midan erfat

عرفات کے مسائل

EjazNews

وقوف عرفہ کے لئے یہ پانچ شرطیں ہیں۔
(۱) اسلام کا ہونا ۔ اگر کافر کفر کی حالت میں وقوف کرے اور وہاں سے خارج ہونے کے بعد مزدلفہ منیٰ میں مسلمان ہو تو اس کا وقوف معتبر نہیں ہوگا۔
(۲) نیت وقوف کیونکہ بغیر نیت کے کسی عمل کا اعتبار نہیں ہے۔
(۳) صحیح احرام کا ہونا ، بغیر احرام کے وقوف کا اعتبار نہیں ہے۔
(۴) صرف عرفات ہی میں وقوف کرنا، اگر غیر عرفات میں وقوف کرے تو حج نہیںادا ہوگا۔
(۵) وقوف کا وقت ہونا، یعنی نویں ذی الحجہ کے زوال سے غروب آفتاب تک اور مجبوری سے دسویں کی صبح سے پہلے کر لیا جائے۔
میدان عرفہ میں ٹھہرنا بڑا رکن ہے اگرچہ ایک ہی منٹ کے لئے ہو۔ حضرت مضرس بن اوس طائی ؓ فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں آیا۔ جب آپ نماز کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول میں طے کے پہاڑوں سے آرہا ہوں، میری سواری بھی تھک گئی ہے اور میں بھی پریشان ہوگیا۔ اور ہر پہاڑ پر وقوف کرتا ہوا میں آرہا ہوں۔ ”فھل لی من حج “ تو میرا حج ہوگا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا:
ترجمہ: جو ہماری اس نماز میں شریک ہوا اور ہمارے ساتھ ٹھہرا یہاں تک کہ ہم چلے اور اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کو ٹھہرا۔ تو اس کا حج پورا ہوگیا۔(ترمذی)
حضرت عبدالرحمن بن یعمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں وقوف فرما تھے کہ چند نجدی آئے اور آپ سے مسائل دریافت کرنے لگے۔ آپ نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے:
ترجمہ: عرفہ میں وقوف کرنا ہی حج ہے جو مزدلفہ کی رات میں آگیا طلوع فجر سے پہلے تو اس کا حج پورا ہو جائے گا۔ (ترمذی، نسائی)
وقوف کے لئے طہارت شرط نہیں بلکہ حیض و نفاس والی عورتیں بھی عرفہ میں وقوف کریں اور زوال آفتاب سے طلوع فجر تک وقت ہے لیکن مسنون طریقہ زوال سے غروب تک ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ اگر چند منٹ بھی وقوف کرے تو حج ادا ہو جائے گا۔ نیل الاوطار میں ہے:
ترجمہ: اس وقت میں عرفہ کے کسی حصہ میں وقوف کرلینا کافی ہے ۔ اگرچہ چند لمحات ہی کے لئے ہو جمہور آئمہ اس کے قائل ہیں۔
اگرکوئی غروب آفتاب سے پہلے ہی عرفات سے چل پڑے تو اس پر دم جنایت لازم آئے گا۔ مغنی میں ہے،
ترجمہ، غروب سے پہلے چلنے والے پر دم ہے۔
عرفات میں ظہر و عصر کو اس طرح ادا کرنا چاہئے کہ ان دونوں نمازوں کو اذان و تکبیر کے بعد ظہر کے وقت میں ایک ساتھ قصر کر کے ادا کرنا چاہیے۔ یعنی ظہر کے وقت میں ایک اذان اور ایک تکبیر کے بعد صرف دو رکعت نماز ادا کرلی جائے ۔ پھر تکبیر کے بعد اسی وقت عصر کی دو رکعت پڑھ لی جائے ۔ سنت اور نفل کے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس جمع بین الصلوٰتین میں مقیم و مسافر دونوں برابر ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نویں ذی الحجہ کو صبح کی نماز ادا کر کے صبح سویرے عرفات کی طرف تشریف لے گئے اور نمرہ میں آپ اترے، امام کے اترنے کی وہی جگہ ہے۔(ابوداﺅد)
ترجمہ: پھر آپ نے ظہر ہی کے وقت میں ظہر و عصر دونوں کو ادا کر کے خطبہ دیا پھر عرفات میں جا کر وقوف کیا۔(ابوداﺅد)
عرفات میں کثرت سے تلبیہ ، تہلیل، تحمید ، تسبیح ، دعا ، استغفار ، قرآن مجید اور درود شریف پڑھنا چاہئے حضرت محمد بن ابی بکر ؓ نے حضرت انس ؓ سے دریافت کیا:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگ کیا کرتے تھے۔ فرمایا بعض لبیک کہتے اور بعض اللہ اکبر کہتے اور کوئی کسی پر انکار نہیں کرتا۔ (بخاری و مسلم)
اگر نویں تاریخ عرفات میں جمعہ کا دن ہوتو اس دن عرفات میں ظہر پڑھے جمعہ پڑھناجائز نہیں ہے۔حجة الوداع میں عرفات میں جمعہ کا دن تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر دونوں کو جمع کر کے ادا فرمایا اور اس میں آہستہ آہستہ قرا¿ت فرمائی جیسا کہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے۔ زاد المعادین ہے۔
ترجمہ: پھر اقامت ہوئی اور ظہر کی دو رکعت ادا کی جس میں آہستہ قرا¿ت کی وہ جمعہ کا دن تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسافر جمعہ کی نماز نہ پڑھے۔
عرفات میں روزہ رکھناجائز نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ نہیں رکھا اور دوسروں کوب ھی عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نھی عن صوم عرفہ بعرفة “(ابوداﺅ) عرفہ میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ البتہ غیر حاجی کو غیر عرفات میں روزہ رکھنا باعث ثواب ہے ۔ آپ نے فرمایا:
ترجمہ: عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے مجھے خدا سے توقع ہے کہ اس کی برکت سے دو سال کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ (مسلم)
لیکن اس کے ساتھ آٹھویں تاریخ کا بھی ایک روزہ رکھ لینا چاہئے۔
وقوف عرفہ کی حکمت:
عرفات کیحاضری حج کا بڑا رکن ہے وقوف عرفات حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ یہاں کی حاضری کو حج میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ صحیح حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مغفرت عامہ کا نزول حاضر ہونے والوں کے لئے عرفات ہی میں ہوتا ہے۔ اخلاص سے جو دعائیں مانگی جاتی ہیں وہ قبول ہوتی ہیں اس کی تشریعی حکمت یہ ہے اس جگہ سب مل کر اللہ کو یاد کریں۔ دعائیں مانگیں ۔ اپنی اس حالت کو حشر کا نمونہ سمجھ کر اس موقف اکبر کی استعداد پیدا کریں۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے حجة اللہ البالغہ میں یہی حکمت بیان فرمائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آب زمزم

اپنا تبصرہ بھیجیں