marriage

کافروں اور بیوگان کے نکاح بارے احکامات

EjazNews

اگر میاں بیوی دونوں کافر تھے پھر دونوں مسلمان ہو گئے تو ان کا پہلا نکاح باقی رہے گا یا دوبارہ نکاح کرایا جائے گا؟:
کافر جو اپنے مذہب کے موافق نکاح کرتا ہے اور جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ اسلامی حیثیت سے اس کے لئے حلال ہے تو دونوں کے مسلمان ہوجانے کے بعد نکاح باقی رہے گا۔ دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں میاں بیوی مسلمان ہو جاتے تھے ان کا نکاح دوبارہ نہیں کیا گیا۔
اگر آگے پیچھے مسلمان ہوں تو عدت کے اندر ہی نکاح ہونے سے نکاح باقی رہے گا۔ عدت کے بعد نکاح جدید کی ضرورت پڑے گی۔ (ترمذی)
اور اگر ایک کافر رہا اور دوسرا مسلمان تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اگر عورت مسلمان ہوئی تو کافر کے نکاح میں نہیں رہ سکتی اور اگر مرد مسلمان ہوا ہے تو کافرہ عورت کو اپنے نکاح میں نہ رکھے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”یہ مسلمان عورتیں کافر مردوں کے لئے حلال نہیں اور نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کے لئے حلال ہے۔“۔”اور کافرہ عورتوں کو مت رکھو۔“
بیوہ عورتوں کا نکاح
بیوہ عورتوں کا نکاح کرناجائز ہے یا نہیں۔ اگر کوئی بیوہ عورتوں کا نکاح جائز نہ سمجھے تو وہ کیسا ہے؟:
بیوہ کا نکاح کرنا اور بیوہ سے نکاح کرنا سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے حضرت عائشہ ؓ کے باقی سب بیوہ عورتوں سے نکاح کیا ہے آپ کی بعض صاحبزادیاں بیوہ ہو گئیں تھیں آپ نے ان کا دوبارہ نکاح کیا۔ حضرت رقیہ ؓ کا ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا۔ اس کے بعد حضرت عثمان ؓ سے ہوا۔ اور حضرت اُم کلثوم ؓ کا ابو لہب کے دوسرے بیٹے سے ہوا تھا۔ بعد میں حضرت رقیہ ؓ کے انتقال کے بعد حضرت عثمانؓ سے ہوا ۔ حضرت فاطمہؓ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ کا نکاح پہلے حضرت عمرؓ سے ہوا تھا۔ بعد میں حضرت جعفر کے صاحبزادہ حضرت عونؓ سے ان کے انتقال کے بعد ۔ حضرت جعفر کے دوسرے صاحبزادے حضرت محمد ؓ سے پھر ان کے انتقال کے بعد حضرت جعفر کے تیسرے صاحبزادے حضرت عبداللہ ؓ سے ہوا۔ حضرت عثمان کی ہمشیرہ کا نکاح پہلے زید بن حارثہؓ کے ساتھ ہوا تھا۔ جب شہید ہو گئے تو زبیر بن عوام سے ہوا ۔ جب ان کابھی انتقال ہوگیا تو تیسری دفعہ عمر بن عوف سے ہوا۔ ان کا بھی انتقال ہو گیا تو چوتھی دفعہ عمرو بن عاص بن عو ف سے ہوا اور بھی بہت سی متعدد مثالیں ہیں۔ (تقویة الایمان)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا تھا کہ علی ! جب بیوہ عورتوں کاجوڑا مل جائے تو فوراً اس کا نکاح کر دو۔ (ترمذی)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”تم بیوہ عورتوں اور اپنے نیک غلاموں کا نکاح کردو اور نیک باندیوں کا بھی نکاح کر دیا کرو۔“ (النور)
اگر وہ مفلس و غریب ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو غنی کر دے گا۔
بہر حال بیوہ عورتوں کا دوبارہ نکاح کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اگر کوئی اس کو باعث عار سمجھے یا اس کو جائزنہ سمجھے تو وہ بہت ہی برا ہے۔ جو بیوہ عورتیں شرم و عار کی وجہ سے نکاح نہیں کرتی ہیں وہ بہت بری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو نیک ہدایت کرے۔ (آمین)

یہ بھی پڑھیں:  طلاق کا بیان(۴)

اپنا تبصرہ بھیجیں