مسئلہ کشمیری کی عالمی حیثیت

مسئلہ کشمیر: بین الاقوامی قانون کے تناظر میں

EjazNews

مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو بین اقوامی قانون کے تناظر میں سمجھنے کے لیے بین الاقوامی قانون کے متعلق چند تعارفی گزارشات ضروری ہیں۔
جس طرح ایک معاشرے میں وہاں کے باشندوں کے فرائض و حقوق ہوتے ہیں اسی طرح بین الاقوامی معاشرے میں زمانۂ قدیم سے قوانین کی ضرورت رہی ہے۔ قدیم یونانی علماء نے بین الاقوامی قانون کو ’’قانون فطرت‘‘ (JUS NATURAL) کا نام دیا ،جس کے مطابق کائنات کا نظام انصاف اور منطقی اصولوں پر چل رہا ہے۔ یہ اصول ابدی اور غیر متزلزل ہیں اور قدرت نے یہ اصول انسان کو ودیعت کیے ہیں۔ یہی اصول بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قوانین کی اساس ہیں۔ ابتداء روم کے قدیم حکماء نے ریاستوں کے متعلق قانون (JUS GENTIUM) راج کیا جس کا دائرہ کار بین الریاستی امور پر محیط تھا۔ یہ قانون حاکم وقت اور حالات کے تقاضوں کے تابع تھا لیکن رومیوں کے ہاتھوں یونان کی فتح کے بعد روم میں بھی قانون فطرت کو تسلیم کر لیا گیا۔ کوئی شخص یا ریاست قانون فطرت سے بالاتر نہ تھی۔ قانون فطرت کا اطلاق کیونکہ ریاست کی صوابدید پر تھا اس لیے اس کی تشریح و توجیہ میں ابہام اور اختلاف تھا۔ تاہم یہی نظریہ قانون فطرت آگے چل کر جدید بین الاقوامی قانون کی اساس بنا۔
زندگی کا سفر ایک طرف غیر ترقی یافتہ قبائلی معاشرے کے شہری ریاست اور شہریت بڑی ریاستوں، بادشاہتوں اور عالی حکومت کی طرف جاری رہا تو دوسری طرف نسل، رنگ، زبان پر مبنی طبقات اور مختلف ممالک کی آپس میں لڑائیاں ہوتی رہیں اور اس طرح ’’قانون فطرت ‘‘کی دھجیاں بھرتی رہیں۔ پوری انسانیت جاہلیت کے اندھیروں میں پھنسی ہوئی تھی اور ظلم و استبداد کی چکی میں پس رہی تھی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول معاشرتی تعلقات سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک کار فرما تھا۔ اس مایوسی اور اضطراب کے عالم میں ساتویں صدی عیسوی میں نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور خالق کائنات نے اپنی آخری کتاب قرآن کے ذریعے تمام ازلی و ابدی قوانین کی تعمیل کر دی۔ ایک آفاقی قانون عالم انسانیت کو عطا ہوا جس کے مطابق تمام انسان نفس واحد ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہونے کے ناطے برابر ہیں اور کسی کو رنگ، نسل، زبان، علاقے، طبقے یا ہیئت کی بنیاد پر فوقیت حاصل نہیں۔ انسان کا تعلق پہلی بار اپنے خالق سے براہ راست قائم ہوا۔ خدا، اس کے رسول اور اس کی کتاب کو ماننے والے خواہ دنیا کے کسی خطے میں ہوں ، آپس میں بھائی بھائی ہیں کیونکہ انسانیت ہمہ گیر اور عالمگیر ہے۔ اس لیے انسانیت کے متعلق قوانین بھی ہمہ گیر اور آفاقی ہیں جن کی جامع وضاحت خطبہ حجۃ الوداع میں موجود ہے۔
جنگ عظیم اول و دوم کے بعد اقوام عالم نے دنیا میں امن و امان قائم رکھنے اور انسانی برادری کے حقوق کو، جن پر امن عالم کا انحصار ہے، پامال ہونے سے بچانے کے لیے پہلے جمعیت اقوام (LEAGUE OF NATIONS) اور پھر اقوام متحدہ (UNITED NATIONS) جیسے ادارے قائم کیے۔
معاہدہ امرتسر :
مسئلہ کشمیر کی ابتداء نام نہاد معاہدہ امرتسرسے ہوئی۔ یہ معاہدہ 16 مارچ 1846ء کو امرتسر میں حکومت برطانیہ کے نمائندگان (فریڈرک کری اور ہنری منٹگمری لارنس) اور ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے درمیان ہوا۔ اس کے مطابق پچاس لاکھ روپے (پچہتر لاکھ روپے نانک شاہی) کے عوض کشمیر اور اس سے ملحقہ تمام پہاڑی علاقے گلاب سنگھ کو فروخت کر دئیے گئے۔ اس معاہدے میں فروخت شدہ علاقے کے ساتھ اس کے باشندے بھی گلاب سنگھ کو منتقل ہوگئے کیونکہ معاہدے میں باشندوں کے مستقبل کے متعلق یا ان کے حقوق کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا تھا۔
دہقان و کشت و جو ئے و خیابان فروختند
قومی فروختند وچہ ارزاں فروختند
یہ نام نہاد معاہدہ تمام مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے منافی تھا۔ یہ سیدھا سادہ پیغام تھا جس کے ذریعے ایک انسانیت سوز سودا ہوا۔ یہ نہ صرف قانون فطرت جس کو بین الاقوامی قانون کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، کے خلاف تھا بلکہ مہذب اقوام کے مروجہ قوانین کے بھی سراسر منافی تھا۔ اس نام نہاد معاہدے میں، جو دس شقوں پر مشتمل تھا، علاقے کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک لفظ بھی تحریر نہیں کیا گیا۔ انیسویں صدی میں یہ اس قوم کا شرمناک کارنامہ تھا جس نے 1225ء میں میگنا کارٹا (MAGNACARTA) جیسا انسانی آزادی کا منشور پیش کیا تھا۔
ریاست جموں و کشمیر پر نام نہاد معاہدہ امرتسر کی شق نمبر 10 کے تحت حاکمانہ بالادستی (SUZERAINTY) حکومت برطانیہ کی تسلیم کی گئی تھی۔ اس طرح ریاست برطانوی ہند کا ہی ایک حصہ تھی۔ فقط محدود حکمرانی کا حق گلاب سنگھ اور اس کے نرینہ ورثاء کو دیا گیا تھا۔
تقسیم ہند:
’’3جون پلان ‘‘ جس کی بنیاد پر تقسیم ہند روبعمل آئی، ہندوستان کی 562 چھوٹی بڑی ریاستوں کے مستقبل کے متعلق خاموش تھا۔ البتہ اتنا ذکر ضرور کیا گیا تھا کہ حکومت برطانیہ کی ان ریاستوں کے متعلق پالیسی کیبنٹ مشن کی 12 مئی 1946ء کی یادداشت کے مطابق رہے گی۔ کیونکہ کیبنٹ مشن نے ہندوستان کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا تھا اس لیے مذکورہ یادداشت میں کہا گیا تھا کہ ریاستوں کے والیوں کی حکمرانی برطانوی راج کے خاتمے کے ساتھ اختتام پذیر نہیں ہوگی بلکہ ان کی زندگی تک قائم رہے گی۔ وہ آزاد ہندوستان کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو الگ آزاد ریاستوں کے حکمرانوں کی حیثیت سے بھی رہ سکتے ہیں۔برطانوی پارلیمنٹ نے 18جولائی 1947ء کو قانون آزادی ہند INDIA INDEPENDENCE) (ACT پاس کیا جس کے تحت دو نوزائدہ آزاد ملکوں ۔ پاکستان اور ہندوستان کو 15 اگست 1947 کو اقتدار اعلیٰ منتقل ہونا تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر 25 جولائی 1947ء کو وائسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن نے نئی دہلی میں ریاستوں کے والیوں کو ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ وائسرائے نے والیوں کو مشورہ دیا کہ وہ نوزائدہ مملکتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں اور الحاق سے متعلق دو بنیادی اصول مد نظر رکھیں۔ ایک ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست کی جغرافیائی وابستگی اور دوسرے ریاستی باشند گان کی خواہش جو مذہبی اکثریت کی بنیاد پر یا ریفرنڈم کے ذریعے معلوم ہو سکتی ہے۔ وائسرائے نے یہ بھی اصرار کیا کہ ریاستوں کے والیوں کو 15 اگست 1947ء سے پہلے پہلے کوئی نہ کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے۔ چنانچہ جغرافیائی محل وقوع اور باشندگان کی اکثریت کا مذہب، ریاستوں کے مستقبل کے فیصلے کا معیار مقرر ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا بھارت ہندو ریاست بن جائے گا؟جہاں کسی اورکو برداشت نہیں کیا جائے گا

تقسیم ہند کا مطالبہ مسلم قومیت کی بنیاد پر ہوا تھا اور تقسیم بھی اسی بنیاد پر وقوع پذیر ہوئی تھی اس لیے ریاستوں کے باشندوں کی مذہبی وابستگی کا الحاق سے براہ راست اور گہرا تعلق تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 78 فیصد تھی اور جغرافیائی اعتبار سے اس کی کم و بیش 950 کلو میٹر سرحد پاکستان کے ساتھ لگتی تھی۔ اس طرح ریاست کا الحاق ہر دو اصولوں یعنی تقسیم ہند کے اصول اور ریاستوں کے الحاق کے اصول کے مطابق پاکستان کے ساتھ ہونا ناگزیر تھا۔
(یادرہے کہ جونا گڑھ، حیدر آباد اور مناودر کی ریاستوں پر بھارتی قبضے کی بنیادی دلائل تھے)۔
کشمیر اور پاکستان کا معابدہ قائمہ:
اس پس منظر میں ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان 15 اگست 1947ء کو ایک معابدہ قائمہ (STAND STILL AGREEMENT طے پایا جس کے مطابق برطانوی ہند کے ساتھ ریاست کے جو معاہدات و انتظامات تھے ان کو ریاست کی حکومت نے تفصیلات طے ہونے تک پاکستان کے ساتھ جاری رکھنے کا عہد کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاست کی حکومت نے ایسا معاہدہ کرنے کی پیشکش ہندوستان کی حکومت کو بھی کی لیکن موخرالذکر نے کوئی جواب نہ دیا۔ مزید برآں حکومت ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ ریاست کے معاہدہ قائمہ کی کوئی مخالفت نہ کی بلکہ اس معاہدہ کو تسلیم کر لیا۔ اس ضمن میں بین الاقوامی قانون کے مطابق ہری سنگھ اس معاہدے کو توڑنے کا مجاز نہ تھا اور نہ ہندوستان اس معاہدے میں دخل انداری کا حق رکھتا تھا۔ اس معاہدے میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ الحاق کا فیصلہ ہونے تک معاہدہ برقرار رہے گا کیونکہ الحاق کا اس میں کہیں ذکر نہیں تھا۔ معاہدہ قائمہ نے پاکستان کو وہی آئینی اختیارات تفویض کیے جو ریاست کے متعلق برطانوی ہند کی حکومت کو حاصل تھے۔ اس معاہدہ قائمہ کے پیش نظر ہندوستان کے لیے ریاست میں مداخلت کا کوئی جواز یا اختیار نہ تھا مگر ایک سازش کے تحت ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا چنانچہ جموں ، راجوری، مینٹ، پونچھ، اودھم پور کشتوان رام نگری ریاسی، بھدرواہ اور کٹھوعہ میں ڈوگروں، جن سنگھیوں اور اکالیوں نے مسلمانوں کو ہزاروں کی تعداد میں شہید کیا۔ مسلمانوں کے گھروں اور جائیدادوں کو جلایا گیا اور عورتیں اغوا کی گئیں۔ غرض یہ کہ ظلم اور بربریت کا بازار گرم کیا گیا۔
عرصہ دراز سے ڈوگرہ حکمرانوں کے وحشیانہ غیر انسانی سلوک کے سبب تقسیم ہند کے بعد جموں و کشمیر کے مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کا بڑھ جانا ایک قدرتی امر تھا۔
اس پر مستزاد ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ اس صورت حال میں ریاست کے مسلمانوں نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور بہت کم عرصے میں مجاہدین نے بے مثال کامیابیاں حاصل کر کے بہت سا علاقہ آزاد کرالیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ گھبرا کر دار الحکومت سری نگر سے بھاگ کر جموں چلا گیا اور انڈین نیشنل کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ایک گھناؤنی سازش کے تحت اس نے 26 اکتوبر 1947ء کو ہندوستان کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کا عارضی الحاق کر دیا۔ دوسرے روز 27 اکتوبر کو ہندوستان نے عارضی الحاق منظور کرتے ہوئے اپنی فوجیں سری نگر میں اتارنی شروع کر دیں اور یوں ریاست پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ کر لیا۔
ریاست جموں و کشمیر کی حکومت نے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ معاہدہ قائمہ کیا ہوا تھا اس لیے ہری سنگھ قانونی طور پر اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر توڑنے کا مجاز نہیں تھا اور نہ ہندوستان کی حکومت ہی آئینی طور پر عارضی الحاق کی درخواست منظور کرنے اور اس کے نتیجے میں کشمیر پر قبضہ رکھنے کا حق رکھتی تھی۔ اپنی اس غیر آئینی اور غیر اخلاقی حرکت کو چھپانے کے لیے ہندوستان کے گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن نے متنازعہ عارضی الحاق کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اپنے خط محررہ 27اکتوبر 1947ء میں واضح طور پر کہا کہ ریاست کا الحاق متنازع فیہ ہے اور اس کے الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہے۔ نظم و نسق کی بحالی کے بعد الحاق کا معاملہ عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔
معاہدہ قائمہ کی روسے ریاست کا الحاق اس حد تک پاکستان سے ہو چکا تھا جس حد تک ریاست کا الحاق برطانوی ہند کے ساتھ تھا۔ اور برطانوی ہند کی حکومت جو اختیارات ریاست کے متعلق رکھتی تھی وہی اختیارات پاکستان کو حاصل تھے۔ ریاست کی حاکمیت اعلیٰ پر پاکستان کا حق تھا اور ڈاک و تار کا نظام بھی پاکستان نے سنبھال لیا تھا۔ پاکستان کو آئینی، قانونی اور اخلاقی طور پر حق حاصل تھا کہ وہ بھارتی فوجی قبضے کی مزاحمت کرے اور ریاست کو ناجائز قبضے سے آزاد کرائے لیکن اس وقت ہندوستان اور پاکستان کی افواج کی کمان مشترکہ تھی۔ اس لیے قائد اعظم کے حکم کے باوجود جموں و کشمیر میں ہندوستانی فوجی کارروائی کی مزاحمت کے لیے پاکستانی فوج نہ بھیجی گئی اور مجبور اًقائد اعظم کو اپنا حکم واپس لینا پڑا۔ ایک طرف بھارتی حکومت کشمیر کے عوام کی مرضی حاصل کرنے کے دعوے کرتی رہی اور دوسری طرف کشمیر پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے نہتے کشمیریوں کو اپنی بری اور ہوائی افواج کے ذریعے چلتی رہی۔ بالاخر مجاہدین کی سخت مزاحمت اور اپنی شکست دیکھتے ہوئے بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف شکایت پیش کر دی۔
اقوام متحدہ اور مسئلہ کشمیر:
بھارتی حکومت نے یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل نمبر 35کے تحت سلامتی کونسل میں شکایت دائر کی۔ مذکورہ آرٹیکل کے مطابق اقوام متحدہ کا کوئی بھی رکن ایسی صورت حال کو جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ سلامتی کونسل کے نوٹس میں لاسکتا ہے، پاکستان نے جوابی شکایت پیش کی۔ سلامتی کونسل نے 20جنوری 1948ء کو ایک قرارداد منظور کی جس کے ذریعے ایک سہ رکنی کمیشن مقرر کیا گیا جس کے ذمہ بھارت اور پاکستان کی شکایات سے متعلق سلامتی کونسل کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ یہ کمیشن ’’اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان‘‘ (UNCIP) کے نام سے موسوم ہوا۔ 21 اپریل 1948ء کو بلجیم، کینیڈا، چین، کولمبیا، برطانیہ اور امریکہ کی پیش کردہ تفصیلی اور غیر مبہم قرارداد سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔
یہ قرارداد مسئلہ کشمیر کے ضمن میں اقوام متحدہ کی بنیادی پالیسی کی آئینہ دار ہے۔ قرار داد دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ ’’الف‘‘ ریاست جموں و کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور فوجوں کے انخلاءسے متعلق اور حصہ ’’ب‘‘ رائے شماری کے متعلق ہے جس میں منتظم برائے رائے شماری کو ریاست میں رائے شماری کرانے کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اور بھارتی حکومت کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے سلسلے میں متعدد ہدایات دی گئی ہیں۔ اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے کمیشن کے اراکین کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کر دی گئی۔
اقوام متحدہ کے کمیشن نے 13 اگست 1948ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان فائر بندی، عارضی صلح اور جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کے لیے عوام کی رائے حاصل کرنے کے متعلق بھارت کی رضامندی سے ایک تفصیلی قرار داد منظور کی۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے۔
مذکورہ کمیشن نے اپنی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد میں فیصلہ کیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان یا ہندوستان سے الحاق کے متعلق مسئلہ کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
سلامتی کونسل نے 17 دسمبر 1949ء کو اپنے صدر کینیڈا کے جنرل میکناٹن کو اپنا ایلچی مقرر کیا جنہوں نے بھارت اور پاکستان سے بات چیت کے بعد اپنی تجاویز میں کہا کہ پاکستان اور بھارت اپنی باقاعدہ افواج ریاست سے نکال لیں اور اقوام متحدہ افواج کے انخلاء کی نگرانی کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کرے اور افواج کے انخلاء کے بعد اقوام متحدہ کا منتظم رائے شماری اپنا کام شروع کرے۔ بھارت نے مختلف حیلے بہانوں سے یہ تجاویز مسترد کر دیں۔ بہرحال سلامتی کونسل نے 14 مارچ 1950ء کو میکناٹن تجاویز کو منظور کر لیا اور فریقین کو ہدایت کی کہ وہ پانچ ماہ کے اندر اندر ان تجاویز پر عمل در آمد کریں۔ اس قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان کو توڑ دیا گیا اور اس کی جگہ اقوام متحدہ کے ایک نمائندے کا مقرر کیا جانا تجویز کیا گیا، چنانچہ اقوام متحدہ کے اولین نمائندے کی حیثیت سے آسٹریلیا ہائی کورٹ کے ایک جج سر اون ڈکسن کا تقرر ہوا۔ سر ڈکسن نے 15 دسمبر 1950ء کی اپنی رپورٹ میں سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ بھارتی وزیراعظم کسی تجویز پر رضامند نہیں ہوتا، اس لیے ریاست میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا انعقاد بعید از امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی نمائندہ مذکور نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔
ڈکسن کی جگہ امریکہ کے ڈاکٹر گرا ہم کو اقوام متحدہ کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ 30 مارچ 1951ء کو سر ڈکسن کی رپورٹ پر غور کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد میں واضح کیا کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے اقوام متحدہ کو بار بار یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا تصفیہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔ اس قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 27 اکتوبر 1950ء کو آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے جو آئین ساز اسمبلی قائم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے، اس سے یا کسی بھی ایسی اسمبلی کے کسی فیصلہ سے ریاست کے مستقبل کے متعلق سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء، 3 جون 1948ء اور 14 مارچ 1950ء کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے مشن کی 13 اگست 1948ء اور 5جنوری 1949ء کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یہ کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی مندرجہ بالا قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔
اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر گراہم نے فوجوں کے انخلاء کے متعلق مختلف اوقات میں متعدد تجاویز پیش کیں لیکن بھارت نے ہر بار ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے فوجوں کے انخلاءسے متعلق یہ تجویز بھی پیش کی کہ پاکستان آزاد کشمیر میں چار ہزار فوجی رکھے اور باقی فوج واپس بلالے اور بھارت سولہ ہزار فوجیوں کے علاوہ باقی ماندہ فوجی کشمیرے نکال لے۔ بھارت نے اٹھائیس ہزار فوجی کشمیر میں رکھنے کا مطالبہ کیا۔ جب سلامتی کونسل کے 5 نومبر 1952ء کے اجلاس میں پاکستانی مندوب نے ڈرامائی انداز میں یہ مطالبہ منظور کر لیا تو ہندوستانی مندوب وجسمی پنڈت نے کمال ڈھٹائی سے اس تجویز کو بھی، جس پر بھارت متفق ہو چکا تھا، مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستان آزاد کشمیر کا علاقہ اور شمالی علاقہ جات خالی کرے۔ بہرحال سلامتی کونسل نے اپنی 23 دسمبر 1952 کی قرارداد میں ڈاکٹر گراہم کی تیسری اور چوتھی رپورٹ میں مندرج تجاویز منظور کر لیں اور اپنی اور اقوام متحدہ کے کمیشن کی سابقہ قراردادوں کی پھر توثیق کی۔ بھارت کی بد نیتی کے باعث مزید کوئی پیش رفت ممکن نہ رہی اس لیے ڈاکٹر گراہم نے اپنی پانچویں اور آخری رپورٹ میں امید ظاہر کی کہ فریقین براہ راست مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکال لیں گے۔ 1953ء میں نہرو۔ محمد علی مذاکرات ہوئے مگر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی البتہ بھارت نے بار بار اس بات کی زبانی یقین دہانی کرائی کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا لیکن عمل کشمیر کو ہندوستان میں مدغم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا رہا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 1951ء میں مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد دستور ساز اسمبلی نے انڈین یونین سے الحاق کی منظوری دے دی تھی۔ اس کے باوجود 20 اگست 1953ء کو دہلی مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں یعنی ہندوستان اور پاکستان کے وزراء اعظم نے مشترکہ اعلامیہ میں اس امر کا اعلان کیا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔
پاکستان کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس پیر 15 جنوری 1957ء کو بلایا گیا جس میں پاکستان کے مندوب سر فیروز خان نون نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں پاکستانی اور ہندوستانی افواج کی جگہ اقوام متحدہ کی افواج متعین کی جائیں اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی زیرنگرانی استصواب رائے کروایا جائے۔ بھارت نے موقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے بھارت کے ساتھ ریاست کے الحاق کی توثیق کر دی ہے۔ اس لیے ریاست بشمول آزاد کشمیروشمالی علاقہ جات بھارت کا حصہ ہے۔
سلامتی کونسل نے 24 جنوری 1957ء کو ایک قرارداد منظور کی جس میں سلامتی کونسل نے اپنی سابقہ قراردادوں کی توثیق کی اور ایک بار پھر واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کی قائم کردہ دستور ساز اسمبلی کا کشمیر کے الحاق کے بارے میں کوئی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا اور نہ ایسی دستور ساز اسمبلی کو کوئی اختیار حاصل ہے کہ وہ ریاست کے مستقبل کا کوئی فیصلہ کر سکے۔ 30 جنوری 1957ء کو سلامتی کونسل کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ 14 فروری کو آسٹریلیا، کیوبا، برطانیہ اور امریکہ نے ایک مجوزہ قرارداد پیش کی جس میں جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی افواج کی تعیناتی سے متعلق پاکستان کی تجویز کی حمایت کی گئی تھی لیکن روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ 24 ستمبر 1957ء کو مسئلے پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا پھر اجلاس شروع ہوا جس میں پاکستان نے یکطرفہ طور پر تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی افواج آزاد کشمیر میں تعینات کر دی جائیں تا کہ بھارت کے پاس مقبوضہ کشمیرے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔ بھارتی مندوب کرشنامینن نے یہ تجویز بھی مسترد کر دی اور کہا کہ پاکستان بھارتی علاقے پر اپنی فوج کی جگہ دوسروں کی افواج لانا چاہتا ہے۔ بایں ہمہ سلامتی کونسل نے اپنی 2 دسمبر 1957ء کی قرارداد میں اپنی اور اقوام متحدہ کے کمیشن کی سابقہ قراردادوں کی توثیق کرتے ہوئے ڈاکٹر گرا ہم کو ایک بار پھر مسئلے کو سلجھانے کا کام سونپا۔
یکم فروری 1962 کو پھر سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا جس میں آئرلینڈ کی مجوزہ قرارداد کو روس نے ویٹو کر دیا۔ دسمبر 1962ء میں امریکہ اور مغربی ممالک کی خواہش پر وزارتی سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔ یہ مذاکرات جو بھٹو۔ سورن سنگھ مذاکرات کئے جاتے ہیں، ناکامی کا شکار ہوئے۔
اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں اور بین الاقوامی سٹے پر بھارت کے وعدوں کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام کو ابھی تک استصواب رائے کا حق بھارت کی ہٹ دھرمی اور بد نیتی کی وجہ سے نہیں مل سکا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 6 میں کہا گیا ہے کہ کوئی رکن ملک جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے، اقوام متحدہ کی رکنیت سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام ارکان نے عمد کیا ہوا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے فیصلوں کو تسلیم کریں گے اور ان کے مطابق عمل پیرا ہوں گے۔ آرٹیکل 41 کے مطابق سلامتی کونسل فوج کے استعمال کے علاوہ اپنے فیصلوں پر عمل در آمد کرانے کے لیے رکن ممالک سے کہہ سکتی ہے کہ وہ کسی ملک کا مکمل یا جزوی معاشی انقطاع کریں ۔جس میں ریل، سمندر، فضا، ڈاک و تار، ریڈیو اور دیگر ذرائع مواصلات کی ناکہ بندی اور سفارتی تعلقات کا انقطاع شامل ہے۔ اگر مذکورہ اقدامات ناکافی ہوں، یا ان اقدامات کے باوجود سلامتی کونسل کے فیصلے پر عمل در آمد نہ ہو تو وہ سمندری، ہوائی اور زمینی افواج کے استعمال کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایسا قدم اٹھانے کا اختیار آرٹیکل 42 نے سلامتی کونسل کو دیا ہے ۔ آرٹیکل 43 کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے بلاوے پر افواج خصوصی معاہدے کا معاہدات کے مطابق سلامتی کونسل کو مہیا کریں گے۔
مذکورہ بالا اقدامات سے پہلے سلامتی کونسل کو آرٹیکل 39 کے تحت یہ قرار دینا پڑتا ہے کہ امن و امان کو خطرہ لاحق ہے یا امن و امان کو توڑا گیا ہے یا یہ کہ جارحیت کی کمی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سلامتی کونسل کے تمام فیصلے اسی وقت موثر ہوتے ہیں جب کسی مستقل رکن نے فیصلے کے خلاف اپنا حق استرداد استعمال نہ کیا ہو۔ سلامتی کونسل نے کشمیر کے مسئلے پر تادی اقدامات کرنے کے بجائے اپنی مصالحانہ حیثیت سے کام لیا۔ آغاز میں شاید تادیبی کارروائی کے امکانات ہوسکتے تھے لیکن 1953ء کے بعد روس کے رویے میں تبدیلی اور ان میں روسی مخالفت کے باعث ایسا ہونا ممکن نہ رہا۔ موجودہ صورت حال اس قسم کی ہے کہ بھارتی غاصبانہ قبضے کی بناء پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے جو اعلان جہاد کیا ہے اور مسلمانوں کا جو قتل عام بھارتی افواج کر رہی ہیں وہ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 39 کے مطابق دنیا کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے اور سلامتی کونسل اپنی سابقہ متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی پر بھارت کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتی ہے بشرطیکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ایسی کارروائی پر متفق ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے:اقبال

محمد سلیم خان بار ایٹ لاء

اپنا تبصرہ بھیجیں