how women don not marraige

محرمات (جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے)

EjazNews

کن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے؟:
حرمت نکاح کے مختلف اسباب ہیں۔ بعض نسب کی وجہ سے حرام ہیں جیسے ماں بیٹی بہن پھوپھی خالہ بھتیجی بھانجی اور دادی نانی وغیرہ اور بعض دامادی رشتہ کی وجہ سے حرام ہیں۔ جیسے بیوی کی ماں یعنی ساس اور بیوی کی دادی ، نانی ، بیٹی، پوتی وغیرہ ۔
اور بعض شرک اور کفر کی وجہ سے حرام ہیں جیسے مشرکہ اور کافرہ عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اور بعض غیر کی منکو حہ ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔ جب تک دوسرا خاوند طلاق نہ دے یا مر نہ جائے۔ اور بعض تعداد کے لحاظ سے یعنی اگر کسی کے نکاح میں چار نکاحی عورتیں موجود ہیں تو پانچویں یا اس سے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان سب کی دلیل مندرجہ ذیل آیتوں اور حدیثوں میں پڑھو ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:” جن عورتوں سے تمہارے باب داداﺅں نے نکاح کیا ہو تم ان سے نکاح مت کرو مگر جو گزر چکا وہ گزر چکا ، یہ بہت بے حیائی اور غضب کی بات تھی اور بہت ہی برا رواج اور دستورتھا۔ حرام کر دی گئیں تمہاری مائیں تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری بیبیوں کی مائیں اورتمہاری بیوی کی وہ لڑکیاں جو تمہاری پرورش میں ہوں بشرطیکہ تم ان بیبیوں سے ہم بسترہو چکے ہو۔ اگر ہم بستر نہ ہوئے تو ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور تمہارے سگے بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا مگر جو پہلے جو گزر چکا اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور خاوند والی عورتیں بھی حرام ہیں مگر جو باندھیاں تمہاری مملوکہ ہیں ۔ یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھا ہوا حکم ہے ان کے علاوہ تمہارے لئے وہ سب عورتیں اس طرح حلال ہیں کہ مال مہر کے بدلے میں ان کو طلب کرو ۔ پاک دامنی کی غرض سے نہ کہ شہوت رانی کے خیال سے۔“
ان آیتوں کی تشریح یہ ہے کہ (۱) جن عورتوں سے تمہارے باپ داداﺅں نے نکاح کیا ہے وہ تم پر حرام ہیں تمہاری سوتیلی مائیں ، سگی مائیں، سگی دادیاں ، نانیا، پرنانیاں وغیرہ ۔ بیٹیاں ، پوتیاں، نواسیاں وغیرہ (۴) پھوپھیاں یعینی باپ دادوں وغیرہ کی حقیقی یا اخیافی یا علاتی بہنیں ،(۵) خالائیں یا ماں کی خالائیں یا نانی کی یا باپ دادوں کی خالائیں۔ (۶) بھتیجیاں یا بھتیجیوں کی بیٹیاں وغیرہ (۷) بھانجیاں یا بھانجیوں کی بیٹیاں یا ان کی نواسیاں وغیرہ (۸) رضاعی مائیں یعنی جن عورتوں نے تم کو دودھ پلایا ہے۔ (۹) رضاعی بہنیں یعنی دودھ شریک بہنیں ۔
حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو عورتیں نسب سے حرام ہیں وہی رضاعت سےبھی حرام ہیں۔ ان کی مزید تشریح آگے آرہی ہے۔ (۱۰) ساس اورساس کی ماں نانی یا دادی وغیرہ ۔ (۱۱) سوتیلی بیٹیاں جن کی ماﺅں سے تم ہمبستر ہو چکے ہو۔ اگر ہم بستر نہیں ہوئے تو یہ حلال ہیں ۔ ( ۱۲ ) اور سگے بیٹیوں کی بیبیا ں ۔(۱۳) دو سگی بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع کرنا۔ یعنی بیوی کی موجودگی میں بیوی کی بہن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ (۱۴) شوہر والی عورتیں جن کے شوہر زندہ موجود ہیں اور ان کو طلاق نہیں دی گئی ہے۔ (بخاری)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نسب سے سات عورتیں حرام ہیں اور مصاہرت سے سات حرام ہیں پھر ”حرمت علیکم امھاتکم (الایة) تلاوت فرمائی۔ (بخاری)
(۱۵) بیوی کی موجودگی میں بیوی کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اگر بیوی مر جائے یا اس کو طلاق دے دی تب بیوی کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ (۱۶) بیوی کی موجودگی میں بیوی کی بھانجی یا بھتیجی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ بیوی کو طلاق دے دے یا وہ مر جائے تب اس سے نکاح جائز ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:” نہ نکاح کیا جائے عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں اور منع فرمایا اس سے کہ نکاح کیا جائے۔ عورت سے اس کی خالہ کی موجودگی میں یا خالہ سے اس کی بھانجی کی موجودگی میں اور نہ نکاح کیا جائے چھوٹی بڑی یا بڑی کو چھوٹی پر۔“
اور فرمایا: ”نہ جمع کیا جائے درمیان عورت اور اس کی پھوپھی کے، اور نہ جمع کی جائے درمیان عورت اور اس کی خالہ کے۔ “
اگر کوئی چار عورتوں سے زیادہ نکاح کئے ہو تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟:
چار کو رکھے اور باقی کو چھوڑ دے۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”چار کو رکھ لو اور باقی کو چھوڑ دو۔“
اگر جہالت کی وجہ سے دو بہنوں سے نکاح کر رکھا ہے تو ایک بہن کو رکھے اور ایک کو چھوڑ دے۔ حضرت فیروز الدیلمی فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جس کو چاہو اختیار کر لو اور ایک کو چھوڑ دو۔ “ (ترمذی)
کافر مشرکہ عورتوں سے مسلمان نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟:
مسلمان کو کافرہ مشرکہ عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ ایمان نہ لائیں تم نکاح نہ کرو۔ اور ایماندار لونڈی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہتر ہے گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور اپنی مسلمہ عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے مت کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ۔ ایماندار غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے گو مشرک تمہیں اچھے معلوم ہوں۔ یہ لوگ تمہیں جہنم کی طرف جانے کو بلاتے ہیں اور اللہ تمہیں جنت کی طرف اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلا رہا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ “ (البقرہ)
رضاعت
س: رضاعت کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا کیا احکام ہیں؟:
دودھ پلانے کو رضاعت کہتے ہیں، دودھ پلانے والی عورت کو مرضعہ کہتے ہیں اور دودھ پینے والے بچے کو رضیع کہتے ہیں۔ جب کسی بچے نے اپنی سگی ماں کے علاوہ کسی اجنبی عورت کا دودھ پی لیا تویہ اجنبی عورت دودھ پلانے کی وجہ سے اس بچے کی رضاعی ماں ہو گئی اور اس عورت کا خاوند اس بچے کا رضاعی باپ ہوگیا اور رضاعی ماں کی اولاد اس بچے کے دودھ شریکی بھائی بہن ہو گئے جو جو رشتے نسب سے حرام ہو جاتے ہیں وہی رشتے اس رضاعت (دودھ پینے) سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ اس لئے رضاعی ماں ، بہن، سگی ماں، بہن کی طرح حرام ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے دودھ پینے کے سب سے انہیں رشتوں کو حرام کیا جن کو نسب کے سبب سے حرام کیا ہے۔“
مگر رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوگی جب کہ شیر خواری کے زمانے میں دو سال کی عمر کے اندراندر پئے ہو۔ اگر جوانی یا بڑھاپے کی عمر میں پئے تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”رضاعت سے حرمت نہیں ہوگی مگر اس وقت جب کہ انتڑیوں کو چیر دے چھاتی سے پینے میں اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہی یعنی بچہ کی غذا صرف دودھ ہے اور معدے میں سوائے دودھ کے اور کچھ نہ جاتا ہو۔ جب ایسے بچپن کے زمانے میں دودھ پئے گا تب اس سے حرام ثابت ہوگی ورنہ نہیں۔
اگرکسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا نکاح کے بعد کوئی دوسری عورت آئی۔ اس نے کہا میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے تم دونوں آپس میں رضاعی بھائی بہن ہو۔ اور اس عورت کے علاوہ اس دودھ پینے کو اور کوئی نہیں بیان کرتا تو تنہا اس کی شہادت معتبر اور مقبول ہوگی یا نہیں؟:
مقبول ہوگی اور اس کے کہنے سے رشتہ ثابت ہو جائے گا۔ یہی مسئلہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث نے ایک عورت سے نکاح کر لیا تھا پھر ایک عورت نے آکر کہا میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ انہوں نے سسرال والوں سے دریافت کیا کسی نے نہیں بیان کیا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس مسئلہ کو دریافت کیا آ پ نے فرمایا اب کیسے رہ سکتے ہو۔ تو عقبہ ؓ نے چھوڑ دیا پھر اس عورت نے دوسرے سے نکاح کر لیا۔ “(بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  طلاق کی قسمیں

اپنا تبصرہ بھیجیں