women world

وہ روتی ہے، تو ساری کائنات آنسو بہاتی ہے

EjazNews

شاعراختر شیرانی نے عورت کے لیے کیا خُوب کہا ہے
وہ روتی ہے، تو ساری کائنات آنسو بہاتی ہے…وہ ہنستی ہے، تو فطرت مست ہو کر مسکراتی ہے…وہ سوتی ہے، تو بزمِ کہکشاں کو نیند آتی ہے۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عورت رب کی حسین تخلیق،بہت نرم و نازک احساسات کی مالک ہے، جس کے بارے میں لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اور کہا بھی، عورت نے خود بھی زندگی کے محاذ پر بہت سے معرکے سر کیے،توکئی تمغے بھی حاصل کیے، اپنے دامن میں پھول بھی سمیٹے،تو کانٹے بھی۔ عورت کے نازک وجود نے بہت سے بوجھ اُٹھائے، کبھی سراہی گئی، تو کبھی سراہے جانے کی تمنا خواب ہی رہی۔تاریخ انسانی مردوں کے ساتھ عورتوں کے کارناموں سے بھی بھری پڑی ہے، لیکن تہذیب انسانی میں عورت کا کردار مرد سے بہت مختلف ہے۔اس دنیا میں انسانی تہذیب کی ابتدا آدمؑ اور حواؑ کے پہلے انسانی جوڑے سے ہوئی-خالق نے عورت کا مقصد وجودسکون سے وابستہ کیا۔اُسے محبّت کی مٹّی سے گوندھا اور رشتوں کی ڈور سے باندھ دیا-
گھر اس دُنیا میں آرام و سکون کا مرکز اور تہذیب کی بنیاد ہے-انسان گھروں کو آباد کرتے ہیں اور گھر، انسانوں کو چھت فراہم کرتے ہیں، لیکن گھر کو سکون کا گہوارہ بنانے میں مرد سےزیادہ عورت کا کردار اہم ہے۔ عورت کا وجود روشنی بن کر نہ صرف اسے منور کرتا ہے،بلکہ اس کا خلوص، قربانیاں اور شب و روز کی محنت ایک مٹی گارے کے گھر کو مثل جنت بنا دیتے ہیں- ذمداریوں میں گھری اس عورت کے نہ جانے کتنے روپ ہیں، پہلےبیٹی بن کر، ماں باپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیتی ہے۔ خود چھوٹی ہوتی ہے، تو اپنے ناز اٹھواتی ہے اور جب ککڑی کی بیل کی طرح بڑھتی ہے، تو گھر والوں کے ناز اُٹھاتی ہے۔ جس گھر میں بچپن میں چیزیں پھیلاتی ہے، شعور سنبھالنے پرگھر کی بکھری چیزیں سمیٹتی بھی ہے-گھر کے کسی فرد کورات گئے چائے بنا کر دینا، کسی کو علی الصباح وضو کا پانی دینا، توکبھی ماں کاباورچی خانے میں ہاتھ بٹانا، ابا کی فائلیں سنبھال کر رکھنا اور پھر پھولوں اور خوشبوؤں کی روش پر ایک نئے سفر پر روانہ ہوتے ماں باپ کی آنکھوں کو گیلا کر جانا اسی عورت کا ایک رنگ ہے۔ بہن کے روپ میں بھائیوں کا مان رکھنا، کسی نئے مکان کو گھر بنانا اور ہنستے مسکراتے زندگی کے سب اتار چڑھاؤ دیکھنا عورت ہی کا ظرف ہے۔ زندگی کے سفر میں تیز دھوپ ہو یا پیروں تلے کانٹے بچھے ہوں، گھر کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیتی۔ ماں کے رتبے پر فائز ہو، تو خود سے وابستہ وجود کو جھولا جھلاتی، لوریاں سناتی، آنکھوں میں خواب سجاتی ہے اور پھر ان خوابوں کی تعبیرکا انتظار بھی کرتی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب، اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہو یا دوچار جماعتیں پڑھی، انسانی تہذیب کو ہمیشہ عورت کے انہی کرداروں کی ضرورت رہی ہے۔ عورت ہی کے ہاتھ پالنا ہلاتے ہیں، تو اُسی کی دی گئی تربیت انسان کو ’’انسان‘‘ بناتی ہے۔
جہاں وقت بہت بدلا، اس کے ساتھ ہی خود عورت کا اپنا کردار بھی بدلا ہے، اُس پر ذمہ داریاں بڑھی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جدید دور کے اپنے تقاضے اور چیلنجز ہیں،لہٰذا عورت کو ان تقاضوں کو بھی پورا کرنا ہے اور اپنی بنیادی ذمداریاں بھی نبھانی ہیں کہ اس کائنات اور خصوصاً گھر کو عورت کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ عورت کے نازک وجود نے وقت و حالات کے جبر کا مقابلہ کیا- مختلف میدانوں میں بےشمار کارنامے انجام دئیے- وہ سپاہیانہ لباس پہن کر گھوڑے کی پیٹھ پر بھی بیٹھی اور دشمنوں سے جنگ بھی کی-اُس نے خلا کا سفر بھی طے کیا اور چاند پر قدم بھی رکھا- قلم کی دنیا میں سکہ بھی منوایا اور سائنس، طب اور جراحی کے میدان میں بھی خود کو منوایا۔ نوبل پرائز بھی حاصل کیا اور حکومتوں کی سربراہی کا تاج بھی پہنا۔ بلاشبہ تاریخ، عورت کے کارناموں سے بھری پڑی ہے، لیکن تہذیب انسانی، عورت سے انسان کی اس چھوٹی سی دنیا کی بقا اور تحفظ کا مطالبہ بھی کرتی ہے، جسے ’’گھر‘‘کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  انمول رشتوں کی حفاظت کیجئے

اپنا تبصرہ بھیجیں