Mosquito

اب انسانوں کو مچھروں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں

EjazNews

ان مچھروں نے دنیا کو اپنی بھیہ بھیہ پر نچا رکھا ہے ، ملیریا، ڈینگو فیور جیسی خوفناک بیماریاں مچھروں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہی ہیں۔ زمانہ قدیم میں ملیریافیور اور ایسی دوسری بیماریوں نے نسلوں کی نسلیں برباد کردیں۔ آج انسان اپنی سائنسی ترقی سے مچھروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیابیماریوں پر قابو پانے کے بعد اب سائنسدانوں کو اگلا ہدف مچھر خود ہیں۔ سائنسدانوں بیماریوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ایسے مچھروں کی تیاری میں بھی کوششیں کررہے ہیں جو ملیریا فری ہوں۔ اس سلسلے میں امریکی سائنسدان پچھلے کئی سالوں سے کوششیں کر رہے ہیں۔ 2016ء میں انہوں نے ایسے مچھروں کو برازیل میں چھوڑنے کا کامیاب تجربہ کیا یہ مچھر ملیریا فری تھے۔ کیلی فورنیا میں بھی دو کروڑ کے قریب ملیریا فری نر مچھر چھوڑے گئے، اس سے کیلی فورنیا میں ملیریا فری مچھروں کی افزائش کے بعد کیلی فورنیا خود بخود ملیریا سے پاک ہو جائے گا۔
بظاہر اًیہ بڑی دلچسپ بات ہے دل نہیں مانتا کہ مزید دو کروڑ مچھروں کو چھوڑنے سے کیلی فورنیا مچھروں سے پاک ہو جائے گا، یہ مچھر دراصل ملیریا فری ہیں۔ سائنسدانوں نے لیبارٹریوں میں خصوصی طور پر مچھروں کی افزائش کی۔اور ان کی آگے چلنے والی نسلیں بھی ملیریا فری ہوں گی۔ اس طرح اگلے چند سالوں میں کیلی فورنیا میں ملیریا فری مچھر اڑتے پھرتے دکھائی دیں گے پھر ان کی چونکا دینے والی بھیہ بھیہ سے کسی کو خوف محسوس نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کا نام بی بیک Beaug fresnoکیلی فورنیا کا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ لیکن بہت خوبصورت باغ و بہار جیسا ہے۔ آبادی زیادہ نہیں لیکن جتنے بھی گھر ہیں سب خوبصورت اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہیں۔ بی بیک کا مطلب ہے مچھروں سے آزاد کرنا اس پراجیکٹ کا آغاز فریزوک سے ہوگا جہاں دو کروڑ مچھر اپنی افزائش بیماریوں سے پاک ہوں گے ۔ڈینگی فیور ہو یا چیک گنیا ۔یہ بیماریاں پھیلانے والا مچھر کیلی فورنیا کی سینٹرل وادی میں 2013ء فریزو کائونٹی کے لیے درد سر بنا ہوا تھا، ایک ہی بائٹ میں انسان ملیریا کا شکار ہو جاتا ہے۔ گولیاں کھانا پڑتی ہیں اور پھر علاج معالجے کے لمبے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، یہ بیماریوں کی منتقلی میں بھیانک خطرہ بنا ہوا تھا۔ اس کا علاج یہی مچھر ہیں جن کی نسلیں بیماریوں سے پاک ہوں گی۔ فریزو کائونٹی سے شائع ہونے والے دی سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق اس طرح افزائش نسل کے بعدفریزو میں ملیریا مچھروں کی افزائش میں 40فیصد کمی ہو جائے گی اور پھر یہ کمی بدترین ہوتی رہے گی۔ اس عمل کو سائنسدانوں نے سائیکو پلازمک ان کائونٹیبلٹی قرار دیا ہے۔ نر مادہ مچھروں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے مچھر میں وہ جراثیم ہی نہیں ہوں گے جو بیماریو ں کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں ویکا وائرس جیسے بھیانک وائرس کو ساتھ رکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جائے گی۔ یہ مچھر اپنے تھوک کے ذریعے سے وائرس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ برازیل میں 2016ء میں ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ان مچھروں میں کسی انسان کو بیمار نہیں کیا۔
فلوریڈا کے مچھر کنٹرول ڈیپارٹمنٹ میں ہر ہفتے ایسی 7.5سو مچھر اور مکھیاں چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 7.5ہزار مکھیاں کوئی معمولی تعداد نہیں ہوتیں۔ بعد میں یہ تعداد بڑھا دی جائے گی۔
اس سے بیماریاں پھیلانے والے مچھروں کی تعداد میں بتدریج کمی ہوگی اور اس عمل کو دوسرے شہروں تک بھی پھیلایا جارہا ہے۔
2015ء میں بعض امریکی شہروں میں وکٹا وائرس کے 5.5ہزار کیسز سامنے آئے اگرچہ ان میں سے کچھ لوگ انسانی نقل و حمل کے ذریعے سے بھی اس وائرس کا شکار ہوئے مگر اس تجربہ کی کامیابی کے بعد امریکہ میں وائرل امراض پر قابو پانے میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ جانتے ہیں فروری کا مہینہ 28اور کبھی29کا کیوں ہوتا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں