information ministry

پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

‘وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، امریکہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کرا سکتا ہے۔ 72سال سے حل طلب مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت مہذب ہمسائے کی طرح رہ سکتے ہیں۔امریکہ وہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالث کا کر دار اداکر سکتا ہے۔ ان کا کہناتھا تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں، بھارت جوہری ہتھیار ترک کر دے تو پاکستان بھی ترک کردے گا۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں، ایک ارب سے زائد آبادی والا یہ خطہ جنگوں سے پہلے ہی متاثر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کشیدگی سے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور خطے کا امن اور معیشت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے کیونکہ ہمسایہ ملک میں بدامنی سے براہ راست پاکستان پر اثرپڑتا ہے۔پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 1500 کلو میٹر طویل سرحد ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن لانے کی کوششوں پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں: وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر پیش رفت ہوئی، طالبان کے ساتھ حالیہ امن مذاکرات اب تک کے کامیاب ترین مذاکرات رہے ہیں۔ طالبان کو حکومت کا حصہ بن کر عوام کی نمائندگی ملنی چاہئے، افغان طالبان افغانستان کے باہر کارروائیاں نہیں کرتے۔وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ نے چار دہائیوں تک افغانستان میں جنگ لڑی، مگر افغانستان میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکا، گزشتہ 19 برس کے دوران امریکہ نے افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کیا ہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
پاکستانی مسلح افواج پیشہ ور اور ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، پاکستان کا انتہائی جامع اور موثر جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے۔ان کا کہنا تھا پاکستان امریکہ کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم اتحادی ہے۔لیکن دونوں ممالک کو اعتماد کے فقدان نے بہت نقصان پہنچایا۔
امریکہ شکیل آفریدی کی بات کرتا ہے تو ہم عافیہ صدیقی کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے، قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں امریکا سے بات ہو سکتی ہے۔
خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی رہے ہیں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
اینکر کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا صدر ٹرمپ صاف گو انسان لگے جو لفظوں کی ہیرا پھیری نہیں کرتے، میرا پورا وفد بھی میٹنگ سے بہت خوش ہے۔ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا چیف جسٹس کے بیان کا خیر مقدم

اپنا تبصرہ بھیجیں