Maryam nawaz

یوم سیاہ یا یوم تشکر کون کس کے ساتھ ہے واضح ہونا شروع ہو گیا

EjazNews

25جولائی 2018ء کو عام انتخابات مکمل ہوئے تھے۔ ان انتخابات کو ایک سال گزر چکا ہے ۔ اس تاریخ کو اپوزیشن یوم سیاہ کے طور پر منا رہی ہے اور پورے ملک میں متحدہ اپوزیشن الگ الگ جلسے جلوسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ جبکہ حکمران جماعت کا پورا میڈیانیٹ ورک اس دن کو بطور یوم تشکر منا رہا ہے۔ حکمران جماعت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی تقریب تو منعقد نہیں کی گئی لیکن میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کے خوبصورت پوسٹر ضرور آویزاں تھے۔ جبکہ پنجاب اسمبلی میں اس سلسلے میں ایک قرار داد بھی جمع کرائی گئی ہے۔

احسن اقبال پشاور میں جلسہ سے خطاب کر رہے ہیں

متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے فیصلے کے تحت ہونے والے جلسوں میں تمام جلسوں میں کسی نہ کسی طرح سے اعلیٰ سطح کی قیادت نے خطاب کیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما نے خطاب کیا ۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اپنے آبائی شہر لاہور کی بجائے کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمران خان سے رشتہ کمزور نہیں ہے :جہانگیر ترین
وزیراعظم کےایسے ہزاروں پوسٹر سوشل میڈیا پر چل رہے ہیں

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری زرداری نے کراچی میں جلسے سے خطاب کیا۔لاہور میں پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جمعیت اہلحدیث اور اے این پی کے رہنما بھی بھی خطاب کیا۔
اسفند یار ولی خان نے اپوزیشن کے جلسے کو بارش کا پہلا قطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے، مہنگائی کا طوفان لاکر تبدیلی لائی گئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں حقیقی جمہوری انتخابات کرائے جائیں۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ 25 جولائی کے انتخابات جعلی تھے۔ ہم جیلیں بھر دیں گے لیکن حکومت کو نہیں مانیں گے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما نیر بخاری نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی کو ایک اور شوکت عزیز ملک پر مسلط کیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری، جھوٹے وعدو ں کیخلاف ملک کے کونے کونے میں سلیکٹڈ حکومت نا منصور کی صدائیں گونج رہی ہیں۔
مریم نواز نے کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے محترم اداروں سے گزارش کرنا چاہتی ہے کہ آپ عمران خان کے ادارے نہیں بلکہ ملک کے ادارے ہیں بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ادارے ہیں۔آپ آگے بڑھئے اور عوام کا ساتھ دیں۔عوام آپ کی عزت کرنا چاہتی ہے۔ ریاست ماں کی جیسی ہوتی ہے اور ریاستی اداروں کو بھی ماں باپ کی طرح ہونا چاہیے۔
جلسے میں پشتونخواملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ ن، نیشنل پارٹی،جمعیت علماء اسلام، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھر صوبائی حکومت نے قبضہ کیسے لیا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں