Kashmir

وہی ہوا جس کا ڈر تھا

EjazNews

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربھارتی پارلیمنٹ کااجلاس ہوا، جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک ہوئے۔بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی ایک کے سوا تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔بھارتی وزیرداخلہ نے کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کرنے کا بل پیش کردیا، تجویز کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے اور آرٹیکل370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوجائےگی۔
بھارتی صدر نے بھی آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دئیے ہیں اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔
دوسری جانب بھارتی اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیرداخلہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی سرکارنے آرٹیکل ختم کیا تومخالفت کریں گے جبکہ کانگریسی رہنما کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قانون پر مشورہ نہیں کیا۔
یاد رہے مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے ، لوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئے، کشمیری رہنما محبوبہ مفتی عمرعبداللہ اورسجاد لون سمیت دیگرکوبھی نظربند کردیاگیا ہے۔مقبوضہ وادی میں دفعہ 144 نافدہے۔ تمام تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بنداکر دیا گیا ہے۔ لوگو ں کی نقل وحرکت پربھی پابندی عائد کردی گئی ہے، سری نگر سمیت پوری وادی کشمیرمیں موبائل فون،انٹرنیٹ،ریڈیو، ٹی وی سمیت مواصلاتی نظام معطل کردیاگیا ہے جبکہ بھارتی فورسز کےاہلکاروں نے پولیس تھانوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
یاد رہے مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کا فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے کہ انہوں نے الحاق پاکستان سے کرنا ہے یا پھر انڈیا سے۔ آج کے اس آرٹیکل کو ختم کر کے اقوام متحدہ کوبھی چیلنج کیا گیا ہے۔ اس سے کشمیری اپنی ہی ریاست میں دوسرے درجے کے شہر ی بن کر رہ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان یونیورسٹی میں ہراسگی کیس :سابق وی سی پر جوڈیشل کارروائی کی سفارش

اپنا تبصرہ بھیجیں