marriage

نکاح میں ولی کی کیا اہمیت ہے؟

EjazNews

ولی کسے کہتے ہیں؟ اور وہ کون ہیں اور بغیر ولی کے نکا ح کرنا جائز ہے یا نہیں؟:
لُغت میں ولی کے معنی دوست کے آتے ہیں اور خدا کے جاننے والی کو بھی ولی کہتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ خدا کی عبادت کرتے کرتے خدا کا دوست ہو جاتا ہے اور شرع میں عاقل، بالغ ، وارث کو کہتے ہیں ۔ جس کا قول دوسرے پر نافذ ہو۔ اس کی کئی صورتیں ہیں۔(۱) قرابت جیسے باپ بیٹی کا نکاح کر دے۔(۲) دوسرے آقا اپنی لونڈی غلام کا نکاح کر دے۔ (۳) حاکم جو لاوارث کا نکاح کر دے۔
نکاح میں ولی سے یہ مراد ہے کہ اس کے خاندان میں جو مرد سب سے زیادہ قریب ہو وہی اس کا ولی و سرپرست ہے۔ جیسے باپ، دادا، بھائی وغیرہ۔ ولی قریب مقدم ہے، ولی بعید پر۔ روضۃ الندیہ صفحہ۱۲، ج ۲ میں ہے ،ولی وہی لوگ ہیں جو عورت کے ایسے قریب رشتہ دار ہوں جن کو اس کے بغیر رشتہ میں شادی کرنے سے ذلت اور حقار ت ہو۔ جس قریب رشتہ دار کو اس عورت کی جانب سے عار اور ذلت لاحق ہو وہی اس کا ولی ہے، یہ عصبات ہی کے ساتھ مخصوص نہیں۔ان کے غیر میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض رشتہ دار کو بہ نست بعض کے اس میں زیادہ دخل ہوتا ہے ۔پس باپ بیٹے بہ نسبت ان کے غیر کے زیادہ حقدار ہیں، پھر ان کے بعد ان کے سگے بھائی، پھر سوتیلے بھائی، پھر پوتے، پھر نواسے، پھر بھتیجے اور بھانجے پھر چچے اور ماموں اسی طرح ترتیب سے ان کے علاوہ ۔ خلاصہ یہ کہ اس کے عصبہ اور ذوی الارحام علی الترتیب ولی ہیں اور اگر رشتہ داروں میں سے کوئی نہیں ہے تو مسلمان بادشاہ ولی ہے جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کا ولی نہیں تو بادشاہ اس کا ولی ہے اور ولی کا مسلمان اور عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے۔ کافر اور نابالغ اور پاگل ولایت کے قابل نہیں ۔‘‘ (ترمذی ،ابودائود)
کیا بالغہ یا نابالغہ کا نکاح بغیر ولی کے ہو سکتا ہے یا نہیں؟:
ہر گز نہیں ہو سکتا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بغیر ولی کے نکاح نہیں ہوسکتا۔ جس عورت نے بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کر لیا تو اس کا نکاح باطل ہے۔‘‘ (ترمذی)
ایک اور جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بغیر ولی اور دو سچے گواہوں کے نکاح نہیں ہوسکتا۔‘‘(احمد)
اگر دو ولیوں نے دو جگہ نکاح کر دیا ہے، ایک ولی نے ایک جگہ کیا، دوسرے ولی نے دوسری جگہ نکاح کر دیا تو نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟:
جس نے پہلے کیا ہے اس کا کیا ہوا صحیح ہوگا اور جس نے بعد میں کیا ہے اس کا باطل ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس عورت کا نکاح اس کے دو ولیوں نے کیا ہے تو پہلے کا کیا ہوا صحیح ہے۔ ‘‘(ترمذی)
اور اگر ایک ساتھ دونوں کیا تو دونوںکا کیا ہوا باطل ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)
کیا عورت ولیہ ہوسکتی ہے؟:
نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہیں کر سکتی اور نہ خود ہی اپنا نکاح (بغیر ولی کے)کر سکتی ہے کیونکہ جو عورت خود اپنا نکاح کر لیتی ہے، وہ زنا کار ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)
نکاح میں شہادت (گواہی)کا بیان
کیا نکاح میں گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہے؟
دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔
قرآن مجید میں ہے: دو اچھے گواہوں سے گواہی دلائو۔‘‘ (الطلاق)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بغیر ولی اور بغیر دو سچے نیک گواہوں کے نکاح نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ (البیہقی)
اور فرمایا:
’’نکاح میں چار آدمیوں کا ہونا ضروری ہے، (۱) ولی، (۲)زوج(۳۔۴) دو گواہ۔‘‘(دارقطنی)
’’دو نیک مسلمانوں کی گواہی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ ‘‘(مغنی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو عورتیں بغیر گواہ کے اپنا نکاح کر لیتی ہیں وہ زانیہ ہیں۔‘‘ (ترمذی)
نکاح میں وکیل ہونے کا کیا مطلب ہے؟:
جس کو نکاح کر دینے کی اجازت دی جائے اس کو وکیل کہتے ہیں۔اجازت دینے والے کو مؤکل کہتے ہیں اور بغیر اجازت کے نکاح کر دینے والے کو فضولی کہتے ہیں۔ فضول کا نکاح اجازت پر موقوف ہوتا ہے اور وکیل کا کیا ہوا نکاح ہو جاتا ہے ۔ مثلاً ہندہ کا کوئی رشتہ دار ولی اور سرپرست نہیں ہے اور اس نے کسی حاکم یا بڑے آدمی سے کہا کہ آپ میرا نکاح کر ادیجئے اور اس نے کر دیا تو یہ نکاح صحیح ہو جائے گا۔ ایک صحابیہ خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وکیل بنایا تھا ۔ آپ ﷺنے اس کا نکاح ایک صحابی سے کر دیا تھا۔ (بخاری)
کفاءت اور کفو کسے کہتے ہیں اور نکاح میں کفو کے ہونے کا کیا مطلب ہے؟:
اس کے معنی مثل اور برابری کے ہیں اور نکاح میں کفو اور برابری سے یہ مراد ہے کہ دونوں میاں بیوی دین میں برابر ہوں یعنی دونوں مسلمان ہوں اور نسب و حسب، مال و جمال، حرفت و پیشہ میں برابر ہوجائے تو اچھا ہے، اگر نہ ہو تو ضروری نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان تین چیزوں میں دیر نہیں کرنی چاہئے (۱) نماز کا وقت جب آجائے (۲) جنازہ جب تیار ہو جائے (۳) بے شوہر والی عورت کا جب جوڑا پائو فوراً نکاح کر دو۔ ‘‘ (ترمذی)
ترمذی میں ہے ’’جب کوئی ایسا شخص پیغام بھیجے جس کے دین اور عادت سے تم خوش ہو تو نکاح کر دو۔ نہیںکرو گے تو زمین میں فسا د پھیل جائے گا۔ ‘‘
اور فرمایا کہ حسب ، مال ، جمال اور دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے تم دیندار کو ترجیح دو۔ ‘‘ (بخاری)
شریف وہ ہے جو خدا سے ڈرنے والا ہو۔ بہر حال نکاح میں دینی اور اسلامی برابری ضروری ہے۔ صحابہ صحابیہ کا نکاح بغیر حسب ، نسب، مال کر دیا جاتا ہے۔ (بخاری)
نکاح کا پیغام دینا کیسا ہے اور دوسرے کی منگنی پر پیغام دینا کیسا ہے ؟:
پیغام دینا سنت ہے اور جب پیغام دینے سے دونوں طرف سے راضی ہو جائیں اور بات پکی ہو جائے تو دوسرے کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس پر پیغام دے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اور اپنے مسلمان بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے۔ البتہ اگر وہ اس پیغام کو چھوڑ دے یا دوسرے پیغام دینے والے کو اجازت دے تو جائز ہے۔ ‘‘ (بخاری)
’’نکاح کرنے والا خود ہی پیغام دے تو جائز ہے۔‘‘ (بخاری)
’’عدت کے اندر پیغام دینا حرام ہے۔‘‘ (قرآن مجید )

یہ بھی پڑھیں:  سوگ کا بیان

اپنا تبصرہ بھیجیں