maliha lodhi

مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز سب سے بڑے بین الاقوامی فورم پر سنی گئی ہے:ملیحہ لودھی

EjazNews

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خصوصی اجلاس ہوا۔ اس بندکمرہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15رکن ممالک کے مندوبین اجلاس میں شریک ہوئے۔یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے قیام امن سپورٹ مشن کے معاون سیکرٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی شرکاء کو بریفنگ دی۔مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس 1 گھنٹہ 10 منٹ جاری رہا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا پُرامن حل چاہتے ہیں، نہتے کشمیریوں کی آواز اعلیٰ ترین فورم پر سنی گئی ہے، اجلاس پاکستانی وزیر خارجہ کے خط پر طلب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں پر ظلم و جبر کیا جارہاہے، کشمیریوں کو قید کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز سب سے بڑے بین الاقوامی فورم پر سنی گئی ہے، پاکستان نے یہ کوشش مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے کی ہے اور یہ مسئلے کے حل تک جاری رہے گی۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بھارتی مؤقف کی نفی ہوئی ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔
پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی اور چین نے بھی میٹنگ بلانےکامطالبہ کیاتھا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کےمعاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔چینی مندوب ژینگ جون نے کہا کہ بھارتی اقدام نے چین کی خود مختاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔چینی مندوب نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب مسئلہ ہے، کسی بھی فریق کو اس معاملے میں یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی آئینی ترمیم نے کشمیر کی صورت حال تبدیل کی، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھی، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر، قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  حارث رؤف نے آسٹریلوی ٹی ٹونٹی میں پاکستان کا نام روشن کر دیا

جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور ڈونلڈٹرمپ کے مابین گفتگو کا دورانیہ طویل تھا جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور خصوصی طور پر مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ عمران خان نے امریکی صدر کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیا۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نے امریکی صدرکومقبوضہ وادی کی مخدوش صورتحال سےبھی آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے مابین افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان امن عمل کی پہلے بھی حمایت کرتا تھا اور آج بھی اسے حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد اور کابل کے مابین مشترکہ بہتری اور امن و استحکام کے لیے قدم اٹھائے اور مستقبل میں بھی اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے رونما ہونے والے نئے حالات کے تناظر میں مزید رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں امریکا، برطانیہ، روس کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کردیا ہے۔پی فائیو کے پانچ میں چار ممبران سے براہ راست رابطہ ہوچکا ہے اور پاکستان کے موقف سے آگاہ کردیا۔ ہماری کوشش ہے کہ فرانس کے صدر سے بھی عمران خان کی گفتگو ہوجائے تاکہ وہ بھی ہمارے موقف سے آگاہ ہوجائیں۔
خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، تاہم پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے پڑوسی ملک سے دوطرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کردئیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  آصف علی زرداری کی گرفتاری پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کیا کہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں