childre world

ذہانت عمر کی محتاج نہیں ہوتی ،بچو!

EjazNews

آج ہم آپ کو ذہین ترین طالب علموں کے بارے میں بتاتے ہیں یہ وہ بچے ہیں جنہوں نے کمسنی میں ہی اپنا کام شروع کر دیا ۔ 12-13 سال کی عمرتک پہنچنے تک وہ عملی زندگی میں قدم رکھ چکے تھے۔ مائیکل جینی انہوں نے 10 سال کی عمر میں اینتھرو پالو کی ڈگری حاصل کی اس وقت وہ یہ ڈگری حاصل کرنے والے وہ کم ترین عمر طالب علم تھے۔ یہی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ لیکچرار بھی لگ گئے اور انہوں نے اپنے سے کہیں زیادہ عمر کے طالب علموں کو پڑھانا شروع کر دیا ۔
جیر می شولر 12 سال کے تھے ،جب انہوں نے کارلر یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے کورسز میں حصہ لیا۔ وہ 2 سال کی عمر میں بڑی اچھی کوریائی زبان اور انگریزی بول لیتے تھے۔
شو یانو نے لویا لا یونیورسٹی سے صرف 12سال کی عمر میں ڈگری حاصل کی وہ ڈاکٹر آف میڈیسن ہیں۔اور ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری انہوں نے شگاگو یونیورسٹی سے صرف 21سال کی عمر میں حاصل کی۔
عالیہ ثبور کا تعلق نیو یارک سے ہے انہوں نے 10 سال کی عمر میں سٹونی بروک یونیورسٹی میں داخلہ لیا،چند سال میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے جنوبی کوریا میں پروفیسر کی ملازمت کر لی وہ دنیا کی کم عمر ترین پروفیسروں میں شامل ہیں۔
دانش ابراہم نے 11 سال کی عمر میں3 ایسوسی ایٹ ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ 12 سال کے تھے جب انہوں نے بائیور انجینئرنگ کے بڑے کورس میں داخلہ لے لیا۔ یوسی ڈیوس یونیورسٹی ان کی منتظر تھی۔ رین فیرو ایکٹریس مائیا خلیفہ کے بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ کو صدر ٹرمپ نے سعودی عرب میں سفیر نامزد کیا ۔انہوں نے صرف 11 سال کی عمر میں بریڈ کالج میں داخلہ لیا اور16 سال کی عمر میں جیل لاءسکول میں داخل ہو گئے ان کا یہ کورس بھی ختم ہو چکا ہے۔

موشے کائے کیولن نے 12 سال کی عمر میں ایسٹ لاسٹ کالج میں داخلہ لیا۔ اورA پلس کے ساتھ انہوں نے اپنے کورسز مکمل کر لیا۔
سوجوری برٹ کی عمر صرف 14 سال تھی۔ انہوں نے مین ہیٹن سکول آف میوزک سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ او ر وہ وائٹ ہاﺅس میں سابق صدر اوبامہ کے دور میں پرفارم کر چکی ہیں۔
ایری ڈیمینی نے 12 سال کی عمر میں کینیڈا کی ان ہاﺅس زری یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ حیرت ناک بات ہے انہوں نے اس سے پہلے کوئی رسمی تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ 2000 میں وہ مسی چوسی یونیورسٹی کے پروفیسر بن گئے ۔
گریمتھ سمتھ نے اس وقت فرانسیسی زبان کیلکولیس اور فزکس پڑھنا شروع کی جب وہ صرف 10 سال کے تھے جبکہ یہ کورسز کالج کی سطح کے ہیں، انہوں نے رینڈلوف نیکون کالج میں داخلہ لیا۔ بچوں کے حقوق میں اعلیٰ پرفارمنس پر انہیں 5 مرتبہ نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ان کا شمار دنیا کے کم عمر بچوں میں ہوتا ہے جنہیں نوبل انعام کے لیے نامز کیا گیا۔ شو مئی قسمت انہیں یہ پرائز نہ مل سکا۔ کولن کاسل نے صرف 12 سال کی عمر میں ایکالوجی کی ڈگری کیلئے کالج میں داخلہ لے لیا۔
میکالے شوڈی لک یونیورسٹی آف فلپائن کی مایا ناز طالبہ ہیں صرف16 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا ڈگری کورس مکمل کر لیا اب ماسٹر کر نے کے بعد وہ فزکس میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں انہیں لاءسکول میں داخلے کا بھی اہل قرار دے دیا گیا ہے۔
14سالہ آرزو ایمبرﺅ نے نفسیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی بعد کے 2سال میں انہوں نے ایم بی اے بھی کرلیا اور ان دنوں وہ ایوی ایشن سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی کررہی ہیں ۔
14 سالہ کرسٹان پانگ ریاضی میں ماہر ہیں اور نیوزی لینڈ میں آکلینڈ یونیورسٹی کی طالبہ ہیں انہوں نے 12 سال کی عمر میں اپنا ڈگری کورس مکمل کیا۔ انہوں نے اسی یونیورسٹی میں ایک لرنگ ہب کی بنیاد رکھی ۔جو کرسٹان لرنگ ہب کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس میں طالب عملوں کو کورسز کروائے جاتے ہیں۔
جیرمی شولر نے 2 سال کی عمر میں انگریزی اور کوریائی زبان پڑھنا شروع کیں۔ 6 سال کی عمر میں کیلکولیس کی کتاب ان کے ہاتھ میں تھی جس وقت عام بچے مڈل سکولوں میں ہوتے ہیں ۔وہ 12 سال کی عمر میں کارنر یونیورسٹی کے ڈگری کورس کے کم عمر ترین طالب علم تھے۔ آئی وی یونیورسٹی کے مطابق وہاں ان سے کم عمر کسی بچے نے داخلہ نہ لیا۔ کارنر انجینئرنگ یونیورسٹی کا شمار دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ جہاں اس 12 سالہ بچے نے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔
جیرمی نے میتھ اور سائنس کے مضامین میں صرف 10سال کی عمر میں ماہرانہ جوابات دئیے ان کی ذہانت بے مثال تھی وہ کسی بھی طالب علم کوپیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ جیرمی کے پاپا اینڈری شومر لارڈ فیلڈ مارٹن میں کام کرتے ہیں۔اس طرح ایرو سپیس کے دوانجینئر تو ا س کے گھر میں ہی رہتے تھے۔
اپنی تمام تر تعلیم کے باوجود جیرمی ہے تو بچہ ہی ۔گھر میں اس کی شرارتیں بالکل بچوں جیسی ہیںاس کا کہنا ہے اس کی تعلیم میں اس کے مما اور پاپا نے بہت محنت کی۔ ان کی محنت کے نتیجے میں ہی صرف 15 مہینے میں وہ تمام انگریزی کے حروف پہچاننے لگا تھا۔21مہینے کی عمر میں اس نے انگریزی پڑھنا شروع کر دی۔ جبکہ کورین زبان اس کی مادری زبان تھی۔ 5 برس میں پہنچا تو دی لارڈ آف دی رنگز اس نے پڑھنا شروع کی۔ جرنی تھرو جینس بھی ختم کر ڈالی۔ اب چلڈرن گارڈن میں داخلہ لینا اس کے لیے بے معنی تھا۔ وہ اپنے ہم عمر بچوں میں بڑا عجیب لگتا وہ ان میں گھل مل نہیں سکتا تھا ۔ اس کے آئی کیواور عام بچوں کے آئی کیو میں بہت فرق تھا۔ وہ دوسرے بچوں کی طرح شور شرابا نہیں کرتا تھا اس کی بہت سی عادتیں بھی دوسرے بچوں سے بہت مختلف تھیںتاہم میتھ کے کیمپ میں وہ بہت خوش رہتا تھا۔ اسے اپنے جیسے بچوں کی تلاش تھی جوریاضی میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ اس لیے اسے اس کی عمر سے بڑی کلاس میں داخل کرادیا گیا جہاں اس سے دگنی عمر کے طلبہ اور کہاں وہ بھی اپنی کلاس کو انجوائے کرتا ہے اور اس سے کہیں بڑی عمر کے اس کے دوست بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  ملا نصیر الدین کا قرض

ڈگریاں حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔جلدی سے جلدی کریں تو بھی 18سال لگ جاتے ہیں۔لیکن دنیا میں ایسے سمارٹ بچے موجود ہیں جو کمسنی میں ہی ریکارڈ توڑ دیتے ہیں۔
مائیکل کیرنسی کا شمار ان ذہین بچوں میں ہوتا ہے جنہوں نے صرف 4 سال کی عمر میں اپنی ذہانت ظاہر کرنا شروع کی۔اسے ایک معذوری تھی ۔ جسے طبی زبان میں اے ڈی ایچ ڈی کہا جاتا ہے۔لیکن ایک ٹیسٹ میں اس کی ریاضی کی مہارتیں سامنے آگئیں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ صرف چند سال کی عمر کالج کے امتحان پاس کر سکتا ہے۔ چنانچہ جیرمی نے 6 سال کی عمر میں گریجوایشن کر لی اور6 سال کی عمر میں ہی اسے سانتہ روزجونئیر کالج میں داخل کرادیا گیا۔ جہاں اس نے 8 سال کی عمر میں جیالوجی کی ڈگری حاصل کر لی اور 10 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ بیچلر ڈگری حاصل کر چکا تھا۔ اس طرح وہ دنیا کا کم عمر ترین گریجوایٹ طالب علم ہیں۔ پھر اس نے بائیو کیمسٹری کو بائیو ڈگری کے لیے چنا۔ وینڈر بلٹ یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد اس نے کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لے لیا۔
موشے گائے کیولین کی دلچسپی ایسٹو فزکس میں ہے۔ اس نے صرف 8سال کی عمر میں ایسٹ لاسٹ کالج میں داخلہ لیا اور2009ءمیں گریجوایشن مکمل کرلی۔ اس کے نمبر متاثر کن تھے 4جی بی کے ساتھ پاس ہوا۔اسے کوئی جلدی نہ تھی اس لیے اس نے کچھ آرام کرنے کا فیصلہ کیا اور پھراس نے ایک کتاب لکھ ماری ۔ کتاب لکھنے کے بعد وہ دوبارہ ایسٹو فزکس میں داخلہ لینے کی سوچ رہا ہے۔
عالیہ ثبور نے اس وقت کتابیں پڑھنا شروع کیں جب وہ صرف8 ماہ کی تھیں وہ 8 ماہ کی عمر میں دوسرے بچوں سے ایلیمنٹری کتابیں پڑھ لیتی تھیں ۔ اساتذہ نے انہیں اپنے لیے ان فٹ پایا۔ ٹیچروں نے اس کی ماں کو اسے کسی یونیورسٹی میں داخل کروانے کی تجویز دی۔ تاہم وہ سٹونی یونیورسٹی میں داخل کروا دی گئی۔ عالیہ کوبراہ راست 4 گریڈ میں داخلہ دے دیا گیا۔ صرف 10 سال کی عمر میں وہ 4 گریڈ میں پڑھ رہی تھی۔ اپلائی میتھ میٹکس اس کا پسندیدہ مضمون ہے۔ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ۔گینزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق وہ دنیا کی کم عمر ترین پروفیسر ہیں اور سیول میں اپنے سے کہیں بڑے طالب علموں کو لیکچر دے رہی ہے۔ وہ تھنکر بھی ہے اور ریسرچر بھی اور ناسا سے کئی ایوارڈ جیت چکی ہے۔
ادرگن ڈی میلو ہمیشہ سے ایک ذہین طالب علم تھا۔اس نے صرف 11سال کی عمر میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں داخلہ لیا اس کے باپ کی بڑی خواہش تھی کہ وہ18 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی بھی کرلے اور نوبل انعام بھی جیت لے مگر یہ دباﺅ بہت زیادہ تھا جو وہ برداشت نہ کر سکا اور کچھ عرصے کے لیے بیمار پڑ گیا۔ ماں باپ کی بھی علیحدگی ہو گی جس سے اس کی شخصیت بہت متاثرہوئی اورتعلیم ادھوری رہ گئی ورنہ شاید وہ نوبل انعام جیت جاتا لیکن اس تمام وقت کے ضیاع کے باوجود وہ اس وقت وزارت داخلہ سے منسلک ہے۔ اپنی ناکام خواہشات کے بارے میں اسے کوئی فکر نہیں یہ تو پاپا کی خواہشات تھیں اس کی نہیں ۔ اس لیے انہیں نہ پانے کا کوئی غم نہیں۔
گریگری سمتھ اس کی ذہانت پر کبھی کسی کو شک نہیں تھا۔ 14 مہینے کی عمر میں وہ فرفر کتابیں پڑھتا تھا۔ 18 مہینے کی عمر میں وہ اپنے سے بڑے طالب علموں کے مسئلے حل کر دیا کرتا تھا۔ ایلیمنٹری سکول کی تعلیم تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھی۔ صرف1 سال میں اس نے یہ ساری کتابیں پڑھ ڈالیں اوراگلے سال ہی رینکرو ڈان کالج میں داخلہ لے لیا اس وقت وہ صرف 12 سال کا تھا اس وقت وہ ریاضی میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے ۔ یہ اس کے منصوبے کی پہلی ڈگری ہے یہ13 سالہ بچے ایسٹ تیمور، ریوانڈہ اور ساﺅتھ پالو میں بھی ایک رضا کار کے طور پر کام کرچکاہے۔
کولر کارسن 13 سالہ کولر کارسن نے بائیالوجی میں یونیورسٹی سے ڈگری لی اس کی دلچسپی ایکو سسٹم میں ہے۔ اس نے جنوبی افریقہ میں فیلڈ ورک بھی کیا جہاں اس کی ماں بھی اس کے ساتھ رہی۔
ایگریڈ جسوال کو کم عمر ترین ڈاکٹر کہا جاسکتا ہے۔ اس نے 7 سال کی عمر میں 8 سال کی بچی کا آپریشن کیا۔ایک غریب خاندان کی بچی بیمار تھی اسے سمپل سرجری کی ضرورت تھی۔ اس کی انگلیاں جڑی ہوئی تھیں ان کوکاٹ کر الگ کرنا تھا۔اس میں وہ بہت کامیاب رہا۔ جسوال نے بعد میں کیمسٹری، ضیالوجی میں ڈگریاں حاصل کیں ۔ اب ہاورڈ یونیورسٹی سے میڈیسن کی ڈگری اس کا خواب ہے جس کو وہ پالے گا۔
کیتھرین گل ۔صرف 10 سال کی عمر میں کیتھرین نے کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ قانون میں اس کی بہت دلچسپی تھی ۔ فلسفے کا بھی شوق تھا ۔ اس نے صرف 15 سال کی عمر میں فلسفہ اورقانون دونوں کی ڈگری حاصل کرلی جس کے بعد اسے صرف 18 سال کی عمر میں کیلی فورنیا بار ایسوسی ایشن کا لائسنس مل گیا اب وہ بزنس لٹریسی ایسوسی ایشن کے لیے اٹارنی کا کام کر رہی ہے۔ وہ بڑے بڑے مگرمچھ وکلا کے مقابلے میں کیس جیت چکی ہے۔
شو یانو ۔آپ حیران ہوں گے یہی وہ بچی ہے جس کے آئی کیو کو دنیا کا سب سے بہتر مانا جاتا ہے۔ اس کا آئی کیو 2سو تھا آج دنیا میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جس کا آئی کیو اس کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔صرف 8سال کی عمر میں وہ کالج میں داخل ہو گئی اورامتحانوں میں اس کے نمبر انتہائی زیادہ تھے۔ 9 سالہ یانو نے یونیورسٹی میں ڈگری کورسز کرنا شروع کر دئیے۔ اس کی دلچسپی مضمون نگاری، بائیالوجی ، میتھ اورکیمسٹری میں تھے ۔شگاگو یونیورسٹی میں وہ اس کے پسندید ہ مضمون تھے۔ 12 سالہ گریجوایجویٹ نے میڈیکل سائنٹسٹ ٹریننگ پروگرام میں کامیابی حاصل کر لی اب اسے ڈاکٹر آف میڈیس اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کا انتظار ہے وہ مائیکولر جنیات سیل بائیالوجی میں پی ایچ ڈی کر چکی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  سوتیلی ماں کا پیار
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں