وزیراعظم عمران خان انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں

مسئلہ کشمیر کا حل ہماری مرضی کی بجائے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

واشنگٹن میں امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں خطاب وزیراعظم نے خطاب کیا اور سوالوں کے جوابات بھی دئیے ۔
کشمیر کے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مکمل طور پر مقامی ہے۔کشمیری نوجوان بھارتی مظالم سے تنگ آکر بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ اگر مسلح فوج ہمارے ساتھ نہ ہوتی تو کبھی بھی عسکری گروہوں کو غیر مسلح نہ کر پاتے۔سابق صدر مشرف اور سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ چکے تھے۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں میں ہے ۔مسئلہ کشمیر کا حل ہماری مرضی کی بجائے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے بھارت سے تعلقات میں بہتری کےخواہاں ہیں، بھارت سے تعلقات کی راہ میں مسئلہ کشمیر رکاوٹ ہے۔عمران خان نے کہا کہ جب بھی کوشش کی گئی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جب دونوں ممالک دوبارہ ایک دوسرے کے سامنےکھڑے ہوتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آتے ہی بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا، میں نے بھارتی وزیراعظم کو تعاون کی پیشکش کی تھی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین تجارت کے آغاز سے غربت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
میری طالبان سے پہلے ملاقات نہیں ہوئی لیکن اب امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور افغانستان کے صدر اشرف غنی سے رابطے کے بعد طالبان سے ملاقات کرکے انہیں مذاکرات کے لیے آمادہ کروں گا۔ ان کا کہناتھا افغانستان میں پائیدار امن کا تعلق جمہوریت کے استحکام سے وابستہ ہے۔ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے آمادہ کریں گے اور طالبان کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملنی چاہیے۔افغان حکومت نہیں چاہتی تھی کہ طالبان قیادت مجھ سے ملاقات کرے۔ افغانستان میں آنیوالے انتخابات میں طالبان کی شمولیت ضروری ہے۔ افغانستان میں ہمارا مشترکہ مفاد ہے۔
قبائلی علاقوں سے متعلق سوا ل کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نقصان کے بعد مقامی آبادی میں غم و غصہ پایا جانا فطری عمل ہے۔ہماری حکومت نے قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے بھاری فنڈز مختص کیے ہیں۔یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم کسی مسلح گروہ کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دیں۔فوجی آپریشن کے باعث قبائلی علاقوں میں بڑا جانی و مالی نقصان ہوا۔
ان کا کہنا تھا ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے دو سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ختم کی۔ معلومات کی رسائی اور حقوق کی آگاہی کے حوالے سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مشکل حالات میں مدد کرنے پر سعودی عرب اور یو اے ای کا شکرگزار ہے۔ ایران تنازعہ کے فریق ملکوں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہونا چاہیے۔ ایران تنازعے سے ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان زیادہ متاثر ہوسکتا ہے۔شکیل آفریدی پولیو مہم کی آڑ میں جاسوسی کرتا رہا۔شکیل آفریدی کے واقعے کے بعد کئی پولیو ورکرز کو انتقاماً نشانہ بنایا گیا۔شکیل آفریدی نے ایک این جی او کی آڑ میں جاسوسی کی۔

یہ بھی پڑھیں:  ایف ٹی ایف کا اجلاس شروع:پاکستان گرے لسٹ سے نکلے جائے گا ، حکام پر امید
وزیراعظم امریکی انسٹی ٹیوٹ آف امن میں خطاب کرتے ہوئے

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔سابقہ حکومت ایک مذہبی گروپ کے دباؤ کی وجہ سے توہین مذہب کی ملزمہ آسیہ بی بی کا مقدمہ چلانے پر آمادہ نہیں ہوئی، حکومت مذکورہ گروپ کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی تھی۔جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں آیا تو اسی مذہبی گروپ نے ریاست کو 2دن تک یرغمال بنائے رکھا لیکن حکومت نے عدالتی فیصلے کا احترام اور اقلیتی خاتون کا استحقاق مجروع نہیں ہونے دیا اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا۔ان کا کہنا تھا ہمارے مذہب اور آئین میں اقلیتوں کو دیگر شہریوں کی طرح یکساں حقوق حاصل ہیں۔ماضی میں ایک مخصوص مذہبی گروپ نے ملک کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ہماری حکومت میں جیسے ہی وہ سڑکوں پر آئے انہیں گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا گیا۔ہمارے آئین میں اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔
وزیراعظم جب میڈیا کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانوی میڈیا کے ماحول سے اچھی طرح واقف ہیں اور پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ہمارا میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے۔لیکن ساتھ ہی کنڑول سے باہر ہوجاتا ہے۔جبکہ امریکہ میں بھی میڈیا کو اتنی چھوٹ نہیں کہ وہ برسراقتدار حکومت کے وزیراعظم کی ذاتی زندگی کے بارے میں منفی رائے قائم کرے۔میڈیا کو ذاتی حملے اور سیاسی فریق نہیں بننا چاہیے۔اگر پاکستان میں میڈیا مالکان سے ٹیکسز کا پوچھا جائے تو وہ اسے بھی میڈیا آزادی پر حملہ گردانتے ہیں ۔ صحافت کی آزادی میڈیا مالکا ن کی من مانی کو نہیں قرار دیا جاسکتا۔آزاد میڈیا کی بدولت ہی میں اپنا پیغام اور منشور عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہوں۔ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے پس پردہ کئی عوامل کارفرما ہیں۔ پاناما سکینڈل آنے کے بعد ایک بڑے چینل نے ملوث افراد کو بچانے کیلئے ہرحربہ استعمال کیا۔آزاد میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ مجھے رہا ہے۔

اگر پاکستان میں میڈیا مالکان سے ٹیکسز کا پوچھا جائے تو وہ اسے بھی میڈیا آزادی پر حملہ گردانتے ہیں

ان کا کہنا تھا پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دور میں صحافی غائب ہو جایا کرتے تھے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں صحافیوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کو میڈیا کنٹرول نہیں کرنا چاہیے لیکن ایک ریگولیٹری اتھارٹی میڈیا کے معیارات کا جائزہ لے۔ملک ایک طرف مالی خسارے سے دوچار ہے اور اس پر میڈیا آئی ایم ایف کا حوالہ دے کر روپے کی قدر میں کمی سے متعلق غلط خبریں چلارہا ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے؟۔ یہ سینسر شپ نہیں ہے لیکن ہم نگراں اداروں کو مضبوط بنائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارےوالدین نو آبادیاتی نظام کے دورمیں پیدا ہوئے تھے، میں آزاد پاکستان میں پیدا ہونے والی نسل سے ہوں۔ میرے والدین نے ہمیشہ یاد دہانی کروائی کی کہ نوآبادیاتی نظام میں رہنا کتنا مشکل تھا جہاں آپ ایک آزاد ملک میں نہیں رہتے تھے۔یہ بہت فخر کی بات تھی جب پاکستان نے 60 کی دہائی کی میں تیزی سے ترقی کی، اس وقت پاکستان کی معیشت خطے میں تیز ترین تھی۔ پاکستان کی ترقی سے ہمیں امید ملی کہ اس ملک کی ایک منزل ہے لیکن 70 کی دہائی کے بعد پاکستان کے حالات خراب ہونا شروع ہوگئے۔مجھے اس چیز سے نفرت ہے جب کوئی مجھے امداد مانگنے کو کہتاہے۔ہر قوم کی عزت نفس ،حمیت ہوتی ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔امریکہ کیساتھ باہمی احترام پر مبنی دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے 2 دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی جسے 90 کی دہائی کے آغاز میں خیر باد کہا اس کے بعد میرا مقصد فلاحی کام تھا۔ کرکٹ سےریٹائرمنٹ کےبعدکینسر اسپتال بنایا، کینسر کے باعث میری والدہ انتقال کرگئی تھیں، میں نے محسوس کیا کہ ملک میں کینسر کا کوئی ہسپتال نہیں ،ہسپتال بنایا تاکہ غریبوں کو علاج کی سہولت حاصل ہوسکے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے 6 سے 7 سال ہسپتال چلانے میں گزارے،اس دوران مجھے احساس ہوا کہ ایک بڑے ملک میں سوشل ورک سے تبدیلی نہیں آسکتی یہ صرف سیاست سے آسکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تبدلی کے لیے مجھے سیاست میں آنا پڑا، میں نے سیاسی جدوجہد کے 15 برس کرپشن کے بارے میں بات کی لیکن لوگوں کو سمجھ نہیں آیا، پھر بتدریج انہیں میری باتوں کی سمجھ آئی اور 2013 کے انتخابات کے بعد کامیابی کے امکانات روشن ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ 15 برس میں محض چند نوجوان میری پارٹی میں شریک ہوئے اور آہستہ آہستہ لوگوں کو میری پارٹی کا منشور سمجھنے میں آنے لگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار آئی تب ایک بڑا چینلج یہ تھا کہ تمام مالیاتی ادارے خسارے سے دوچار تھے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں اور اشرافیہ طبقے نے منی لانڈرنگ کے ذریعے آف شور اکاؤٹنس اور مغربی ممالک میں سرمایہ کاری کی۔عمران خان نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے دہشت گردی کے مقابلے میں زیادہ اموات ہو رہی ہین کیونکہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے بھوک افلاس کا گراف بڑھ رہا ہے اور لوگ مر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپٹ سیاستدان ریاستی اداروں کو تباہ کرتے ہیں، اگر مذکورہ ادارے مضبوط ہوں گے تو منی لانڈرنگ کے امکانات نہیں ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ لوٹی ہوئی دولت تو واپس لی جاسکتی ہے لیکن تباہ شدہ اداروں کو دوبارہ کھڑا کرنا انتہائی مشکل ہے ۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں لڑرہا بلکہ ایک مافیا کے ساتھ لڑ رہا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اقتدار میں آنے کے لیے 23 سال جدوجہد کی، سپریم کورٹ کی فتح اس وقت ہوئی جب وزیراعظم کو نااہل قرار دیا۔ 2 جماعتوں نے 30 سال تک حکومت کی ہم اس لیے جیتے کہ ہم نے نوجوانوں کو متحرک کیا۔عمران خان نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ہماری ترجیح ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کے لیے ہمیں امن کی ضرورت ہے جس کے لیے پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ہونا ضروری ہیں۔پڑوسی ممالک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاک بھارت تعلقات مشکل ترین مرحلے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایران کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات تھے ایران تنازع کےفریق ممالک کومعاملےکی سنگینی کاادراک ہوناچاہیے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکہ سُپر پاور ہے آپ چاہیں یا نہ چاہیں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں، جب صدر ٹرمپ نے مجھے ملاقات کی دعوت دی تھی تو میں تھوڑا پریشان تھا۔ امریکی صدر نے ہمارے دل جیت لیے، ڈونلڈ ٹرمپ نےجس طرح سےخیرمقدم کیاوہ ہمارے لیے انتہائی خوشگوار تھا۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہمارے درمیان قریبی تعلقات ہوں گے اور کس طرح ہم روابط کے خلا میں کمی کو یقینی بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے حملوں میں کوئی بھی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے 70 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، ہماری معیشت کو 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لیکن اس کے باوجود بداعتمادی کی فضا قائم تھی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا تھا کہ ہر ممکن کوشش کررہا تھا، پاکستان اس جنگ سے علیحدہ ہوسکتا تھا لیکن افغان جنگ میں کردار ادا کیا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ ہم سوچنے لگے کیا ہم بچ جائیں گے۔ آئے دن خودکش بم دھماکے ہوتے تھے، سرمایہ کار تو کیا کوئی اسپورٹس ٹیم پاکستان نہیں آتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران امریکہ نے کہا ہم زیادہ کردار ادا نہیں کررہے ہم ڈبل گیم کھیل رہے ہیں میرے خیال میں وہ پاک – امریکا تعلقات کا بدترین وقت تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  جنوری 2020ءمیں یوٹیلٹی سٹورز کو6ارب کی سبسڈی ملے گی،سستی اشیاء مہیا کرنے کیلئے:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

اپنا تبصرہ بھیجیں