judgement

انگلستان کا طویل ترین مقدمہ

EjazNews

بے ایمان ہر جگہ پائے جاتے ہیں،ایک برطانوی جوڑے نے 17ملین ڈالر کا کلیم کیا اور جعلی دستخطوں کے ذریعے دوسروں کی جائیدادیں ہتھیا لیں۔لارین نامی اس جوڑے پر طویل ترین مقدمہ چلا اور بالآخر اسے ہتھیائی جانے والی یہ جائیدادیں اصل مالکان کے حوالے کرنا پڑ گئیں۔ 52سالہ ایڈوین میکلاوین جائیدادوں کا کاروبار کرتا تھا۔ ایڈوین نے لوگوں کی جائیدادیں ہتھیانے کے لیے لوگوں کے جعلی دستخط کرنے شروع کر دئیے۔ اس کام میں اس کی بیوی لارین بھی شریک تھی۔ یہ مقدمہ لگ بھگ 320دن چلا۔ ایڈوین کو ہائیکورٹ نے درجنوں مرتبہ اس مقدمے کی سماعت کی دونوں کو مجرم ثابت کر دیا گیاہوا ہے۔
تفتیش کار کے مطابق انگلینڈ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ نہیں۔ افسران ایسے درجنوں مقدمات کی تفتیش کر چکے ہیں۔ ایسے مقدمات کی تفتیش بھی کر چکے ہیں جس میں امیر آدمی کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیا گیا۔ صاحب جائیداد کو بے گھر کر دیاگیا یا ان کے اکاﺅنٹس خالی کر دئیے گئے۔ لیکن یہ مقدمہ اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد مقدمہ تھا اس میں انہیں ملک کے مختلف حصوں سے شوائد جمع کرنے میں 4سال لگے۔ 4سال تک انہیں 17لاکھ پاﺅنڈ مالیت کی 24جائیدادوں کی تمام معلومات اکٹھی کرنا پڑیں۔ قانونی ٹرانسفرز اور بنک کا جائزہ لینا پڑا۔ میکلاوین نے انتہائی پیچیدہ کام کیاتھا۔ وہ کرائے پر بھی چڑھاتا تھا اور میکوفون بھی کرتا تھا۔ اس دوران وہ دھوکہ دہی سے دستخط کر وا لیتا اور پارسل ڈیل کو سیل ڈیل میں بدل دیتا اس طرح وہ شعبدہ بازی کے ذریعے سے لوگوں کے پیسے ہتھیاتا رہا۔ بعض کیسوں میں اس نے لوگوں کو یہ خواب بھی دکھایا کہ وہ بنکوں کے قرضے ادا کر دے گا وہ پراپرٹی اس کے نام کر دیں ۔ اس طرح جائیداد لینے کے بعد اس نے قرضے ادا کر نے کی بجائے کسی اور کو فروخت کر دی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے ٹیلی مواصلات اورکمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی ضرورت تھی۔ مالیاتی کرائم کے ماہر اور جرم کے اچھے تجزیہ کاروں کی ضرورت تھی۔ پھر لاکھوں کاغذات کا بھی بھرپور جائزہ لینا تھا۔ “
لاسن میکلورین نے معصوم شہریوں کو بے وقوف بنانے کے لیے بے رحمانہ ہتھکنڈے استعمال کیے اس کی لالچ کی کوئی انتہا نہ تھی جائیدادوں کی ہیرا پھیری کے عرصہ بہت لمبا تھا۔ ان جائیدادوں کو ہتھیانے میں اس نے کئی سال لگائے اس لیے تفتیش میں بھی کافی وقت لگا۔

یہ بھی پڑھیں:  غاروں میں پیدا ہونے والے بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں