Doctor

بغیر بیمار ہوئے طبی معائنہ کیوں ضروری ہے

EjazNews

صدیوں سے اطبا کا اصل فرض ،علاج امراض سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹروں کو بھی دوسرے مرمت کرنے والوں کی طرح تصور کیا جاتا تھا کہ جو مرض میں مبتلا ہو یا حادثہ کا شکار ہو اسے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ اس زمانہ میں بیمار ہوئے بغیر ڈاکٹر کے پاس جانا بے وقوفی سمجھا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسانی سوچ بھی بدلی اور شعور بھی بڑھا۔ علم طب میں ترقی کے ساتھ وجوہ امراض کے شعور و فہم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جب سبب مرض معلوم ہو تو منطقی تقاضا یہ ہے کہ اس کا ازالہ کر کے مرض کا سدباب کیا جائے اور صرف شکایات کا ازالہ کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے۔ مرض کو روکنا ہر حال میں بہتر ہے بہ نسبت مرض ہو جانے کے بعد اس کا علاج کرنا۔ اگر مرض کا سدباب کر دیا جائے تو مرض کی تکلیف نہیں ہونے پاتی، اس کی پیچیدگیاں اور اس کی وجہ سے معذوری کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور علالت کی وجہ سے اوسط عمر میں کمی کا امکان نہیں رہتا۔ مرض کا کس طرح سدباب کیا جائے؟ اس ضمن میں فی زمانہ طب جدید کی ایک نہایت ہمہ گیر اور مفید شاخ حفظان طب ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کے نظام صحت کے مشاہدہ سے ہی کماحقہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حفظانی طب کی آمد سے تمام دنیا میں صحت اقوام کے سلسلہ میں کس قدر اہم ترقیاں اور کامیابیاں رونما ہوئی ہیں۔ متعدی عفونتی امراض کا قلع قبع کیا جا چکا ہے۔ میعادی بخار فالج اطفال (پولیو) چیک اور خناق اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔
شروع شروع میں جب کوئی امراض کو روکنے کی بات کرتا تھا تو لوگ ان ڈاکٹروں اور تحقیقی کام کرنے والوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ جب امراض نہیں ہوں گے تو پھر یہ ڈاکٹر کیا کریں گے۔ بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ ڈاکٹروں نے اس ضمن میں اپنی منزل کامیابی سے طے کر لی ہے اور اس کے باوجود بھی ان ڈاکٹروں کی ضرورت کم نہیں ہوئی۔
ہر چند کہ ان تمام احتیاطوں پر عمل کرنے سے ایک آدمی اوسطاً زیادہ جیتا ہے۔ مگر لوگ اب بھی بیمار پڑتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو کر ڈاکٹروں کے ضرورت مند رہتے ہیں۔ اس بدلی ہوئی صورت حال میں ڈاکٹر زیادہ توجہ اور وقت دے کر اپنے مریضوں کی تکالیف کا ازالہ کر سکتے ہیں اور اس طرح اپنے مریضوں کی زندگی زیادہ خوشگوار بنا سکتے ہیں کیونکہ معمولی بیماریوں کا سدباب کر کے مناسب توجہ حقیقی اور شدید بیماریوں کی طرف دی جا سکتی ہے۔ (تیسری دنیا میں ابھی تک نہ تو ہم قدیم امراض کو مٹا سکے ہیں بلکہ جدید امراض کے غول نے بھی ہمیں پوری طرح حصار میں سے کر مغلوب کر رکھا ہے جس سے کوئی راہ مفر نظر نہیں آتی)۔ علاجی طب میں حفظان طب کی آمیزش سے ڈاکٹروں میں ایک اطمینان کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، جو اس سے قبل صرف علاج کرنے والے معالجوں میں عنقا تھی۔
سدباب امراض میں تعاون:
مریضوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ڈاکٹروں کو مریضوں کا تعاون درکار ہے۔ ایک ڈاکٹر لوگوں کو مرض کا سدباب کرنے کے طریقے تو سکھا سکتا ہے، لیکن جب تک لوگ ان طریقوں پر صدق دلی سے عمل نہیں کریں گے تو وہ سطح علالت سے کبھی بھی بلند نہیں ہو سکیں گے۔
جدید طبی تربیت کے طفیل ڈاکٹر ایک ایسا ماہر خصوصی بن جاتا ہے جو لوگوں کو تندرست رکھنے کا اہل ہے۔ ڈاکٹر کو گو یہ علم ہے کہ مرض کا علاج کس طرح کیا جائے، لیکن حفظانی طب کی بدولت اس کی اصل دلچسپی یہ ہو جاتی ہے کہ لوگوں کو صحت مند بنائے رکھے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں کو بیمار ہونے کے بعد صحت مند بنائے، چنانچہ ہر دانشمند آرمی ڈاکٹر سے مشورہ کر کے صحت مند و تندرست رہنے کے طریقے سیکھنا چاہے گا کیونکہ صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی اثاثہ نہیں۔
آپ ایک ایسے شخص کا تصور کیجئے جس کو کثیر دولت وراثت میں ملی ہے اس حال میں دولت مند ہونے والے شخص کو کاروبار کرنے کا تجربہ نہیں، مگر اس کو یہ پتا ہے کہ اگر اس دولت کی صحیح طرح دیکھ بھال نہیں کی گئی اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اسے یہ بھی علم ہے کہ اگر اسے صحیح طرح سے کاروبار میں لگا دیا جائے تو یہ بڑھ بھی سکتی ہے، اگر یہ شخص عقلمند ہے تو کسی ایسے شخص سے مشورہ کرے گا جس کو کاروباری تجربہ ہے۔ اس طرح اس موروثی دولت کو استعمال کر کے وہ مناسب آمدنی کی توقع کر سکتا ہے، بالکل اسی طرح ہر عام آدمی بھی اپنی صحت کے لحاظ سے دولت مند ہے کیونکہ اس نے ورثہ میں ایک صحت مند جسم پایا ہے اگر وہ اپنے جسم کا استعمال دانشمندی سے کرتا ہے تو وہ سالہا سال تک صحت و تندرستی اور نتیجتاً مسرت کے انعام سے بہرہ ور رہے گا۔ اگر وہ لاپروا ہے اور زندگی میں احتیاط سے کام لے کر مرض کا سدباب نہیں کرتا تو اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ اس کی زندگی مختصر ہو جائے یا علالت و تکلیف میں مبتلا رہے اور اس طرح یہ شخص زندگی کی خوشیوں سے محروم رہے۔
اپنے کاروبار صحت کو صحیح ڈگر پر رکھنے کے لیے ہر مرد و عورت کو وہی طرز اپنانا چاہیے ،جو حال میں دولت حاصل کرنے والا شخص کرتا ہے، لیکن جس طرح وہ ایک تجربہ کار کاروباری شخص سے راہنمائی حاصل کرتا ہے اسی طرح صحت و تندرستی کے متلاشی افراد کو بھی ایسے شخص سے رہبری حاصل کرنا چاہیے جو صحت و تندرستی کے معاملات کو سمجھتا ہے۔ اس ضمن میں تربیت یافتہ ہے اور جو اعتماد سے یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ اپنی صحت کو موثر طریقہ پر کس طرح بہتر بنایا جائے اور پھر اسے برقرار رکھا جائے اور یہ مشیر صحت ناسوا فیملی ڈاکٹر کے کوئی اور شخص نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  موٹاپے سے بچنے کیلئے چکنائی کی کمی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے
جو تاجر دانشمند ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی صحت بھی اس کا انمول اثاثہ ہے

کن افراد کو طبی معائنہ کی ضرورت ہوتی ہے؟
ذہن میں قدرتی طور پر یہ خیال آ سکتا ہے کہ نوجوان افراد بالعموم صحت مند ہوتے ہیں اسی لیے صرف عمر رسیدہ اشخاص کو صحت کی بابت طبی مشورہ کی سہولت ملنی چاہیے، لیکن اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ بوڑھے لوگوں میں مرض کا آغاز مدت مدید قبل یعنی جوانی میں ہو اور اس کی شکایات اب ہوئی ہوں جس طرح دولت کی سرمایہ کاری ایک طویل المدت منصوبہ ہے، اسی طرح صحت کو برقرار رکھنے کا عمل بھی زمانہ طفلی سے شروع ہونا چاہیے اور پھر یہ تمام زندگی جاری رہنا چاہیے۔
وقفہ وقفہ سے معائنہ جسمانی کا آغاز ولادت کے وقت سے ہوتا ہے جو مدرسہ جانے کی عمر تک جاری رہتا ہے۔مدرسہ شروع کرنے کے بعد نئے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے بچے پر نئے نئے مطالبات ہوتے ہیں۔جس سے اس کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ مدرسہ شروع کرنے والے بچے کو اپنی زندگی کے ایک نئے مرحلہ سے سابقہ پڑ رہا ہوتا ہے جس کے لیے اسے شروع ہی سے ہر طرح تیار کیا جائے۔
ایک مطالعہ میں پتہ چلا کہ مدرسہ شروع کرنے والے بچوں کی ۵۵ فیصد تعداد میں ایک نہ ایک مسئلہ صحت موجود تھا۔ اگر ابتداً ہی مسئلہ صحت کا پتہ چل جائے اور صحیح وقت پر اس کی مناسب اصلاح ہو جائے تو پھر آئندہ نہایت اچھی صحت کا امکان قوی رہتا ہے۔ ان ۵ ۔ ۶ سال کی عمر کے بچوں میں جو بظاہر صحت مند دکھائی دیتے ہیں مسائل صحت یقینا زیادہ سنگین نہیں ہوتے لیکن یہ درست ہے کہ بعض بچوں میں دل کے نقص جوڑوں ہڈیوں کی خرابیاں الرجی کے مسائل، مسائل تغذیہ، تناسلی بولی نقص، اعصابی مسائل ،امراض گوش بینی و حلق اور جذباتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایک اور اہم بات مدرسہ جانے والے بچوں میں اس بات کی تشفی کرنا ہے کہ ان کو مختلف متعدی امراض کے خلاف ٹیکے لگا دئیے گئے ہیں یا نہیں۔ مدرسہ میں داخلہ کے بعد بچہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے ملتا ہے اور ان حالات میں ایک بچے سے دوسرے بچوں کو مرض لگ جانے اور پھیل جانے کا سخت خطرہ ہو جاتا ہے ۔مدرسہ میں داخلہ سے قبل بچے کے معائنہ سے مزید فائدہ یہ ہے کہ بچے کو بیماریوں سے تحفظ کا موقع ملا ہے، اس طرح مدرسہ سے غیر حاضری نہیں ہوتی اور نہ بیماری کی وجہ سے اس کا عمومی دفاع کمزور ہو تا ہے۔
دوسرا وقت جب معائنہ جسمانی اہم ہے۔ وہ نوجوانی کا آغاز ہے۔ اس زمانہ میں جب کوئی بچہ ایک مرد یا عورت کی شکل میں تبدیل ہو رہا ہوتا ہے تو اسے اپنے متعلق خوف و فکر اور شک و شبہات ہو سکتے ہیں، جن کا وہ معمول کے مطابق اظہار بھی نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر کے مطب میں سالانہ معائنہ سے ڈاکٹر پر اعتماد بحال رہتا ہے اور اس کی عزت پیدا ہوتی ہے۔ اب جن معاملات میں کسی کو اپنے متعلق تشویش ہے وہ ڈاکٹر سے مشورہ کر لے گا جو لڑکی دور بلوغت میں داخل ہو رہی ہے وہ ماہواری اور اپنے جسم کی مناسب دیکھ بھال کے لیے پیشہ ورانہ مشورہ لے لے گی جو لڑکا اب مرد بن رہا ہے وہ ڈاکٹر کے مشوروں سے اپنی صلاحیتوں کے متعلق مفید معلومات حاصل کر لے گا۔
صحت سے متعلق ،نوجوانوں کے اپنے مسائل بھی ہوتے ہیں ۔اسی زمانہ میں غذائیت سے متعلق بعض مسئلے شدید ہو جاتے ہیں ان ہی برسوں میں نشوو نما میں تیزی آ جاتی ہے اور غذا میں بہ کفایت حیاتین و مقویات کے واسطے مطالبات زیادہ قوی ہو جاتے ہیں ان ہی برسوں میں لڑکیاں اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتی ہیں کہ ان کے وزن میں ذرا بھی اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس خام خیالی میں یہ خطرہ مضمر ہے کہ وزن کم رکھنے کے لیے جو قلیل غذا کھائی جاتی ہے اس کی وجہ سے قلت خون یا تپ دق ہو سکتی ہے اور یہ ان نوجوانوں کی صحت کے لیے تمام زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔
شادی کے موقع پر بھی فیملی ڈاکٹر کی خدمات سے فیض اٹھانا اہم ہے۔ ازدواجی زندگی ماں باپ بنے کے امکانات اور تعلیم ختم کرنے کے بعد جدوجہد کے ضمن میں جو تشویش پیدا ہوتی ہے اس سے کسی بھی شخص کی عمومی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے اور اس سلسلہ میں فیملی ڈاکٹر کے مشوروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ شادی کے وقت اس کے بعد اور وسط عمر تک گاہے گاہے طبی معائنہ کی ضرورت اور اس کے فوائد باقی رہتے ہیں۔
طبی معائنہ سے کن حقائق کا پتہ چلتا ہے :
اکثر لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ وہ اپنے آپ اپنی خرابی صحت کا پتا چلا سکتے ہیں، اور وہ خود یہ پہچان لیں گے کہ وہ تندرست ہیں یا نہیں حالانکہ ان کی کسی قسم کی طبی تربیت نہیں ہوتی مگر وہ یہ یقین واثق رکھتے ہیں کہ بغیر کسی شکایت کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بے معنی ہے۔ یہ بات باعث دلچسپی ہے کہ دس ہزار افراد کا معائنہ ان کی حیثیت صحت معلوم کرنے کی غرض سے کیا گیا۔ یہ افراد۰۳۔۹۴ سال کی عمر کے پیٹے میں تھے۔ زندگی کا یہ وہ دور ہوتا ہے جب اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی صحت و تندرستی کے عروج پر ہیں اور ان کو کسی طبی اعانت کی ضرورت نہیں۔ یہ بات تعجب خیز ہے کہ اس نام نہاد صحت مند گروہ کے ۲۹ فیصد افراد میں کوئی نہ کوئی خرابی ایسی ضرور پائی گئی جس کی اصلاح ضروری تھی۔ گو یہ درست ہے کہ اکثر لوگوں میں یہ خرابی معمولی تھی اور ذرا سی توجہ سے اس کو درست کر دیا گیا، جس سے ان کی خوشیوں اور تندرستی میں بھی اضافہ ہوا، بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ ان افراد کے صرف ایک فیصد میں کوئی سنگین مرض، مثل سرطان وغیرہ پایا گیا۔
جو اطبا امراض نسوانی میں مہارت رکھتے ہیں وہ اپنی خاتون مریضوں کے ہر سال طبی معائنہ اور حیثیت صحت متعین کرانے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ خواتین میں زمانہ تولید اور مابعد یہ مرض سرطان ہے جو باعث خوف ہو سکتا ہے۔ جدید طب کے پاس ایسی سہولتیں موجود ہیں جن سے اولین مرحلہ میں سرطان کا سراغ لگ سکتا ہے۔ ان مرحلہ کو طبی زبان میں ”زمانہ قبل سرطان “کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کہ ابھی سرطان تو ہوا نہیں مگر بافتوں میں کچھ ایسی تبدیلیاں ضرور آ گئی ہیں جن کی وجہ سے سرطان پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک تجربہ میں۰۰۰،۷۳۱ خواتین میں رحم اور متعلقہ اعضا میں سرطان معلوم کرنے کے لیے خلیاتی مطالعہ کیا گیا یہ خلیاتی مطالعہ) خردبین کی مدد سے اس لعاب کا کیا جاتا ہے جو اندرونی اعضا کے استر سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک نہایت آسان طریقہ ہے جس سے نہ درد ہوتا ہے اور نہ کوئی تکلیف لیکن جس سے صحیح وقت پر صحیح طریقہ سے سرطان کی تشخیص ہو سکتی ہے اور پھر شافی طریقہ سے اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ اگرژرف نگاہ سے لوگوں کا معائنہ کیا جائے تو شکایات پیدا ہونے سے قبل بھی مندرجہ ذیل امراض کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ (۱) مختلف اقسام کے امراض قلب۔ (۲) بلند فشار خون اور سرخ رگوں کی تنگی و سختی۔ (۳) سرطان مختلف اعضا کے مثلاًسینہ، معدہ، قولون ،معاءمستقیم ،رحم، جلد۔ (۴) امراض معاءمستقیم اور زریں قولون۔ (۵) قلت خون۔ (۲) مرض گردہ۔ (2) ذیباطیس۔ (۸) تپ دق۔ (۹) سیاہ موتا۔ (۰۱) افراط کولیسٹرول۔ ان امراض میں اولین تین امراض اس زمانہ کے سب سے بڑے قاتل امراض ہیں اگر ان کو قبل از وقت شناخت کیا جا سکے تو یہ قرار صحت میں ایک مثبت اقدام ہے جس سے لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور علاج امراض میں صرف کیے جانے والے وقت کی بھی بچت ہو سکتی ہے۔
ان مندرجہ بالا امراض میں سرطان ہی صرف ایک آزار نہیں جس سے نجات ملے گی اس کے علاوہ بھی وقتاٰ فوقتاً طبی معائنہ سے شکایاتی مرحلہ آنے سے قبل، متعدد امراض کا سراغ لگا کر علاج کیا جا سکے گا۔
ان طبی معائنوں سے صرف خواتین ہی کو فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ان سے ہر آدمی مستفید ہو سکتا ہے۔ ۰۰۵۱ کاروباری افراد کے طبی معائنہ میں ۰۴فیصد میں کسی نہ کسی قسم کا خفیہ مرض پایا گیا۔ ان نو دریافت امراض کی ابتدائی مرحلہ میں تشخیص و تجویز علاج سے مستقبل کی معذوری اور اچانک موت سے تحفظ مل گیا۔ جو تاجر دانشمند ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی صحت بھی اس کا انمول اثاثہ ہے صرف زندگی کابیمہ کرانے سے مسئلہ حل نہیں ہو تا۔ زوال پذیرصحت والے لوگوں کو بیمہ کرنے والے ادارے بھی قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ بیمہ کی ادا شدہ رقم بھی ان کی صحت و زندگی کی تلافی نہیں کر سکتی اور ہرگز اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، کیونکہ ان کا جو اصل کاروبار تھا وہ بکھر گیا کہ وہ خرابی صحت کی وجہ سے اس کے لائق نہیں رہے۔
لوگ طبی معائنوں سے کیوں جھجکتے ہیں؟:
باوجو یکہ گاہے گاہے طبی معائے سے واضح فوائد حاصل ہوتے ہیں، یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ آخر پھر کیوں لوگ اپنا طبی معائنہ کرانے سے جھجکتے ہیں اور ڈاکٹر کے اس مشورے کو نہیں مانتے کہ اپنی ہر سالگرہ پر ڈاکٹر کے پاس آ کر اپنی حیثیت صحت کا تعین کرائیں، ان میں سے بعض لوگ اپنی تقدیر کے اس قدر قائل ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہو گا۔ ہر چند کہ بعض لوگ یہ جانتے ہیں کہ نوجوان افراد بھی اپنی زندگی کے بہترین زمانے میں سنگین بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں اور انھوں نے چند لوگوں کے متعلق یہ بھی پڑھا ہے کہ انھیں بے وقت کی بیماری کے باعث اپنے پیشے کو بھی ترک کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود یہ اپنے اس خیال خام پرسختی سے جمے رہتے ہیں۔ میں بیمار نہیں ہو سکتا اور مجھے یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا۔
کوئی بھی جراح یہ بتلا سکتا ہے کہ سرطان کی وجہ سے مرنے سے کس طرح تحفظ ہو سکتا ہے اور وہ بلاشبہ یہی کہے گا۔ ”جلد تشخیص اور جلد علاج“ اگر آپ جراح سے اس ضمن میں مزید سوالات کریں کہ اگر مجھے اپنی بیوی کے متعلق یہ شبہ ہے کہ اسے سرطان سینہ ہے تو بجائے فوراً جراحی کا سوچنے کے کیا یہ درست نہیں کہ اس معاملے میں عجلت نہ کی جائے ،کیا چند روز اور انتظار کر کے اسے شک کا فائدہ نہ دیا جائے؟ ۔
یہ بات سن کر یقینا آپ کے جراح دوست کو غصہ آجائے گا، وہ پوچھے گا کہ شک کا فائدہ کس کو؟ وہ یہی مشورہ دے گا کہ سب سے زیادہ فائدہ مند بات یہ ہے کہ اس ضمن میں جلد تشخیص اور جلد علاج کیا جائے۔
دوسری وجہ اپنا طبی معائنہ نہ کرانے کی اس ضمن میں ہونے والے کثیر اخراجات ہیں یہ سب معائنے کیونکہ مفصل ہوتے ہیں اس لیے گراں بھی ہوتے ہیں۔ نجی طریقے پر اس قسم کے معائنوں کی اکثر افراد کی جیب متحمل نہیں ہو سکتی اور سرکاری شفاخانوں میں اس قسم کا کوئی انتظام نہیں۔ سرکاری شفاخانے تو علاج کرانے والے مریضوں سے ہی عمدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ احتیاطی طبی معائنہ کیا خاک کریں گے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے فرائض میں طبی معائنوں کا نظام الاوقات بھی شامل کر لیں تو غالباً علاج کی غرض سے آنے والے پیاروں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ اکثر لوگ اپنا طبی معائنہ کرانے کے بعد جب ان میں کسی خرابی کا پتہ نہیں چلتا تو یہ شکایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ”طبی معائنے کے بعد مجھے آخر میں صرف یہ پتہ چلا کہ ابھی مجھے کوئی بیماری لاحق نہیں ہوئی، آخر مجھے اس سے کیا فائدہ ہوا؟“۔
حالانکہ بنظر غور دیکھا جائے کہ اگر کسی کو یہ علم ہو جائے کہ اس وقت وہ بالکل تندرست ہے تو وہ کس قدر خوش قسمت ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص پانچ ہزار میل گاڑی چلانے کے بعد اپنی گاڑی کی مرمت و صفائی کرا لے اور جس پر تقریباً تھوڑے روپے خرچ کر کے اپنا یہ اطمینان کر لے کہ گاڑی درست ہے۔ حالانکہ اس معائنے کے بعد بھی گاڑی اسی طرح چل رہی ہے جیسے پہلے چل رہی تھی لیکن گاہے گاہے معانے سے گاڑی کی افادیت و حیثیت میں اضافہ ہو جائے گا، کاروباری لحاظ سے دیکھا جائے تو اس طرح کا خرچ صحیح ہے۔ لہٰذا گاہے گاہے اپنے جمالی معائنے پر کوئی ملک اور اس ضمن میں خرچ کرنے میں کچھ تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے۔ بہرحال اس معائنہ کے بعد معالج کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ میچ اسلوب زندگی بتلائے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین کرے تاکہ وہ آئندہ زندگی مقدار و معیار کے لحاظ سے صحیح ہو۔
گاہے گاہے طبی معائنہ کے اضافی فوائد:
طبی معائنے سے نہ صرف فوراً تشخیص ہوتی ہے اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی ملتی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ آپ کے طبیب کو زندگی کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے طریقے بھی آتے ہیں۔ طبیب کو ذاتی طور پر معاشرے میں رہنے والے افراد کے مسائل سے واقفیت اور ادراک بھی ہوتا ہے۔ طبیب کی تربیت نہ صرف مرض کی تشخیص، سدباب اور علاج کے ضمن میں ہوتی ہے بلکہ اسے لوگوں سے برتنے کے طریقے بھی آتے ہیں جو وہ دوسروں کو سکھا سکتا ہے۔ طبیب نے اپنے علم و تجربے کی بنا پر خود کو قابل اعتماد ثابت کر دیا ہے وگرنہ وہ کبھی بھی بحیثیت طبیب کامیاب نہیں ہوتا۔
آپ کا طبیب دراصل ایسا ہی ہوتا ہے اور ایسا ہی ہونا بھی چاہے جس سے آپ اپنے مسائل راز داری میں بیان کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے طبیب سے ان سرگرانیوں کا ذکر کر سکتے ہیں جو آپ اور دیگر افراد خانہ کے درمیان ہوتی ہیں۔ آپ اس سے اپنے بچوں کی الجھنیں تعلیم و تربیت اپنی تبدیلی ملازمت اور دیگر قابل تشویش مسائل کے متعلق رائے لے سکتے ہیں۔ جس وقت طبیب آپ کو آپ کی صحت کے متعلق مشورہ دے رہا ہو اس وقت آپ اپنی دوسری الجھنوں اور مسائل کا ذکر کر کے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے ذہن میں یہ سوالات ہوں کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے تو آپ اپنے طبیب سے اس بارے میں ضرور پوچھیں۔ آپ ان غذاو¿ں کے متعلق بھی معلوم کریں جو آپ کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے مشورہ لیں کہ آپ کو کتنی ساعت نیند کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں بھی اس کی رہنمائی حاصل کریں کہ آپ کے لیے کون سے مشغلے سب سے بہتر ہیں۔ آپ کے طبیب کو اس بات سے خوشی ہونی چاہیے کہ آپ اپنے ذاتی معاملات میں اسے راز دار بنا رہے ہیں۔ اگر آپ یہ اپنا فرض سمجھ لیں کہ اس سے پابندی سے ملاقات کرتے رہیں تو پھر وہ بھی یہ اپنا فرض تصور کرے گا کہ وہ ایسے مشورے آپ کو دیتا ہے جس کی رہنمائی میں آپ صحت مند اور خوش باش زندگی گزار سکیں۔
(ڈاکٹر سید اسلم)

یہ بھی پڑھیں:  صحت برقرار رکھنے کیلئے اپنا وزن کم کیجئے
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں