دی جب تک ہندوستانی افواج نے ڈھاکہ پر قبضہ نہ کر لیا۔ اسی طرح 1973ءمیں امریکہ نے عرب اسرائیل جنگ رکوانے کی قرارداد اس وقت تک روکے رکھی جب تک اسرائیل نہر سویز عبور کر کے قاہرہ پر دباو¿ ڈالنے کی پوزیشن میں نہ آگیا۔
کشمیر سے متعلق پاکستان کی حکمت عملی کے دوسرے دور میں ایک اور صورت یہ پیدا ہوئی کہ مسئلے کا حل ہندوستان – پاکستان دوطرفہ مذاکرات سے نکال لیا جائے۔ پہلے 1962ءمیں اینگلو۔ امریکی دباﺅ سے یہ صورت ابھری، بعد میں سوویت یونین بھی اس میں شامل ہو گیا اور ستمبر 1965ءکی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند کے مذاکرات کا اس نے اہتمام کیا تھا۔ 1962ءمیں ہندوستان – چین سرحدی جنگ کے موقع پر صدر محمد ایوب خان سے یہ وعدہ حاصل کرلیا گیا تھا کہ جب ہندوستان چین سے الجھا ہوا ہے، پاکستان کشمیر پر کوئی فوج کشی نہ کرے گا۔ اس وعدے کے بدلے انہیں کہا گیا کہ جواہر لال نہرو پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کر دیں گے۔ ان اطلاعات کے مطابق جو غیر ملکی پریس میں شائع ہوئیں اور جن کی تصدیق پاکستان میں نہیں ہوتی، نہرو اور سورن سنگھ نے یہ اشارہ کیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں سے کچھ علاقے پاکستان کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر ایسی کوئی تجویز آئی تھی تو وہ ایک چال تھی۔ کیونکہ چینی فوجیں جنہوں نے ہندوستان کی پٹائی کی تھی، ابھی تک نیفا (NEFA) کے علاقے میں موجود تھیں اور ہندوستان اس نازک وقت کو ٹالنا چاہتا تھا۔
تیسرا دور : 1965۔ 1971:
مسئلہ کشمیر کا تیسرا دور 1965ءکی جنگ اور اعلان تاشقند (1966ئ) کے بعد شروع ہوا۔ جس میں مسئلے کی اہمیت گھٹا دی گئی۔ یہ ایک قابل غور نکتہ ہے کہ یہ اعلان جس کی ولادت کو سیجن کے ہاتھوں ہوئی تھی ، وہ آخری بین الا قوامی دستاویز ہے جس میں کشمیر کے لیے تنازعہ (DISPUTE) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اگرچہ محض ایک مرتبہ اور وہ بھی اس پس منظر میں کہ
BOTH THE LEADERS AFFIRM THEIR RESOLVE TO SOLVE ALL THEIR DISPUTES IN THE SPIRIT OF THE CHARTER. IN THIS CONTEXT THE JAMMU AND KASHMIR WAS DISCUSSED
اس کے بعد خود ہم نے ہی تنازعہ کے بجائے دوسرے مترادف الفاظ استعمال کرنا شروع کردیئے۔ پہلے یہ مسئلہ کشمیر ( KASHMIR PROBLEM ) ہوا اور پھر کشمیر کا لفظ استعمال کیے بغیر ہند۔ پاکستان اختلافات (INDO PAKISTAN DIFFERENCE) بن گیا۔ 1971ءمیں پاکستان کو دولخت کر دیا گیا۔ یہ قوم کے لیے ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ پاکستان کو میدان جنگ میں نیچا دکھایا گیا۔ پانچ ہزار مربع میل زمین دشمن کے قبضے میں چلی گئی اور نوے ہزارسے زائد افراد قیدی بنا لیے گئے۔ اس کے بعد 1972ءمیں معاہدہ شملہ ہوا۔ اس معاہدہ کی خوبیوں اور خامیوں پر اختلاف رائے سے قطع نظر یہ امر قابل غور ہے کہ یہ واحد دستاویز ہے جس پر ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ دستخط کرتے ہوئے اس کا اعتراف کیا ہے کہ جموں وکشمیر کا آخری تصفیہ ابھی ہونا ہے۔
چوتھا دور :1972:
مسئلہ کشمیر کا چوتھا دور معابدہ شملہ سے شروع ہوا اور تاحال جاری ہے۔ اس عرصے میں صدر ضیاءالحق کے دور اقتدار میں اس مسئلے پر زندگی کے کچھ آثار نظر آئے۔ آغاہلالی، سابق سفیر نے انسانی حقوق کے کمیشن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا ذکر کیا جس پر ہندوستان نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اس نے بعض طے شدہ مذاکرات ملتوی کر دیئے۔ صدر ضیاءالحق نے مسئلہ کشمیر کو معاہدہ شملہ کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور یہ نقطہ نظر سرکاری بیانات میں آنے لگا۔
اس عرصے میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے قوت پکڑی۔ انفرادی سطح پر اکا دُکا واقعات ہونے لگے۔ مقبول بٹ کو ہندوستان میں پھانسی دی گئی۔ موجودہ صورت حال کی ابتداءان ہی چھوٹے چھوٹے واقعات اور اقدامات سے ہوئی۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں:  روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا

ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ قریشی

اپنا تبصرہ بھیجیں