tayyip erdogan

ترک صدر طیب اردگان میں سلاطین کی جھلک نظر آرہی ہے

EjazNews

ترکی کے صدر طیب اردگان کے ماضی کی کامیابیوں کو مدنظر رکھا جائے، تو اُن کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی گزشہ 16برس سے ہر الیکشن ہی میں کامیابی حاصل کرتی چلی آرہی ہے۔ تاہم گزشتہ برس ہونے والے مقررہ مدت سے ڈیڑھ برس قبل ہونے والے صدارتی انتخابات کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل تھی کہ اُن کے ذریعے تُرک صدر نے مُلک کے سیاسی نظام کو بدلنے کا اختیار حاصل کیا۔ یہ انتخابات تُرکی کے پارلیمانی نظامِ جمہوریت کو صدارتی نظام میں بدلنے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کا حتمی مرحلہ بھی تھے۔ ترکی میں گزشتہ الیکشن میںٹرن آئوٹ 87فیصد رہا۔ انتخابات میں اردگان نے 53فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے قریب ترین حریف، محرم انسےنے 32فیصد ووٹ۔ ان انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ان میں دُنیا، بالخصوص مغربی ممالک نے، جن میں یورپی ممالک سرفہرست ہیں،غیر معمولی دلچسپی لی۔ مغربی ممالک اردگان کو صدارتی نظام کے ذریعے مزید تقویت ملنے کے خلاف تھے اور اسی لیےانہوں نے یہ واویلا کیا کہ تُرکی میں صدارتی نظام کےنفاذ سےجمہوریت کمزور ہوگی۔ تاہم، اروان نے جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ تُرک عوام کا فیصلہ جمہوریت اور استحکام کے حق میں تھا اور اس فتح کے بعد اُن کے حامیوں نے زبردست جشن بھی منایاتھا ۔

ترکی کے جنگی جہاز مظاہرہ کرتے ہوئے

ترکی کو صدیوں سے دنیا، بالخصوص یورپ، ایشیا اور افریقہ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آبنائے باسفورس پر واقع ترک شہر، استنبول کا شمار دُنیا کے تاریخ ساز شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ یورپ اور ایشیا کو ملاتا ہے، اردگان ہی کے دور حکومت میں زیر زمین سُرنگ کی مدد سے ریل اور روڈ کے ذریعے یورپ و ایشیا کے درمیان رابطہ قائم کیا گیا۔ یہ صدیوں پُرانا خواب تکمیل کو پہنچا۔ یورپ اور ایشیا کا یہ ملاپ صرف سفری اہمیت ہی نہیں رکھتا، بلکہ بین الاقوامی سیاحت، تجارت اور سیاست پر بھی اس کے غیر معمولی اثرات مرتّب ہورہے ہیں۔
طیب اردگان کا مزید طاقتور ہونا، اس خطے، بالخصوص یورپ اور مشرق وسطیٰ کی سیاست کے لیے بہت زیادہ چیلنجز لائے گا۔ تُرکی بحر روم کے کنارے واقع، بلکہ اس کا دروازہ ہے۔ خلافت عثمانیہ کے دَور میں تُرکوں کا بحر روم پر مکمل کنٹرول تھا اور تُرکوں نے متعدد مرتبہ یورپی بحری بیڑوں کو شکست دی، جس کی وجہ سے وہ تُرکوں کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوئے، جبکہ افریقہ، عرب اور وسطی ایشیا کے بڑے حصے خلافت عثمانیہ کے باج گزار رہے۔ تُرکوں نے کم و بیش 350برس تک یورپ پر حکمرانی کی اور تُرک عثمانی سلطنت اپنے زمانے میں سپر پاور تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ ٹوٹ پُھوٹ گئی، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسے جان بوجھ کرتوڑا گیا۔ یورپی طاقتوں بالخصوص برطانیہ، فرانس اور رُوس نے خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کیے اور اب اس کے صوبوں کو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں خود مختار اسلامی ریاستوں کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تُرکی میں جب بھی کوئی یورپ مخالف طاقتور شخصیت برسرِ اقتدار آتی ہے، تو یورپی ممالک کو ماضی کی تلخ یادیں ستانے لگتی ہیں اور مغربی ماہرین اردگان کی فتوحات اور بڑھتی طاقت کو اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تُرکی تقریباً ایک سو برس تک یورپ کا قریب ترین حلیف رہا اور سرد جنگ سے لے کر اب تک یورپ کے شمالی دروازے کا محافظ بھی ہے، لیکن شاید اب تُرکی اور یورپ کے درمیان اعتماد کی فضا ماضی جیسی نہیں رہی۔ پھر ’’سلطان‘‘ کا لقب بھی یورپ کے لیے پریشان کن ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ با اختیار صدر بننے کے بعد یورپ کو اردگان میں سلاطین کی جھلک نظر آتی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر اردگان کی قوت میں اضافہ مغرب کے لیے پریشانی کا سبب کیوں ہے؟ یاد رہے کہ صدر بننے سے قبل اردگان تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ اس 12سالہ عرصے میں تُرکی نے ترقّی کے نئے ریکارڈز قائم کیے۔ اردگان کے دور حکومت میں تُرکی نے تمام بیرونی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا اور مُلک میں کئی میگا پراجیکٹس پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ انہوں نے اقتصادی خوشحالی کا ایک ایسا ماڈل پیش کیا، جو اسلامی دُنیا میں تو رول ماڈل کہلایا ہی، اکثر یورپی ممالک نے بھی اسے مثالی قرار دیا۔ اس پورے عرصے میں تُرکی کی خارجہ پالیسی خاصی متوازن رہی۔ اردگان نے عرب دُنیا سے تعلقات بحال کرنے جیسا بڑا کارنامہ انجام دیا۔ اپنے اس اقدام کے ذریعے انہوں نے پُرانے زخموں پر مرہم رکھا، رنجشیں دُور کیں اور اُمّت مسلمہ میں ہم آہنگی پیدا کی۔ پھر اردگان نے اسرائیل سے تعلقات قائم رکھتے ہوئے آزادیٔ فلسطین کے لیے جدوجہد کی بلند آہنگ انداز میں حمایت کی، جو یقیناً ایک کٹھن کام تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عالم یوم منانا ہی کافی نہیں دل سے حق و مقام تسلیم کریں
ترکی کے شہر استنبول کا خوبصورت منظر

اردگان نے یورپ سے اپنے تعلقات بھی بہتر کیے، لیکن یورپ ان کی نیت پر شک کرتا رہا اور اسی وجہ سے تُرکی آج تک یورپی یونین کا رکن نہیں بن سکا۔ دراصل، اردگان کے اسلام اور اسلامی دُنیا کی جانب جھکائو کی وجہ سے یورپ کو تُرک صدر کی جانب سے خلافت عثمانیہ کے احیا کا خدشہ ہے، جس میں کسی قسم کی حقیقت نہیں، کیونکہ تُرکی نے جمہوریت کا ایک طویل سفر طے کیا ہے اور آج وہاں جمہورکی حکمرانی مضبوط ہے۔ ایسے میں صرف اُمّت مسلمہ کے حق میں آواز اُٹھانے کو جواز بنا کر تُرکی کو یورپی یونین سے باہر رکھنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ اس کے برعکس اگر تُرکی کو یورپی یونین کا رکن بنایا جاتا، تو اس سے مغرب ہی کو فائدہ پہنچتا کہ ترکی اسلامی دُنیا اور یورپ کے درمیان پُل کا کام کر سکتا تھا، جس کے سبب طرفین میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوتیں اور ہم آہنگی پیدا ہوتی، لیکن یورپ یہ موقع گنوا دیاہے۔
تُرک صدر، اردگان کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد مغرب اور تُرکی کے درمیان خلیج وسیع ہوتی گئی۔ اس بغاوت کو کچلنے اور اس کے مابعد اثرات کو ختم کرنے کے لیے اردگان کو غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے، جن میں مشتبہ افراد کو ملازمت سے فارغ کرنے، ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے اور انہیں قید کرنے سمیت دوسری پابندیاں شامل تھیں۔ اس موقع پر اردگان نے امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے فتح اللہ گولن کو اپنے خلاف فوجی بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں تُرکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اور ترکی کے مابین تعلقات خراب ہو گئے اور پھر مغربی حکام اور ذرائع ابلاغ نے بغاوت کے خلاف کیے گئے اقدامات کو ’’کریک ڈائون‘‘ قرار دیتے ہوئے تُرک صدر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، لیکن اگر بغاوت سے پہلے کے حالات پر نظر دوڑائی جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ مغرب اور تُرکی کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی جڑیں 2011ء میں شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں پوشیدہ ہیں۔ اسی خانہ جنگی کے نتیجے میں تُرکی میں کم و بیش30لاکھ شامی مہاجرین آئے، جو ایک جانب اس کی معیشت پر بوجھ بن چُکے ہیں، تو دوسری طرف مُلک میں سماجی و سیاسی مسائل پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ ان پناہ گزینوں میں سے ہزاروں براستہ بحر روم یورپ کا رُخ کر رہے ہیں اور مہاجرین کی آمد یورپی یونین کے لیے بھی ایک بحران کی شکل اختیار کرچُکی ہے۔
جبکہ ان کی خارجہ پالیسی کی دور نظری پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو طیب اردگان حکومت کی جانب سے ترکی کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے لیے خصوصی آفرز اور مراعات دی جاتی ہیں۔ اس وقت ترکی کی مختلف یونیورسٹیز میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک لاکھ پچیس ہزار کےقریب طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ تاہم، طیب اردگان حکومت کا مشن 2025ء تک ترکی کی یونیورسٹیز میں غیرملکی طلباء و طالبات کی تعداد 2 سے 3 لاکھ تک بڑھانے کا ہے، تاکہ دیگر ممالک کے طلباء و طالبات نہ صرف یہاں کے نظامِ تعلیم سے مستفید ہوں، بلکہ ترکش زبان سیکھ کر ترکی کے سفیر بھی بن جائیں۔ اگر دیکھا جائے، تو واقعتاً طیّب اردگان بڑی دور کی سوچ رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ 3 لاکھ کے قریب طلباء و طالبات ترکی میں حصول تعلیم کے دوران نہ صرف ترکش زبان سیکھ جائیں گے، بلکہ انہیں ترکی کے نظام سے واقفیت کے ساتھ ساتھ ترکی کے سیاسی و سماجی حالات سے بھی مکمل آگاہی حاصل ہوجائےگی ۔ترکی کی یونیورسٹیز میں پاکستانی طلبہ طالبات کی تعداد تقریباً ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خدا کا تصور اور دُعا کا مفہوم

اپنا تبصرہ بھیجیں