Irfan Sidiqi

یہ کیا ہو رہا ہے؟

EjazNews

علم و ادب کی دنیا عرفان صدیقی کے نام سے کسی طرح کی ناواقف نہیں ہیں۔ نوائے وقت اور روزنامہ جنگ جیسے پاکستان کے بڑے اخباروں میں ان کے کالم چھپتے رہے ہیں۔ عرفان صدیقی کی متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ گزشتہ حکومت میں عرفان صدیقی صرف معاون خصوصی نہیں رہے ان کی خدمات اس سے بڑھ کر بھی ہیں۔ جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے حکومت سنبھالی تو دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ تھی ۔ ملک میں آئے روز بم دھماکے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا ۔ اگر کوئی انکار کرنا چاہے تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔ اس سارے سسٹم کو ٹھیک کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے جو امن مذاکراتی ٹیم قبائلی علاقوں میں جاکر مذاکرات کیا کرتی تھی اس ٹیم کے ایک اہم رکن عرفان صدیقی بھی تھے اور اس ٹیم کی کوششوں سے پاکستان میں امن ہوا۔
اس میں کوئی دوسرے رائے نہیں کہ عملی طور پر فوج نے بہت کام کیا لیکن مذاکرات ہتھیار چلانے سے زیادہ اہم ہوتے ہیں اور اس بات کو موجودہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ سے ذکر کرتے آئے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ مذاکرات کے سوا کسی طرح سے حل نہیں کیا جاسکتا اور ہمارے ہاں ہونے والی دہشت گردی کا سرا کسی نہ کسی طرح سے ضرور جا کر افغانستان سے ملتا ہے۔
گزشتہ روز عرفان صدیقی کو گرفتار کیا گیا، شومئی قسمت ایک قلم کار، استاد کو ہتھکڑیاں لگا کر میڈیا میں ان کی تصاویر شائع کی گئیں، اسی طرح پہلے بھی ایک استاد کو مردہ حالت میں ہتھکڑیاں لگا کر رکھی گئی تھیں۔
قلم کاروں ،اساتذہ کی اس طرح سے تذلیل کس معاشرے میں کی جاتی ہے، جن لوگوں نے قوم کی تربیت کرنی ہوتی ہے آپ ان کو قوم کے سامنے کیا بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔جب عرفان صدیقی معاون خصوصی تھے اس دور میں اگر ان کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو ان کے ماتحت آنے والے اداروں نے بہترین کام کیا ، ان کو گرانٹس بھی ملیں اور جن اداروں کے پاس سربراہ نہیں تھے ان کے قوانین بنا کر ان کو سربراہ دئیے گئے ۔
انہیں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا اور نیب کے پاس اس قدر کمزور ثبوت ہوتے ہیں کہ اگلے ہی روز جس کو وہ گرفتار کر تی ہے ضمانت بھی مل جاتی ہے۔ کیا گرفتار کرنے والے صرف پاکستان کے لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی تذلیل ہی چاہتے ہیں ۔ 30ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض سابق معاون خصوصی کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔
لیکن ایک خوددار شخص کو رسوا کر کے باقی لوگوں کو کیا پیغام دیا گیا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو اس ملک کا لیجنڈ ہو کبھی حکومتی عہدہ قبول نہ کرے اور اپنے ملک کی خدمت کرے ، نہ وہ مذاکراتی ٹیموں میں شامل ہو کر اپنے ملک کے بہن بھائیوں کی جانوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے،یہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا بلاول کو ٹریننگ کی ضرورت ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں