karachi-weast

کیا کراچی صرف دعوﺅں سے صاف ہو جائے گا؟

EjazNews

مجھے یاد پڑ رہا ہے کہ ایک بڑے کالم نویس (اب کیا کریں کچھ بڑے کالم نویس ہیں اور کچھ چھوٹے بس لکھنا پڑتا ہے )نے اپنی تحریر میں لکھاکہ ملک ریاض کہتے ہیں کہ اگر کراچی ان سمیت دو اور بڑے لوگوں کے حوالے کر دیا جائے تو وہ بغیر کسی معاوضے کے کراچی کو صاف ستھرا کر دیں گے۔ اوروہ اپنی خدمات بغیر کسی معاوضہ کے دیں گے اور ہائی لیول کا سٹاف بھی اپنا رکھیں گے اس سٹاف کا بھی کوئی معاوضہ نہیں ہوگا۔ اور کراچی کو مستقل صاف ستھرا شہر بنا دیں گے۔ لیکن یہ تجویز ماضی کا حصہ بن گئی اور کسی نے بھی غور نہیں کیا کہ روشنیوں کے اس شہر کو جو پاکستان بھر کو 65فیصد کما کر دیتا ہے صاف کیا جائے ۔
ملک ریاض کے بعد میدان عمل میں آئے پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی جنہوں نے دو ہفتوں میں کراچی کو پہلے مرحلے میں صاف کر کے دکھانا تھا ۔جس کے تحت کراچی صفائی مہم کا آغاز ہوا۔ اب پہلے دو ہفتے تو گزر چکے ہیں لیکن معلوم نہیں انہوں نے کراچی کو کتنا صاف کر لیا ہے۔ یہ تو اب تین ماہ کیلئے تعینات پراجیکٹ ڈائریکٹر صحیح بتا سکیں گے۔
یہاں پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا ذکر اگر نہ کیا جائے تو زیادتی ہو گی ۔انہوں نے لاہور کو ایک صاف ستھرا شہر بنا دیا ہے ، لاہور شہر کراچی جتنا بڑا تو نہیں ہے لیکن ترک کمپنی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے بعد وہ جتنا بھی پھیلا صاف ستھرا پھیلااور اگر میں یہ کہوں کہ لاہور اسلام آباد کے بعد پاکستان کا سب سے صاف ستھرا شہر ہے تو اس میں کوئی غلط بیانی نہیں ہوگی۔
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ اور سابق ناظم کراچی مصطفی کمال نے کراچی کو صاف کرنے کا موجودہ مئیر کراچی وسیم اختر کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔ان کے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔مئیر کراچی نے مصطفی کمال کو تمام دستیاب وسائل مہیا کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور قلندرز کی 8 وکٹوں سے شاندار فتح

مصطفی کمال کا کہنا تھا میں دن رات کام کرنے وال آدمی ہوں، چیلنج دیا ہے تو کراچی کو صاف کر کے بھی دکھاﺅں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچرے میں کھڑا ہونا ہوا تو وہاں بھی کھڑا ہوں گا۔ اور بریفنگ دوں گا۔
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے افسران کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں کوئی بھی نہ پہنچا ۔اب نہ پہنچنے کی وجہ مصطفی کمال کے بقول مئیر کراچی کا منع کرنا ہے۔ اور مئیر کراچی نے ان کا فون بھی نہی اٹھایا۔ بعد ازاں اصغر علی شاہ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میئر صاحب کی آفر قبول کرلی، خلوص سے مسئلہ حل کروںگا، میں نے لوگوں کو منع کر دیا ہے کہ یہ کام سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا ہے، مئیر کراچی میرا باس ہے، میں مئیر کے نیچے کے لوگوں کا باس ہوں۔ فنڈنگ یا چندہ نہیں مانگ رہا، دستیاب وسائل میرے اختیار میں آنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا تیسرا بجٹ
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال -اصغر علی شاہ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

مصطفی کمال کا کہناتھا کہ کراچی کے لوگ اسی وقت سوتے تھے جب میں ان کے لئے رات بھر جاگتا تھا۔ مئیر صاحب اب آپ کو راتیں میرے ساتھ جاگنا پڑیں گی، مئیر صاحب 3ماہ کیلئے میرے باس ہیں، ان کی عزت کی جائے، 3ماہ کیلئے ایمرجنسی ہے، شہر کا برا حال ہے، سب کو دن رات کام کرنا ہے۔
سابق سٹی مئیر نے کہا کہ جب کوئی اپنی رات قربان کرتاہے تب ہی کراچی کے لوگ سو سکتے ہیں، کراچی والو، مجھے اب بھوک، پیاس اورنیند نہیں آئے گی، مئیرصاحب اپنے افسر ان کو ہرحال میں میرے ماتحت کرنا ہے۔ افسران کہہ رہے ہیں ہمیں مئیر نے منع کر دیا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ موجودہ وسائل اور پیسہ دے دیں کراچی صاف ہو جائےگا۔اربوں روپے ماہانہ ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں جارہے ہیں اگر ملازمین ہی سڑکوں پر آجائیں تو کافی بہتر ی آسکتی ہے۔ کراچی کے 6میں سے 4اضلاع میں ایم کیوایم کی کی حکومت ہے، ایسٹ اور ساﺅتھ کے معاملات مئیر نے خود صوبائی حکومت کو دئیے۔

یہ بھی پڑھیں:  بال ٹمپرنگ کیس : وارنر اورسمتھ کی 1سالہ پابندی ختم

اپنا تبصرہ بھیجیں