wife and husband

ازدواجی مشکلات کے اسباب

EjazNews

حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے لیکن میرے تجربات کی روشنی میں وہ مشکلات جو شادی شدہ مرد و عورت کے تعلقات میں بار بار پیش آتی ہیں وہ بنیادی طور پرچار ہیں۔
۱۔ نفسیاتی حالت جوکسی شخص کی گفتگو سے پہلے اور بعد کو ہوتی ہے۔
۲۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کا گفتگو کے مقصد کو نہ سمجھنا اور دوسرے فریق کی بات نہ سننے کی ٹھان لینا ۔اس لیے کہ مردوں کی زبان عورتوں کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
۳۔ دونوں فریقوں کا اپنی فکر پراڑے رہنا اورصحیح ڈھنگ سے اس مشکل کا حل نہ جاننا۔
۴۔ گفتگو کا غصہ میں بدل جانا جو کسی موڑ پر آ جاتا ہے۔ اور لمبے عرصہ تک اندرونی جلن کوجنم دیتا ہے یہاں تک کہ اس مشکل کے ختم ہوجانے کے باوجود وہ باقی رہتی ہے۔
اور اس کا اثر ہمیشہ رہتا ہے جو ہر دوسرے جھگڑے پر ظاہر ہوتا ہے۔ اگر یہ مشکلات ان چار اسباب کا براہ راست نتیجہ نہ ہوں تب بھی حقیقت یہ ہے کہ وہ میاں بیوی میں غیرمحسوس طریقے سے انھیں اسباب میں سے کسی ایک کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
کچھ دوسرے ذیلی اسباب بھی ہیں جن کو ہم مختصراً یوں کہہ سکتے ہیں۔
۱۔ میاں بیوی کی زندگی میں عزیزواقارب کی دخل اندازی۔
۲۔ میاں بیوی کے جنسی تعلقات کی ناکامی یا کسی ایک کا غیر قانونی تعلقات کا شکار ہو جانا۔
۳۔ عناد چیلنج اور وہ طرز کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت توڑنے کا انداز
۴۔ دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کو اہمیت نہ دینا اور ردعمل والے جذبات کا مظاہرہ کرتے رہنا۔
۵۔ از دواجی زندگی کی ذمہ داریوں کو نبھانے میں شوہر کی کمزوری اور بیوی کو مورد الزام ٹھہرانا۔
۶۔ بانجھ پن یا دونوں میں سے کسی ایک کی خاندانی بیماریوں کے سبب بیوی کی طرف سے حمل ٹھہر نے میں دیر۔
۷۔ میاں بیوی کے درمیان ثقافتی یا اجتماعی بنیادوں میں فرق۔
۸۔ بے موقع بحث و مباحث۔
۹۔ معاشی بدحالی، شوہر کا گھریلو اخراجات پورے نہ کر نا اور بیوی کا بہتر زندگی کا خواب دیکھنا۔
۰۱۔ پہلی بیوی کے علم اجازت کے بغیر شوہرکا دوسری شادی کر لینا۔
اختلاف ہمیشہ رہیں گے
ماہرین نفسیات واجنہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا میں کوئی انسان دوسرے انسان سے صد فی صد مطابق نہیں ہے۔ خواہ ان میں کتنی مشابہت اور ایک جیسی باتیں ہوں یہاں تک کہ جڑواں بچے بھی۔ یہ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ایک ہی ماں کے جڑواں بچے ہوں دونوں کی پرورش ایک ہی ماں سے ہوتی ہو تب بھی ایک بچے کی طبیعت اس کا سلوک اور شعور دوسرے سے جدا ہی رہے گا۔ پھر آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جب آپ کی بیوی آپ سے بالکل جدا اورمختلف ماحول سے نکل کر آئی ہے اس کی پرورش ایک متعین ماحول اور آپ سے مختلف اصولوں اور خیالات میں ہوئی شادی سے پہلے جو آپ کے اصول وقواعد تھے اس سے مختلف اصول وقواعد اسے سکھلائے گئے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں دو مرحلوں سے گزرتا ہے، ایک شادی سے پہلے جسے سیکھنے کادور کہا جاتا ہے اور دوسرا شادی کے بعد جسے عملی طور پر کرنے کا دور کہا جاتا ہے ۔پہلے مرحلہ میں اعتقادات اصول اور تربیتی اقدار بنتے ہیں جن کو انسان اپنے والدین سے سیکھتا ہے اور گھر کے ماحول میں جوانسان کے عقیدہ کا ایک جز بن جاتا ہے وہ اس کے مطابق چل پڑتا ہے۔ اور عمل کرتا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں وہ ان اعتقادات و افکار کوعمل میں لاتا ہے جس کے تحت اس کی شخصیت اس گھر میں بنتی ہے جس میں وہ بیوی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے تو کیا آپ خودمحسوس نہیں کرتے کہ اپنی بیوی کے ساتھ آپ کا اختلاف فطری معاملہ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
” وہ پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ،خواہ وہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں خواہ خودان کے اپنے اندرون ہوں خواہ وہ چیزیں ہوںجنھیںیہ نہیں جانتے ہیں۔“ (سورہ یٰسین)
عمر کے ساتھ ساتھ مشکلات کی تبدیلیاں:
ازدواجی مشکلات کے اسباب مختلف ہوتے ہیں لیکن عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس لحاظ سے مختلف ہو جاتے ہیں۔ انسان عمر کا ایک حصہ جیسے ہی طے کر لیتا ہے اس کے اطراف کا ماحول بدل جاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں کبھی نظر آتی ہیں جیسے جسمانی تبدیلیاں جو کسی شخص پر زندگی کے مختلف مراحل میں پیش آتی ہیں جیسے جسمانی کمزوری ، سلوٹوں کا ابھرنا، بالوں کی سفیدی وغیرہ۔ اور کبھی نظروں سے پوشیدہ ہوتی ہیں کیونکہ وہ کسی فرد کے رویہ سے پیدا ہوتی ہیں جس رویہ کو ایک شخص فطری طور پر ، نہکہ جان بوجھ کر اپناتا ہے۔ ان تبدیلیوں کو طرف اس میدان کے ماہر ین ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر تیرمان (انسٹار فورڈ یونیورسٹی میں ازدواجی تعلقات کے ماہر تھے) ڈاکٹر تیرمان نے شادی شدہ افراد کی بڑی تعداد کے حالات اور ان کی عمروں کے لحاظ سے پیش آنے والی تبدیلیوں کے گہرے مطالعے کے بعد ان مشکلات کی نوعیت مقرر کی جو شادی کے بعد ایک متعین عمر گزرنے پر پیش آتی ہے۔ انہوں نے ان اسباب کی فہرست بھی تیار کی جس کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہے۔ جنہیں میاں بیوی آپس میں مشترکہ زندگی کے سفر میں ایک دوسرےپر اچھالتے رہتے ہیں۔
پہلے سال شادی شدہ زندگی میں جو مسائل کھڑے ہوتے ہیں دوسرے سال اس سے مختلف پیش آتے ہیں ایسے ہی تیسرے اور چوتھے سال اور بعید کی زندگی میں۔
یہ بلاشبہ میاں بیوی کے حالات کے لحاظ سے جو بدلتے ہوئے واقعات اور اس پر ان کا موقف وغیرہ کے لحاظ سے ہوتا ہے نفسیاتی امراض کے ایک ڈاکٹر اور انسانی تعلقات کے ماہر مسٹر اہیل نے کسی شادی شدہ زندگی کے طویل عرصہ میں جو مسائل پیش آتے ہیں ان کوتین بنیادی قسموں میں تقسیم کیا ہے جو یہ ہیں۔
پہلی قسم:
بکھر جانے کی مشکل یعنی خاندان کے کسی فرد کی موت یا بیماری یا لمبا سفر یاجیل کی سزا۔
دوسری قسم:
افراد کا بڑھنا یا ان کا اضافہ یعنی کسی تیاری کے بغیر خاندان میں نئے عضو کا جنم لینا جیسے آج کل حمل جس کی خواہش نہ ہو۔ دوسری شادی شوہر کی طرف سے، کسی بوڑھے کو میاں بیوی کے ساتھ رکھنے کاارادہ۔
تیسری قسم:
اخلاقی انحطاط جیسے شوہر کا خطرناک حالت میں مبتلا ہو جانا مثلاً نشہ کی حالت، ازدواجی خیانت وغیرہ وہ حالتیں جن سے کوئی خاندان بدنام اور رسوا ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سپر وویمن بننے کی بجائے زندگی میں ترتیب پیدا کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں