safa marva

سعی کے مسائل

EjazNews

لفظ سعی کے لغوی معنی دوڑنے کے ہیں۔ احکام حج میں صفا و مروہ کے درمیان سات مرتبہ مخصوص طریقہ سے چکر لگانے کو سعی کہتے ہیں جس کی ابتداءمشروعیت کا بیان ابھی ابھی پڑھ چکے ہو۔
(۱) یہ سعی جمہور آئمہ کے نزدیک فرض ہے جیسا کہ حدیث ان اللہ کتب علیکم السعی فاسعو۔ میں ہے کہ اللہ نے تمہارے اوپر سعی کو فرض کر دیا ہے تم سعی کرو۔
(۲)سعی کے لئے دل میں نیت کرنا فرض ہے۔ (۳) سعی کا صفا و مروہ کے درمیان ہونا رکن ہے۔ اگر ان دونوں کے علاوہ اور کسی جگہ سعی کرو گے تو حج کی سعی نہ ہوگی ۔ (۴) حج یا عمرے کی سعی کے لئے احرام کا ہوناش رط ہے۔ اگر کوئی بغیر احرام کے سعی کرے گا تو سعی نہیں ہوگی۔ (۵) طواف قدوم یا طواف افاضہ کے بعد سعی کرنا اگر کوئی طواف سے پہلے سعی کرے گا تو خلاف ترتیب ہونے کی وجہ سے اس کی سعی صحیح نہ ہوگی۔ (۶) سعی کے سات پھیرے ہیں ان ساتوں پھیروں کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر پورے پھیروں کو ادن نہیں کیا تو سعی نہیں ادا ہوگی۔ (۷) حج کی سعی میں حج کے مہینوں سے پہلے یا پیچھے سعی کرے تو اس کی سعی صحیح نہ ہوگی۔ (۸) سعی کا صفا سے شروع کرنا اور مروہ پر ختم کرنا ضروری ہے۔ خلاف ترتیب ادا کرنے سے صحیح نہ ہوگی۔ (۹) جہاں تک ہو سکے خود پیدل سعی کرو، اگر بیماری وغیرہ کے عذر سے کسی سواری وغیرہ کے ذریعہ سعی کر لو گے تو جائز ہے۔ (۰۱) سعی وضو کی حالت میں کرنا اچھا ہے۔ (۱۱) اگر حائضہ حیض کی حالت میں سعی کرے تو جائز ہے، البتہ طواف جائز نہیں ہے۔
سنن سعی :
(۱) سعی شروع کرنے سے پہلے حجر اسود کا اسلام کرنا سنت ہے۔ (مسلم، منتقی) نکلو تو دعا پڑھو اور پہلے بایاں پاﺅں باہر نکالو۔ (۴) اور جب صفا کے قریب پہنچو تو آیت کریمہ ان الصفا و المروہ من شعائر اللہ پڑھو، اس کے بعد ابدا¿ بما بد ا¿ اللہ پڑھو۔ (۵) صفا و مروہ پر اتنا چڑھنا کہ بیت اللہ نظر آنے لگے اور چڑھ کر دعا کے لئے دونوں ہاتھوں کو اٹھا لو ۔ (۶)قبلہ رخ ہو (۷) میلین اخضر ین کے درمیان متوسط چال سے تیز دوڑو ۔ (۸) ان مسنونہ دعاﺅں کو پڑھو جن کا بیان آگے آئے گا۔ (۹) صفا و مروہ پر دیر تک ٹھہر و (۰۱) سعی کو مسلسل کرو کہ پھیروں میں زیادہ فاصلہ نہ رہے۔ (۱۱) سعی کے وقت اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو سعی چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جاﺅ، نماز کے بعد باقی سعی کو پورا کرلو۔ اسی طرح اگر پیشاب پاخانہ کی ضرورت کو پوری کر لو ۔ ضرورت کے وقت بات چیت کرنا جائز ہے۔ خریدو فروخت کرنا مکروہ ہے۔
سعی کی ترکیب:
طواف قدوم سے فارغ ہونے کے بعد پھر حجر اسود کا استلام کرو۔ یہ افتتاح سعی کا استلام ہے۔ باب الصفا سے نکلتے وہی دعائیں پڑھو جو پہلے لکھی گئی ہے۔ جب صفا پہاڑی کے قریب پہنچو تو آیت کریمہ ان الصفا و المروة من شعائر اللہ ۔ پڑھو ۔ یعنی صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد ابدا¿ بما بد ا¿ اللہ کو پڑھو۔ یعنی میں اس چیز کے ساتھ شروع کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔ یہ کہہ کر سیڑھیوں سے صفا پہاڑی ک اوپر اتنا چڑھ جاﺅ کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا یہ کیا تھا۔ (ابوداﺅد) پھر قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر پہلے تین بار اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھو ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہاں پر پڑھا تھا۔ (مسلم)
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کﺅی شریک نہیں وہ ملک کا مالک ہے اس کے لئے تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ کی امداد کی اس اکیلے نے تمام کافروں کے لشکر کو بھگا دیا۔
اس دعا کو پڑھ کر درود شریف پڑھو اور اپنے خویش و اقارب اور ملنے جلنے و الوں کے لئے دین و دنیا کی دعائیں مانگو یہ قبولیت کی جگہ ہے پھر واپسی سے پہلے ہاتھ اٹھائے اٹھائے اسی صفا پر ذیل کیدعا پڑھ کر ہاتھوں کو منہ پر پھیر لو ۔ دعا یہ ہے:
ترجمہ: خدایا تو نے دعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے تو وعدہ خلافی نہیں کر سکتا ہے۔ جس طرح تو نے اسلام کی توفیق مرحمت فرمائی ہے، اسی طرح موت بھی مجھ کو اسلام کی حالت نصیب فرما۔
پھر صفا سے اتر کر مروہ کی طرف اس دعا کو پڑھتے ہوئے چلو:
ترجمہ: اے میرے پروردگار تو میرے قصوروں کو معاف فرما دے اور میری حالت پر رحم فرما تو عزت و بزرگی والا ہے۔(طبرانی)
ترجمہ: اے میرے پروردگار تو میری خطاﺅں کو معاف فرما اور میرے حال پر رحم فرما اور جو گناہ تو جانتا ہے اس کو تجاوز فرما دے تو عز ت والا بزرگ ہے اے میرے رب تو دنیا میں نیکی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور عذاب دوزخ سے ہم کو بچا۔(ایضاح)
سبز میلوں کے درمیان دوڑنا
یہ دعا اور اسی قسم کی قرآن و حدیث کی دیگر دعائیں پڑھتے ہوئے مروہ کی طرف آہستہ آہستہ چلو ۔ صفا و مروہ کے درمیان مروہ کو جاتے ہوئے بائیں جانب دو سبز نشان ہیں جن کو میلین اخضر ین کہتے ہیں۔ جب ان میں سے پہلے کے قریب پہنچو چھ سات ہاتھ کا فاصلہ رہ جائے تو دوڑنا شروع کرو، جب دوسرے نشان پر پہنچو تو دوڑنا ترک کر دو۔ پھر آہستہ آہستہ چلو ، یہاں تک کہ مروہ پر پہنچ جاﺅ۔ اور مروہ پر اتنا چڑھ جاﺅ کہ اگر سامنے کے مکانات نہ ہوں تو بیت اللہ نظر آنے لگے۔ اب چونکہ مکانات بن گئے ہیں اس لئے اب بیت اللہ نظر نہیں آتا ہے اور داہنی جانب کو مائل ہو کر خوب بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو اور صفا کی دعائیں یہاں بھی اسی طرح پڑھو۔ جس طرح صفا پر پڑھی تھیں اور دیگر تک ذکر و دعا میں مشغول رہو۔ کیونکہ یہاں پر دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ صفا سے مروہ تک ایک پھیرا ہوا، پھر مروہ سے اتر کر رب اغفر وارحم الخ پوری دعا پڑھتے ہوئے معمولی چال سے سبز میل تک چلو، پھر اس سبز نشان سے دوسرے سبز نشان تک دوڑنا شروع کرو ا س سبز نشان پر پہنچ کر آہستہ آہست روز مرہ کی چال چلتے ہوئے اور دعائیں پڑھتے ہوئے صفا پر پہنچو۔ صفا پر چڑھ کر اسی ترکیب کے ساتھ انہیں دعاﺅں کو پڑھو جو پہلے پڑھ چکے تھے۔ اب دو پھیرے ہوئے، پھر صفا سے مروہ تک تین اور مروہ سے صفا تک چار پھیرے ہوئے، پھر صفا سے مروہ تک پانچ اور مروہ سے صفا تک چھ اور صفا سے مروہ تک سات پھیرے، مذکورہ بالا طریقے سے کرو ۔ دوڑنے کی جگہ دوڑ کر اور آہستہ چلنے کی جگہ آہستہ چل کر اور دعا پڑھ کر سعی کے ساتوں پھیرے پورے کرو۔
نوٹ: سعی کے پھیروں میں بعض من گھڑت دعائیں پڑھی جاتی ہیں ، جن کا ثبوت نہیں ہے۔ لیکن خاموشی کے بدلے ان دعاﺅں کو پڑھ لو تو جائز ہے۔
صفا کی سعی کے بعد:
سعی ختم کرنے کے بعد اگر عمرہ کا احرام تھا تو حلق یا قصر کر کے احرام کھول ڈالو اور اگر تم قارن یا مفرو ہو تو حلق و فصرمت کرو بلکہ اپنے احرام میں باقی رہو، دسویں تاریخ کو حلق ، ذبح ، رمی وغیرہ کر کے حلال ہو جاﺅ بعض کے نزدیک سعی کے بعد مسجد میں دو رکعت نماز مستحب ہے مطلب بن ابی وداعہ ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ سعی سے فارغ ہونے کے بعد بیت اللہ شریف میں تشریف لائے اور مطاف کے کنارے دو رکعت نماز پڑھی۔(احمد، ابن ماجہ، ابن حبان)
حلق و قصر کی فضیلت:
حلق و قصر بھی افعال حج و عمرہ سے ہیں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کوس چا خواب دکھلایا کہ تم مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے۔ اگر اللہ نے چاہا اس کے ساتھ تم میں سے کوئی سرمنڈاتا ہوگا کوئی بال کترواتا ہوگا تم کو کسی طرح کا اندیشہ نہیں ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منڈانے والوں کو تین دفعہ اور قصر کرنے والوں کو ایک دفعہ دعا فرمائی:
ترجمہ: اے اللہ منڈانے والوں کی مغفرت فرما اور کترنے والوں کی بھی۔
اور آپ نے فرمایا: سر منڈانے سے ہر ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔ (ترغیب)
اور فرمایا سر منڈوانے سے جو بال زمین پر گرے گا تو ہر بال کے بدلے میں قیامت کے دن نور ملے گا۔ (ترغیب)

یہ بھی پڑھیں:  ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں