go india go

بنیادی انسانی حقوق اور حق خودارادیت

EjazNews

بین الاقوامی قانون کا SUBJECT تو ریاستیں ہیں، تاہم اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا OBJECT افراد ہیں۔ انسانی حقوق کو بین الاقوامی قانون کے بعض ماہرین ’’انسانیت کے حقوق ‘‘ (RIGHTSOF MANKIND) بھی کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے متعلق کوئی بھی قانون وضع کرنے کی حتی کہ اپنے شہریوں کے حقوق سلب کرنے کی بھی مجاز ہے۔ لیکن یہ خیال درست نہیں۔ گروٹیں GRATIUS سے لے کر زمانہ حال تک بین الاقوامی قانون کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایک ریاست اپنے باشندوں سے ایسا رویہ اختیار کرے جس سے بنیادی انسانی حقوق ۔حفظ جان و مال، آزادی مذہب وضمیر وغیرہ- کی نفی ہوتی ہوں تو کوئی بھی دوسری ریاست، ایسی ریاست کے معاملات میں دخل اندازی کر سکتی ہے۔
انسانی حقوق کا سب سے پہلا بنیادی اور جامع چارٹر خطبہ حج الوداع ہے جو روئے زمین کے انسانوں کو وہ بنیادی حقوق عطا کرتا ہے جن کے لیے انسان صدیوں سے تگ و دو کر رہا ہے۔ دور جدید میں انسانی حقوق کی جدوجہد کا آغاز 1215ء میں انگلستان سے ہوا۔ 15 جون 1215، کو آزادی کے عظیم منشور (THE GREAT CHARTER OF LIBERTIES) یعنی میگنا کارٹا (MAGNA CARTA) پر انگلستان کے بادشاہ اور نوابوں نے دستخط کیے جس میں افراد کے چند بنیادی حقوق ۔ عدالتی انصاف، انسانی عظمت و وقار اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں انگلستان کی پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین وضع کیے جن میں 1682ء میں PETITION OF RIGHTS, 1679ء میں HABEAS CORPUS ACT اور 1689ء میں ACT OF SETTLEMENT قابل ذکر ہیں۔ فرانس کی نیشنل اسمبلی نے 1789ء میں آدمی اور شہریوں کی آزادی کے اعلان DECLARATION OF THE RIGHTS OF MAN AND CITIZEN کو اپنایا۔ امریکہ اور فرانس کے دساتیر میں بنیادی حقوق کو تحفظ دیا گیا۔
یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد سیاسی آزادی اور ٹریڈ یونین تحریک کے باعث انسانی بنیادی حقوق کی جد وجہد ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ 1929ء میں بین الا قوامی قانون کے انسٹی ٹیوٹ نے ’’آدمی کے بین الا قوامی حقوق‘‘ (INTERNATIONAL RIGHTS OF MAN) کا اعلامیہ جاری کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ہر ریاست کا فرض ہے کہ وہ آدمی کا برابری کی بنیاد پر زندگی بسر کرنے کا حق، حق آزادی اور حق جائیداد تسلیم کرے۔

کشمیر میں انسانیت سڑکوں پر باندھ کر کچھ یوں ذلیل ہو رہی ہے

دنیا میں نوآبادیاتی نظام کے زوال اور خاتمے پر’’ لوگوں کے حقوق‘‘ RIGHTS OF THE PEOPLE))ایک اہم بین الاقوامی مسئلے کی صورت اختیار کر گئے۔ لوگوں کے حقوق میں سر فہرست حق خودارادیت (RIGHT OF SELF DETERMINATION) ہے۔ چنانچہ 14 اگست 1941ء کے بحر اوقیانوس کے چارٹر(ATLANTIC CHARTER) اور یکم جنوری 1942 ء کے اعلان اقوام متحدہ ( DECLARATION OF THE UNITED NATIONS) میں اعلان کیا گیا کہ دشمن پر مکمل فتح اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کے عوام کی زندگی، سیاسی اور مذہبی آزادی و خود مختاری اور انسانی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی تمہید میں اقوام عالم نے پختہ عزم کے ساتھ عالمی امن کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی عظمت پراپنے ایمان کی توثیق کی ہے۔ چارٹرکے آرٹیکل 1 میں اقوام متحدہ کے مقاصد کا ذکر ہے جن میں انسانی حقوق خودارادیت اور انسانی آزادی کی قدرو منزلت کو اجاگر کرنا، عالمی برادری کو ان پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دینا اور اس ضمن میں عالمی برادری میں تعاون پیدا کرنا اور ان حقوق کی ترقی و ترویج شامل ہیں۔ آرٹیکل 13 کے تحت جنرل اسمبلی کو یہ فرض سونپا گیا ہے کہ وہ مندرجہ بالا مقاصد کے حصول اور اقوام عالم کو ان پر عمل پیرا کرنے کے لیے مطالعاتی کام کرے اور اپنی سفارشات پیش کرے۔ آرٹیکل 55 کے تحت اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل ECONOMIC AND SOCIAL COUNCIL OF THE) (UNITED NATIONS کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام لوگوں کے لیے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے عالمی برادری میں عزت و تکریم پیدا کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی سفارشات اقوام متحدہ کو پیش کرے۔ کونسل کو یہ فرض بھی سونپا گیا ہے کہ وہ تمام انسانی حقوق کی ترویج کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے۔ آرٹیکل 56 میں اقوام متحدہ کے تمام ارکان نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 55 کے مقاصد کے حصول کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اقدامات کریں گے اور کونسل سے تعاون کریں گے۔ جیپسپ اور اوپن ہائم جو بین الاقوامی قانون میں سند کی حیثیت رکھتے ہیں، کی رائے ہے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے ، اس لیے انسانی حقوق اور لوگوں کے حق خودارادیت کی عزت و تکریم اور اس کی ترویج رکن ملکوں پر ایک قانون کی طرح فرض ہے۔
دسمبر 1948ء میں جنرل اسمبلی نے شہرہ آفاق عالمگیر انسانی حقوق کا اعلان UNIVERSAL DECLARATION OF HUMAN RIGHTS منظور کیا جس میں ان انسانی حقوق کی تفصیل دی گئی ہے جو دنیا کے ہر انسان کو ملنے چاہئیں۔ ان حقوق میں دیگر حقوق کے علاوہ انسانی آزادی، قا نون کے سامنے برا بری، تحریر و تقریر، سوچ و ضمیر اور آمدورفت کی آزادی، عدالت انصاف اور غیر جانبدارانہ مقدمہ کے بغیر جیل میں نہ رکھنا، پرامن جلسے و جلوس اور سماجی تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔ 16 دسمبر 1966ء کو انسانی حقوق کے کمیشن کے تجویز کردہ دو عہد نامے شہری و سیاسی حقوق کا عہد نامہ COVENANT ON CIVIL AND POLITICAL RIGHTS اور معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا عہد نامہ ، COVENANT ONECONOMIC SOCIAL AND CULTURAL RIGHTS منظور کیے۔ دو نوں عہد ناموں میں لوگوں کے حق خود ارادیت کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یکم اگست 1975ء کو اعلان ہیلسنکی (HELSINKI DECLARATION) پر 30 ممالک نے دستخط کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق اور لوگوں کے حق خود ارادیت کی توثیق کی۔ جنرل اسمبلی نے دسمبر 1966 میں بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق INTERNATIONAL COVENANT OF CIVIL AND POLITICAL RIGHTS اپنایا۔ یہ عہد نامہ صفر کے مقابلے میں 106 ممبران کے ووٹوں سے منظور ہوا۔ اس کے آرٹیکل 1 کے پیراگراف کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
’’خودارادیت تمام لوگوں کا حق ہے۔ اس حق کی بنا پر وہ آزادانہ طور پر اپنے سیاسی مرتبے (POLITICAL STATUS) کا تعین کرتے ہیں اور آزادانہ طور پر اپنی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کہیں زحمت نہ بن جائے

جنرل اسمبلی نے نسل کشی کا کنونشن (GENOCIDE COVENANT) منظور کیا جس میں نسل کشی کو قا بل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ نسل کشی کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ ایسے تمام اقدامات جن کے ذریعے کسی قوم، مذہبی، لسانی یا نسلی گروہ کی بیخ کنی کے لیے اس کے افراد کو قتل کیا جائے یا افراد کو اس نیت سے ذہنی اور جسمانی ایذا دی جائے کہ وہ قوم یا گروہ نیست و نابود ہوجائے، نسل کشی کا جرم کہلائے گا۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو ملکی یا غیر ملکی بین الاقوامی عدالتوں کے ذریعے سزا دی جا سکتی ہے۔ 10 نومبر 1975ء کو جنرل اسمبلی نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے عام انسانیت کے لیے حق خودارادیت کی اہمیت پر پھر زور دیا ہے۔
انسانی حقوق اور حق خودارادیت کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں جدوجہدہوتی رہی اور دنیا کے بیشتر ممالک کی آزادی حق خودارادیت کے مسلمہ اصول کی بناء پر عمل میں آئی۔ جنوبی رہوڈیشیا اور نمیبیا کی آزادی، انسانی بنیادی حقوق کی جدوجہد کے نتیجے میں عمل میں آئی اور ان علاقوں میں کمیونسٹ اور آمرانہ حکومتوں کا خاتمہ ہوا۔ فلسطینی عوام کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ اور پوری دنیا میں اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ حال ہی میں مشرقی یورپ اور روس میں انسانی حقوق اور حق خودارادیت کی تحریک کے نتیجے میں بنیادی، دور رس اور حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب دنیا کے لوگ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ نہ تو طاقت کے ذریعے انسانوں کو محکوم بنایا جاسکتا ہے اور نہ ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی آزادیاں ہی سلب کی جاسکتی ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
ریاست پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بھارت نے ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ تقسیم ہند سے لے کر اب تک ہزاروں نہتے مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا گیا۔ اور ایسے بھیانک خونچکاں مظالم ڈھائے گئے ہیں کہ ان کی مثال آج کی انسانی دنیا میں نہیں ملتی۔ ساری دنیا نے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو ایک بار نہیں متعدد بار واشگاف الفاظ میں تسلیم کیا ہے۔ بھارت بھی ڈھائی سے جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرتا چلا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں۔ بے شمار لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے عرصہ درازسے جیل کی کال کو ٹھریوں میں رکھا گیا ہے۔ کئی مسلمان مجاہدین کو اذیت دے کر جیلوں اور عقوبت خانوں میں شہید کر دیا گیا ہے۔ نہتے مسلمانوں پر آئے دن گولیاں برسانا بھارت کا معمول بن گیا ہے۔ پُر امن جلسے جلوسوں کے نہتے شرکاء پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور را ئفلوں اور مشین گنوں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ تمام باتیں انسانی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے کافی نہیں؟ انسانی برادری اور بالخصوص عالم اسلام اور پڑوسی ممالک پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں مداخلت کریں اور کشمیری عوام کو انسانیت سوز مظالم سے نجات دلائیں۔
کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کا معاملہ ایک بین الاقوامی معاملہ ہے۔ یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ جموں و کشمیر آج اقوام عالم کے ضمیر کے لیے ایک چیلنج ہے اور دنیا کا ہر ملک قانونی اور اخلاقی طور پر جموں و کشمیر میں مداخلت کا حق رکھتا ہے اور بھارت کے خلاف تادیبی کارروائی کا مجاز ہے۔
انسانی بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کے عالمگیر اصولوں اور اعلانات، جن کا اوپر تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے، کی موجودگی میں بھارت کے پاس کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہیں ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھے۔ جموں و کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے در میان ایک تنازعہ اور سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ بیس لاکھ عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور حق خودارادیت کا مسئلہ ہے ۔اس لیے یہ تمام عالمی برادری کا مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی عدالت انصاف بین الاقوامی عدالت انصاف کے قا نون STATUTE OF THE INTERNATIONAL COURT OF JUSTICE کے آرٹیکل 32پیراگراف 2 کے مطابق وہ ریاستیں جو بین الاقوامی عدالت انصاف کے قانون STATUTE میں فریق ہیں، اپنے اور اس STATUTEسے اتفاق کرنے والی ریاستوں کے ما بین درج ذیل قسم کے قانونی تنازعات کے متعلق عدالت کے اختیار سماعت کو تسلیم کرتی ہیں
الف) کسی معاہدے (TREATY) کی توجیہ و تشریع۔
ب) بین الاقوامی قانون کے متعلق کوئی سوال۔
ج) کسی ایسی حقیقت (FACT ) کی موجودگی جو اگر ما بت (ESTABLISH) ہوجائے تو وہ کسی بین الاقوامی ذمہ داری کی خلاف ورزی بن جائے۔
د) کسی بین الاقوامی ذمہ داری( OBLIGATION) کی خلاف ورزی کی نوعیت اور تاوان کی حد مقرر کرنا۔
پاکستان اور بھارت نے عدالت کے اختیار کے متعلق اپنا اپنا بیان داخل کیا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت دینا بھارت کی مسلمہ بین الا قوامی ذمہ داری (OBLIGATION) ہے۔ بھارت نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان کے سامنے کئی بار جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے، اقرار کیا اور کئی بار بین الاقوامی سطح پر وعدے کیے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔ بھارت اس بین الا قوامی ذمہ داری کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کو بھارت کے خلاف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
شملہ سمجھوتہ اور مسئلہ کشمیر :
بھارت کا موقف ہے کہ 2 جولائی 1972ء کے شملہ سمجھوتے کے بعد جموں و کشمیر کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے اور یہ کہ پاکستان صرف ہندوستان کے ساتھ ہی بات چیت کرنے کا مجاز ہے اس لیے بین الاقوامی سطح پر یہ مسئلہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔اس معاہدے میں صرف دو بار جموں و کشمیر کا ذکر آیا ہے اور کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے متعلق اپنے موقف سے دستبردار ہو گیا ہے بلکہ کنٹرول لائن کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر درج کیا گیا ہے کہ فریقین مسئلے پر اپنی مسلمہ پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے کنٹرول لائن کی پابندی کریں گے۔ سمجھوتے کے آخر میں کہا گیا ہے کہ دونوں حکومتوں کے سربراہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے دوبارہ ملاقات کریں گے۔
اس طرح مسئلہ کشمیر کو ایک حقیقت تسلیم کیا گیا ہے، لیکن جملہ مسائل بشمول کشمیر کے حل کے لیے فریقین نے باہمی صلاح و مشورہ پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ شملہ معاہدے کا اطلاق مندرجہ ذیل وجوہ کی بناء پر ریاست جموں و کشمیر کے عوام پر نہیں ہوتا اور نہ کشمیر کے متعلق پاکستان ہی اس سمجھوتے کا پابند ہے۔
1) کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ جس کا اثر ایسے فریق پر پڑتا ہو جو معاہدے میں شریک نہیں، وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر شریک فریق کے لیے کالعدم ہوتا ہے۔ کیونکہ جموں و کشمیر کے عوام شملہ معاہدے کے فریق نہیں ہیں اس لیے جموں و کشمیر کی حد تک یہ معاہدہ غیر قانونی اور کالعدم ہے۔
2) ایسا معابدہ جو فریقین کے درمیان گذشتہ معاہدات سے پیدا شدہ ذمہ داریوں (OBLIGATIONS) سے مطابقت نہ رکھتا ہوں وہ غیر قانونی ہوتا ہے۔ بھارت نے جموں و کشمیرے متعلق کئی سمجھوتوں میں اپنی اس بین الاقوامی ذمہ داری کا اعلان کیا ہے کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔ کیونکہ شملہ معاہدہ جموں و کشمیر کے متعلق بھارت کی بین الا قوامی ذمہ داریوں کے منافی ہے اس لیے اس حد تک غیر قانونی ہے۔
3) اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 103 کے مطابق اگر چارٹر میں عائد کردہ ذمہ داریاں (OBLIGATIONS) اور معاملات سے پیدا شدہ ذمہ داریاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو چار ٹر کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو فوقیت حاصل ہوگی اور معاملات کی ذمہ داریاں اختلاف یا تصادم کی حد تک کالعدم ہوں گی۔
پہلے تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں اقوام متحدہ کے رکن ملکوں پر فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور حق خودارادیت کو تسلیم کریں اور لوگوں کو یہ حقوق دیں۔ اقوام متحدہ کی متعدد قرار دادوں ، بین الاقوامی اداروں اور اقوام عالم کے متعدد اعلانات میں افراد کے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔ بھارت نے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو اقوام متحدہ اور پوری دنیا کے سامنے تسلیم کیا ہے۔ شملہ سمجھوتے میں ریاست کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور حق خودارادیت کا ذکر نہیں اس لیے یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی عائد کر دہ ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔ اور اس بنا پر غیر قانونی اور غیر موثر ہے۔
4) بین الاقوامی قانون کا یہ بھی مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی ذمہ داری (OBLIGATION )جو بین الاقوامی قانون کے عالمگیر اصولوں کے منافی ہو وہ بین الاقوامی معاہدے (TREATY) کا مقصد یا حصہ نہیں بن سکتی۔ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور حق خودارادیت بین الاقوامی قانون کے عالمگیر اصولوں پر مبنی ہیں ۔اس لیے ان حقوق کو نظر انداز کر کے جموں و کشمیر کے متعلق کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
5) شملہ سمجھوتہ پاکستان نے بھارت کے دباؤ میں آ کر کیا تھا کیونکہ پاکستان کے کم و بیش نوے ہزار فوجی اور دوسرے شہری بھارت کی ناجائز قید میں تھے ۔اس لیے پاکستان اس سمجھوتے کا پابند ہیں۔
6) شملہ سمجھوتے میں کہا گیا تھا کہ دونوں حکومتوں کے سربراہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے بات چیت کریں گے لیکن تقریبا اٹھارہ سال گزرنے اور پاکستان کی کوششوں کے باوجود ابھی تک اس مسئلے پر بھارت بات چیت کرنے پر رضا مند نہیں ہوا۔ اس طرح بھارتی حکومت نے صریحاً سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے پاکستان اس کا پابند نہیں رہا۔ مزید برآں اس خلاف ورزی کی بناء پر پاکستان کو حق حاصل ہے کہ وہ سمجھوتے کو سرے سے ہی منسوخ کردے۔
7)بین الاقوامی قانون کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر معاہدہ کرنے کے بعد حالات میں بنیادی اور دور رس تبدیلی آگئی ہو تو کوئی بھی فریق معاہدے کا پابند نہیں رہتا یا وہ فریق معاہدے کا پابند نہیں رہتا جس کے حالات میں بنیادی تبدیلی پیدا ہو گئی ہو۔ اس اصول کوREBUS SIC STANTIBUS کہتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے مسلما نوں کا بھارت کے خلاف اعلان جہاد، ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام ، بھارتی فوج اور کارندوں کی انسانیت سوز بر بریت اور ریاست پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف عوام کے مسلسل اور ہمہ گیر احتجاج نے جموں و کشمیر کے حالات میں بنیادی اور دور رس تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ اس لیے معاہدہ شملہ جموں و کشمیر کی حد تک غیر موثر ہو چکا ہے اور پاکستان اس معاہدے کا پابند نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں:  پجاب میں اولیاء اللہ کے مزارا(۳)

محمد سلیم خان بار ایٹ لاء

اپنا تبصرہ بھیجیں