Hamid ali khan

ہمارے خاندان میں آٹھ دس سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت شروع کروا دی جاتی ہے اور وہ پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے

EjazNews

حامد علی خان کا شمارفن موسیقی کے بڑے ناموں میں شمار ہوتا ہے بلکہ اگر میں اسے تھوڑا سا بدل دوں اور کہووں کہ ان کا شمار ان چند گنے چنے گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ جنہیں بے شمارتاج اور اعزازات انعام اور اکرام ملے ہیں تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے کلاسیقی اور نیم کلاسیقی موسیقی میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے حامد علی خان عام زندگی میں انتہائی سادہ شخصیت کے مالک انسان ہیں۔ لاہور شہر کے مہنگے ترین علاقے میں محنت اور موسیقی سے بنائے ہوئے گھر میں رہنے کی بجائے وہ آج بھی اندرون شہر کے چند مرلوں پر مشتمل مکان میں رہتے ہیں۔ گنجان آباد علاقے میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے انہیں کسی بڑی گاڑی کی ضرورت نہیں وہ تنہا ہوں تو رکشے میں بھی سوار ہو جاتے ہیں۔ رکشے میں ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر سفر کرنا انہیں اچھا لگتا ہے۔ اپنا ایک واقعہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ گھر جاتے ہوئے چند سپاہیوں سے سامنا ہو گیا، ڈرے کہ کہیں چالان نہ ہو جائے ، رکشہ دوسری گلی میں مڑوالیا۔ رکشہ ڈرائیور ہنسا اور بولا صاحب ہم تو آپ کا نام لے کر پولیس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ خود ہی چھپ کر جا رہے ہیں۔ تو خان صاحب بولے بھائی ہمیں عاجزی سے ہی رہنا چاہئے، اللہ تعالیٰ عاجزی کو پسند فرماتا ہے۔
انہیں سوسائٹیاں کسی ویرانے کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ جس میں ان کا کبھی دل نہیں لگتا۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا دل ااسی اندرون شہر کے گھر میں کہیں کھو گیا ہے۔ میں کس طرح اپنے بزرگوں کی یادوں کو چھوڑ کر الگ گھر میں منتقل ہوں ۔ ایسے ہیں حامد علی خان ،آئیے حامد علی خان سے کی گئی باتیں آپ سب سے بھی شیئر کرتے ہیں۔

ملیحہ لودھی اور حامد علی خان

س: یہ بہت کم سنا گیا ہے کہ کسی گھرانے میں سارے ہی کلاسیکی گائیک پیدا ہوئے ہوں اور وہ بھی فن کی بلندیوں کو چھونے والے ۔ ایسا کیسے ممکن ہوا؟
ج: اللہ کی کرم نوازی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ یہ آواز اور یہ انداز اسی کی کرم نوازی ہے۔ ورنہ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ ہمارے خاندان میں آٹھ دس سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت شروع کروا دی جاتی ہے اور وہ پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے۔ ہر عمر میں تربیت مختلف بنیادوں پہ کی جاتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے ہمارے پورے گھرانے پر ہے۔ دوران تربیت سختی بھی کی جاتی ہے۔ چاہے بچے کو شوق ہو یا نہ بچپن میں ہمیں پتہ ہی نہیں لگا کہ ہمیں کس چیز کا شوق ہے۔ بچپن میں بہت زیادہ ریاض کیا ہے۔ اس وقت ہمیں ریاض کرنا اچھی بھی نہیں لگتا تھا ہماری عمروں کے دوسرے بچے کھیل رہے ہوتے تھے اور ہم ریاض میں لگے ہوتے تھے لیکن بعد میں جب ہمیں احساس ہوا کہ اس ریاض کے فائدے کیا ہیں تو پھر ساری توجہ اسی پر مبذول ہو گئی۔ جب سمجھ آئی تو پتہ چلا کہ یہ تو بہت بڑا کام ہے جو ہم نے کر لیا ہے اور پھر ہم نے یہ ریاض پوری دلچسپی سے کیا۔ پہلی مرتبہ ایک بہت بڑے موسیقار کے ساتھ گانے کا موقع ملا یہ میرے بچپن کا زمانہ تھا۔ بڑے موسیقار نے میری شرکت پر اعتراض بھی کیا لیکن لوگوں نے سمجھایا کہ کوئی بات نہیں یہ تو بچے ہیں انہیں بھی گا لینے دیجئے وہ کہتے تھے کہ میرا اور ان کا کیا مقابلہ انہیں کیوں میرے ساتھ بلوایا گیا ہے۔ لیکن لوگوں کے سمجھانے پر بات آئی گئی ہو گئی۔ پہلی مرتبہ جب اس مجلس میں خوب داد ملی تو بہت مزا آیا۔ فنکاروں میں یہ قدرتی سی بات ہے کہ اگر کوئی پہلے اچھا کام کر جائے تو بعد والے کو اس معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔
س: آپ کے گانے چوری بھی کیے گئے ہیں اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ج:ہمارے گانے میں بھارت میں ری میکس کر کے گائے، ایک سٹوڈیو میں کیا ہور ہا ہے۔ جب اصل گانے والے موجود ہیں تو ان سے پوچھو آپ کیا کر رہے ہو ان سے پوچھو تو سہی اس سے فنکار کو بہت تکلیف ہوتی ہے کہ میرا گایا ہوا گانا کوئی اور گا رہے ہیں۔اب میں اپنے گانے رجسٹرڈ کروا رہا ہوں۔اینلکچول پراپرٹی رائٹ میں میں اپنے گانے رجسٹر کروا رہا ہوں میں نے دیکھا ہے یہ تو بعض ہی نہیں آتے۔اس لیے قانون کا سہارا لینا پڑے گا۔ پھر آپ یہ بھی دیکھیں کہ مہدی حسن اور میڈم نور جہاں کا گایا ہوا گانا کوئی اچھا گا سکتا ہے۔ یہ لوگ گانے کی کوالٹی بھی خراب کر رہے ہیں۔ تو بھائی غیر ت کرو۔
س: اپنے گھرانے کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ج: میرے پڑدادا میاں چالو جی، میرے دادا علی بخش خان، کرنل فتح علی خان، میاں احمد جان خان، استاد عاشق علی خان، والد ، میرے بھائی استاد فتح علی خان، میں اور اسد ۔ گھرانا اس کو بولتے ہیں جس کی پانچ پیٹریاں ایک ہی کام کرتی آئیں اور اپنا دور میں وہ مشہور بھی ہوں۔ یعنی اس گھرانے میں پیدا ہونے والے ہر گائیک نے اپنے آپ کو منوایا ہو۔ اس گھرانے کے شاگرد استاد بھی ہیں۔ استاد بڑے غلام علی خان کلاسیکی موسیقی کی اتھارٹی ہیں لیکن وہ اس گھرانے کے شاگرد ہیں۔ وہ استاد عاشق علی خان کے شاگرد ہیں۔ میڈم فریدہ خانم استاد عاشق علی خان کی شاگرد تھیں۔ سینٹ ہارڈی بھی عاشق علی خان کے شاگرد ہیں۔ اتنا کرم ہے کہ میوزک کا کوئی شوقین ایسا نہیں جو پٹیالہ گھرانے کو نہ جانتا ہو۔ پٹیالہ گھرانہ اب ایک ٹائٹل بن چکا ہے۔ مجھے یہ دعا دی تھی کہ ہم تمہارے پیٹ سے دوبارہ آتے رہیں گے۔بچپن میں ہی میرے بھائیوں کو پتہ چل گیا تھا کہ میں نام کروں گا۔ بچوں کی حرکات و سکنات سے انہیں پتہ چل جاتا ہے۔ وہ مجھے کہتے تھے کہ تم اپنے ماں باپ کی آخری اولاد ہو ان کی دعا تھی کہ میں اچھا گائیک بنوں۔ ابا جی دو دو مہینے ملک سے باہر رہتے تھے۔ لیکن وہ مجھے ٹٹولتے رہتے تھے۔ بھائی امانت علی خان بھی مجھے کہتے تھے کہ فلاں بڑا موسیقار کسی کی خامخواہ تعریف نہیں کرتا تم مجھے فلاں کا سر سناﺅ۔ ہم امانت علی خان سے ڈرتے تھے وہ بہن بھائیوں میں بڑے تھے۔ انہوں نے مجھے موسیقی کی باریک سی چیز کہنے کو سنائی۔ جب میں نے سنائی تو انہوں نے کہا جاﺅ انہیں پتہ چل چکا تھا کہ میں اچھا گلو کار بنوں گا۔میں محفلوں میں اب پانچ پانچ گھنٹے تک گا سکتا ہوں۔ ورنہ تو کوئی آدھا گھنٹہ چوکڑی مار کر نہیں بیٹھ سکتا۔ میں کبھی سی ڈی نہیں چلاتا میں ہر چیز لائیو گاتا ہوں۔میرا پورا گانا فل بدی ہوتا ہے۔ میں کبھی سوچ کر نہیں جاتا کہ کون سا گانا گاﺅں گا۔
س: تو میوزیشن کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کون سا گانا گانے والے ہیں؟
ج: ایک دائرہ تو بنا ہوتا ہے اس دائرے میں کیسے کھیلنا ہے یہ ہم اپنے انداز میں کرتے ہیں۔آمد شروع ہو جائے اور سننے والے سامنے ہوں تو نئے نئے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ میں اچھائی کا دامن نہیں چھوڑتا لیکن ا گر کوئی میرے منہ پر بات کرے تو میں چھوڑتا نہیں ہوں ۔ ادب کا ایک تقاضاہے اپنے سے بڑے فنکار کی عزت کرنا چاہئے لیکن بے عزتی برداشت نہیں۔ جب میرا دنیا میں نام نہیں تھا تب بھی میں سادہ تھا ۔
س: اس زمانے میں لوگ نئی نسل کی حوصلہ افزائی نہیں کیا کرتے تھے؟
ج: حوصلہ افزائی تو بہت کرتے تھے لیکن ان کا اعتراض یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بچوں سے کیوں گوایا گیا۔ بس بچپن کی تربیت ہمارے کام آئی۔
س: آپ اپنے خاندانی انداز کو ہی فالو کر رہے ہیں ؟
ج: بنیادی طور پر تو پٹیالہ گھرانے کا انداز ایک ہی ہے۔ لیکن ہر فرد کا اپنا منفر د مزاج ، منفرد شخصیت ،الگ آواز اور سر تال اس میں خصوصی انفرادیت پیدا ہونا فطری بات ہے۔ میں دوسرے فنکاروں کے گانے نہیں گاتااپنے بھائیوں اور بزرگوں کے گانے کبھی گا لیتا ہوں وہ بھی فرمائش کی صورت میں۔ دوسروں کے گانے گا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھانے والی بات ہوتی ہے۔
س:پھر تو آپ ری میکس گانوں کے بھی مخالف ہوں گے؟
ج: بالکل صحیح کہا آپ نے اسی بات کا مجھے شدید افسوس ہے لوگ کسی دوسرے کا گایا ہوا گانا آسانی سے کیوں گا لیتے ہیں۔ ایک گانے کا سلطان موجود ہے وہ اسی گانے سے اپنی روزی روٹی کماتا ہے اور کوئی آدمی اٹھتا ہے اور اسی کے گانے کی نقل مار کے اپنا گانا پیش کر دیتا ہے۔ یہ بہت ہی ڈھیٹ لوگ ہیں پھر بہانا یہ بناتے ہیں ہم اس طرح سے پرانے موسیقار کو پذیرائی دے رہے ہیں۔ یہ ری مکسنگ کا ہی تو رونا ہے میں اس کا شدید مخالف ہوں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے ہاں اگر کسی جگہ پہ کوئی یہ کہے کہ آپ نے فلاں فلاں گانے گانے ہیں تو پھر اور بات ہے اور کسی مشہور گانے کو گا کر ری مکسنگ کرنا غلط ہے اور یہ ہوشیاری اور چالاکی غلط ہے۔
س: آپ کی تعلیم کہاں تک ہے؟
ج: میں نے سکول کی پڑھائی نہیں کی لیکن فن موسیقی میں میں نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ مجھے آج تک کوئی تحریر پڑھنے میں دکت محسوس نہیں ہوئی۔ میں اپنی ڈائری اپنے ہاتھ سے لکھتا ہوں کہنا تو نہیں چاہئے لیکن میری رائٹنگ ایسی ہے جیسے خطاطی ہو۔میں کسی کا پڑھا گا ہی نہیں سکتا خود اپنے ہاتھ سے اپنا گانا لکھتا ہوں۔ اب تک میں اتنے گانے گا چکا ہوں کہ تعداد ہی معلوم نہیں۔ 35سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ۔ آپ اندازہ کر لیجئے کہ کتنے گانے گائے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  موسیقی کا ایک نادر نام
استاد حامد علی خان

س: آپ کو بیرون ملک بھی پذیرائی حاصل ہے تو وہ ظاہر ہے کہ آپ کی غزل کو تو نہیں سمجھ پاتے ہوں گے پھر بھی وہ آپ کی موسیقی کو پسند کرتے ہیں یا سروں میں دلچسپی لیتے ہیں؟
ج: نظم ، غزل یا گیت ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ کلاسیکل اور صوفی موسیقی میں انہیں بہت دلچسپی ہے۔ صوفی میوزک کی بیٹ پر وہ رقص کرتے ہیں۔ کلاسیکی موسیقی میں وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ وہ بہت مشکل کام کر رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ناروے میں میں اور اسد امانت علی پرفارمنس کر رہے تھے اس محفل میں سارے نارویجن لوگ تھے۔ ایک بھی پاکستانی نہیں تھا۔ ایک نارویجن میرے پاس آیا اور کہتا ہے کہ منہ کھولو تو میں حیران ہوا وہ منہ کھولنے کو کیوں کہتا ہے ۔ تو اس نے کہا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے گلے میں کیا فٹ کیا ہے یہ آواز کیسے نکلتی ہے۔ ان کو یہ سمجھ ہے کہ ہم جو کام کرتے ہیں وہ مشکل کام ہے۔ فرانس ، ہالینڈ اور ایسے کئی ممالک میں کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ محفلیں رکھی جاتی ہیں۔ یہ محفلیں گورے خود جماتے ہیں۔ کلاسیکل سے لے کر میں نے موسیقی کی ہر سمت کو گایا ہے۔ غزل ہو یا ٹھمری میں نے سب اقسام گائی ہیں۔ لیکن جو مزہ کلاسیکی گانوں میں آیا وہ کسی اور میں نہیں آیا۔ اس میں ہماری بہت محنت صرف ہوتی ہے۔ کئی غزلوں کی کمپوزنگ میں خود کرتا ہوں۔
س: آپ کے تو گھر میں ماڈرن میوزک نے جگہ بنائی ہے اور آپ کے بیٹوں نے راگا بینڈز بنایا؟
ج: انہوں نے پہلے ہماری طرح کلاسیکی موسیقی کا بھرپور ریاض کیا۔ سالہا سال محنت کی اور پھر انہوں نے زمانے کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کلاسیکی اور نیم کلاسیکی ساز اور انداز کو چھوڑا نہیں وہ دونوں اصلاف میں اچھی پرفارمنس دے سکتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ٹی وی نہیں تھے اور چائے کے ایک کپ کے ساتھ پندرہ پندرہ بیس بیس لوگ تھیڑوں پر بیٹھے کلاسیکی گائیک کے منتظر رہتے تھے۔ کہ کب فلاں گائیک کا گانا آئے گا وہ سن کر ہی جائیں گے۔ ایسا بھی دور تھا کہ لوگ فلم میں مہدی حسن کی غزل سننے جاتے تھے۔ وہ گانا سننے کے بعد بہت سے لوگ سینما ہال سے چلے جاتے تھے۔ لیکن جن لوگوں نے کلاسیکل میں جگہ بنائی وہ آج تک چل رہے ہیں۔جن میں رشید عطرے، خواجہ خورشید انور، ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبداللہ، صفدر حسین، ایم جاویدبھی شامل ہیں۔ میوزک ابھی بھی زندہ ہے بس اس سے کام نہیں لیا جارہا ۔ اس لیے بیڑا غرق ہو رہا ہے۔
س: آج کل تو محفلوں میں لپ سنگنگ کا زمانہ آگیا ہے موسیقار ایکٹنگ کرتا ہے اور پیچھے صرف کیسٹ چلتی ہے؟
ج: میں اسے سامعین کے ساتھ فراڈ سمجھتا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ کوئی ادارہ پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ آپ نے کہاں سے گانا سیکھا ہے کس سے ٹریننگ لی ہے۔
س: شادی تو والدین کی پسند کی ہی ہو گی؟
ج: شادی والدین کی پسند سے ہے اورپیار اور محبت سے ہوئی۔ ہم بہت خوش ہیں میرے ماشاءاللہ پانچ بچے ہیں دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔ تینوں بیٹوں نے بینڈ بنایا ہے۔ نایاب علی، انعام علی خان ہمارے خاندان میں بیٹیوں کو سامنے نہیں لایا جاتا۔میرے بچے اگر کلاسیکی موسیقی نہ گاتے تو پھر مجھے پریشانی ہوتی۔ ان بچوں کی بھی مہربانی ہے انہیں پتہ کہ انہوں نے یہ کام بھی کرنا ہے۔ گھرانوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ میوزک کا دور ہو یا نہ انہوں نے گھر کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ انہوں نے روایت کو زندہ رکھنا ہے۔
س: کلاسیکل موسیقی نے کب زیادہ ترقی کی؟
ج: کلاسیکل میوزک نے استاد فتح علی خان، استاد نزاکت علی خان کے دور میں زیادہ ترقی کی۔ یہ دو پارٹیاں اگر پاکستان میں نہ ہوتیں تو کلاسیکل میوزک کا دور ختم ہو جاتا ۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا:میر عبدالقدوس بزنجو

اپنا تبصرہ بھیجیں