partition

14اگست1947 کے وہ حقائق جو جاننا ضروری ہیں

EjazNews

14اگست 1947ءبھارتی رہنما زیادہ سے زیادہ ریاستوں کو بھارت میں زعم کر نے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ جونا گڑھ بھی انہی میں شامل تھی، حیدر آباد دکن کو زیر کرنے کے وہ کئی طریقے اختیار کر چکے تھے۔ دھونس دھاندلی اور لالچ کے یہ طریقے ہندوؤں نے خوب آزمائے۔ 12اگست کو بھارتی شخصیت وی پی مینن نے ایک اہم دستاویز نواب آف جونا گڑھ کے لیے ان کے دیوان یعنی وزیراعظم کے حوالے کی ۔نبی بخش اور ماؤنٹ بیٹن میں کئی مذاکرات ہوئے، ماؤنٹ بیٹن نجی طور پر بھی نواب آف جونا گڑھ کے قریبی ساتھی نبی بخش سے ملتے رہے اور وہ نبی بخش کو بارہا بھارت کا ساتھ دینے پر راضی کرنے کا مشورہ دیتے رہے۔ ماؤنٹ بیٹن بھارتی حکمرانوں ہندوؤں کے ترجمان تھے اور اسی حیثیت سے انہوں نے نبی بخش سے بھی رابطہ قائم کیا تھا ،اسی قسم کا تاثر انہوں نے نواں نگر کے جام صاحب کو بھی دیا تھا اور دہلی میں قیام کے دوران وہ سردار کو بھی بھارت میں شمولیت کا مشورہ دے بیٹھے۔ ان دنوں اگست 1947ءمیں عبدالقادرمحمد حسین نواب آف جونا گڑھ کے دیوان تھے۔ وی پی مینن بھی ان سے کئی مرتبہ رابطے کر چکے تھے لیکن ان کی دال نہ گل سکی۔
1947ءکے اوائل میں قادر محمد حسین نے شاہ نواز بھٹو کو جونا گڑھ پہنچنے کی دعوت دی وہ ان دنوں کراچی کی سیاست میں متحرک تھے مگر جونا گڑھ کے وزیراعظم نے اپنی کابینہ کا عہدہ پیش کیا، سٹیٹ کونسل آف منسٹر میں شمولیت کی دعوت دی۔ سر شاہ نواز بھٹو اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے دہلی پہنچ گئے۔ اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد عبدالقار حسین کی صحت خراب رہنے لگی اور وہ علاج معالجہ کے لیے بیرون ملک چلے گئے ۔ سر شاہ نواز بھٹو نے ان کی جگہ دیوان یعنی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ،اسی عرصہ میں جونا گڑھ حکومت نے ماؤنٹ بیٹن کے دست راست نبی بخش سے بھی جان چڑھا لی ۔سر شاہ نواز بھٹو کا وزیراعظم بننا تھا کہ نواب آف جونا گڑھ مسلم لیگ کے زیر اثر آگئے۔ ان دنوں نواں نگر کے جام صاحب اور دھرن غدرا کے مہاراجہ نے وی پی مینن کو خبردار کیا کہ سر شاہ نوازکے پاس جب تک بھاگ دوڑ ہے جونا گڑھ کے پاکستان کے جانے کا امکان ہے۔ سر شاہ نواز پاکستان کے زبردست حامی تھے ، جونا گڑھ میں ان کی سیاسی کردار ہندوؤں کی خواہش سے بالکل برعکس تھا۔ نواب صاحب کے لیے ایک انسٹومنٹ آف ایکسیشن ارسال کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہلا بھیجا کہ اس دستاویزات پہ 12اگست تک دستخط درکار ہیں، یہ ٹیلی گرام نواب اور دیوان وزیراعظم کے نام ارسال کیے گئے۔ وی پی مینن نے 13اگست تک جواب دینے کی استدعا کی۔ 13اگست کو سر شاہ نواز بھٹو کو بھارتی نمائندے وی پی مینن کو ٹکا سا جواب دیا۔ لکھا تھا یہ معاملہ ہمارے زیر غور ہے اسی روز سر شاہ نواز بھٹو نے چیدہ چیدہ شہریوں پر مشتمل ایک کانفرنس بلا ڈالی اسے آپ عوامی گو ل میز کانفرنس کہتے ہیں ۔ ادھر بھارتی زعما نے ہندو شہریوں کو بھی اکسایا چنانچہ انہوں نے بھی ایک میمورنڈم دیوان کو پیش کیا۔ نواب صاحب کے لیے یہ میمورنڈم شاہ نواز کے سپرد کیا۔میمورنڈم کیا تھا ہندوؤں کی جانب سے دیوان اور نواب کو واضح دھمکی آمیز پیغام تھا۔ اس میں پاکستان کی شمولیت کی صورت میں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔ جونا گڑھ کی جغرافیائی حیثیت آزادانہ تھی، ارد گرد ہندو ریاستوں کی اکثریت تھی۔ خود جونا گڑھ کے اندر بھی ہندو بڑی تعداد میں آباد تھے اور اس میں کاٹھیا وار میں جونا گڑھ کا منفرد مقام واپس لینے کی دھمکی بھی شامل تھی۔ بھارتی راستوں کی بندش، صنعت و تجارت میں رکاوٹ اور ریاست کو پہنچنے والے ممکنہ مالی نقصان کی دھمکی ان کے علاوہ تھی۔ ہندوؤں نے کاٹھیا وار کی جانب سے زر تلافی کی ادائیگی بھی بند کرنے کی دھمکی دی۔ لیکن سر شاہ نواز بھٹو کے کان پر جونہ رینگی۔ میمورنڈم میں آخر کار تما م دھمکیوں کے بعد نواب اور دیوان کو بھارت کا راستہ دکھایا گیا تھا۔ تاہم کانفرنس میں شرکاءنے یہی رائے دی کہ قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلے کا اختیار نواب کو حاصل ہے۔ چنانچہ 15اگست کو جونا گڑھ کے نواب نے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا، ان کے اعلان میں لکھا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے جونا گڑھ کی حکومت کو بھارت یا پاکستان میں کسی ایک کا انتخاب کرنے میں کئی مسائل در پیش تھے۔ اس نے ہر مشکل کا ہر پہلو سے جائزہ لیا۔سب سے بڑا مسئلہ مالی وسائل کے حصول کا تھا جونا گڑھ کے عوام کی ترقی اور خوشحالی میں سرمائے کے حصول کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ریاست کی سلامتی کا تحفظ اور آزادی کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ چنانچہ تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ریاست نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا ہے ریاست پر امید ہے اور اسے یقین ہے کہ تمام وفادار شہری اس کا خلوص دل کے ساتھ خیر مقدم کریں گے۔ کیونکہ اسی میں ان کی ترقی اور خوشحالی کا راز پنہاں ہے۔ اس کی خبر 17اگست کے اخبارات میں تفصیلی انداز میں شائع ہوئی۔ وی پی مینن کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ۔
لیکن اس کے باوجود بھارت نے اس ریاست پر فوجی قبضہ جما لیا اور اس وقت بھارت کا یہ کہنا تھا کہ جونا گڑھ کے عوام بھارت کے ساتھ ہیں۔ آپ دیکھئے تقسیم کے وقت پاکستان کے حق پر کیسے ڈاکے ڈالے گئے۔ ساری کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ ہیں لیکن وہاں پر قبضہ یہ کہہ کر قائم کر لیا کہ ریاست کا راجہ ہمارے ساتھ ہے اور جونا گڑھ میں یہ کہہ کر قبضہ کر لیا کہ ریاست کی عوام ہمارے ساتھ ہے ۔ کشمیر پر قبضہ کے بعد اسے خود میں ضم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہر پاکستانی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس منظوم کوشش کوناکام بنائے ۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیرکی آزادی میں تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کا کردار

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سر شاہ نواز بھٹو ،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے والد تھے۔انڈیا نے جب ریاست جونا گڑھ پر فوج کے ذریعے قبضہ کیا تھا تو قبضہ سے ایک رات پہلے یہ پاکستان آگئے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں