tawaf

فضائل طواف

EjazNews

طواف کے معنی گھومنے اور چکر لگانے کے ہیں۔ خانہ کعبہ کے ارد گرد گھومنے اور چکر لگانے کو طواف کہتے ہیں اور طواف کی چھ قسمیں ہیں۔
(۱) طواف قدوم جو آنے کے وقت سب سے پہلے کیاجاتا ہے اس کو طواف الورود اور طواف اللقاءاور طواف التحیہ بھی کہتے ہیں یہ آفاقی کے لئے ہے۔
(۲) طواف الزیارت جو دسویں تاریخ کو کیا جاتا ہے۔ یہ حج کا رکن ہے اس کو طواف رکن اور طواف حج بھی کہتے ہیں۔
(۳) طواف صدر جو بیت اللہ سے واپسی کے وقت کیا جاتا ہے اس کو طواف الوداع بھی کہتے ہیں۔
(۴) طواف العمر جو عمرہ کی ادائیگی کے وقت کیا جاتا ہے یہ عمرہ کا رکن ہے۔
(۵) طواف نذر جو نذر ماننے والے پر ضروری ہے۔
(۶) طواف النفل جو نفلی طور پر ہر وقت کیا جاتا ہے۔
طواف اور حجر اسود اور رکن یمانی کے استیلام کی فضیلت کے بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں ذیل میں چند حدیثیں لکھی جاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: جو بیت اللہ کا طواف کرے اور دو رکعت نماز پڑھے تو اس کو غلام آزاد کرنے کی طرح ثواب ملے گا۔ آپ نے فرمایا جس نے بیت اللہ کا سات پھیرا طواف کر لیا تو اللہ تعالیٰ ہر ہر قدم پر اس کے گناہ کو معاف فرمایا اور ہر قدم پر نیکی لکھتا اور ہر ہر قدم پر درجہ بلند کرتا ہے۔(ابن خزیمہ، ابن حسان، ترغیب)
ترجمہ:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بیت اللہ کا سات پھیرا طواف کر لیا اور سبحان اللہ اور الحمد للہ اور لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر اور لا حول و لا قوة الا باللہ۔ کہتا رہا تو اس کے دس گناہ معاف ہوں گے اور اس کی دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند ہوں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رکن یمانی پر ستر فرشتوں کو مقرر فرما رکھا ہے۔ جو شخص یہاں اس دعا کو مانگتا ہے وہ فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں:
ترجمہ: اے اللہ میںدنیا و آخرت کی عفو اور عافیت تجھ سے مانگتا ہوں اے اللہ تو دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی نیکی عطا فرما اور دوزخ کے عذاب سے مجھ کو بچا۔
(۵) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاض ؓ موقوفاً فرماتے ہیں کہ جو خوب اچھی طرح وضو کر کے حجر اسود کا استلام کرے تو وہ رحمت خداوندی میں داخل ہو جاتا ہے جب استلام کے وقت:
ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کوہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔(ترغیب)
کہتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور جب بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر ایک قدم پر ستر ہزار نیکی لکھتا ہے اور ستر ہزار گناہ معاف فرماتا ہے اور ستر ہزار درجے بلند کرتا ہے اور اس کے گھرانے کے ستر آدمیوں کی سفارش منظور فرمائے گا۔ جب مقام ابراہیم علیہ السلام پر آکر نہایت خشوع و خضوع اور اخلاص کےساتھ دو رکعت نماز ادا کرتا ہے تو چار عربی غلاموں کے آزاد کرنے کا ثواب عطافرماتا ہے اور گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے گویاآج ہی وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ (ترغیب)
رمل
طواف قدوم اور طواف عمرہ میں تین پھیروں میں ُلکی چال چلنے اور آہستہ آہستہ دوڑنے کو رَمَل کہتے ہیں ۔
اضطباع
طواف کی حالت میں اظہار شجاعت کے لئے داہنا شانہ کھلا ہوا ہونا اور چادر رمل اور اضطباع مردوں کو کرنا چاہئے۔ عورتوں کو نہیں اور ان دونوں کی مشروعیت کی یہ وجہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ عمرة القضا کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مشرکین مکہ نے یہ کہنا شروع کیا کہ مسلمانوں کو مدینہ کی آب و ہوا نے کمزور کر دیا ہے یہ ہمارا مقابلہ تو کیا طواف بھی نہیں کر سکیں گے۔ مسلمانوں کا طواف دیکھنے کے لئے دارالندوہ میں اور مکانوں کی چھت پر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صحابہ کرامؓ کو یہ حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین پھیروں میں رمل اور اضطباع کرو۔ تاکہ مشرکین مسلمانوں کو بہادر سمجھیں اور باقی چار پھیروں میں معمولی چال چلو۔ مشرکین نے جب مسلمانوں کو اس طرح دوڑتے ہوئے دیکھا تو اپنے خیال کو غلط پا کر بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے یہ تو ہرن کی طرح اچھلتے کودتے ہیں۔ ہم سے زیادہ طاقتور ہیں۔ شروع شروع میں رمل کی ابتدا یوں ہوئی۔ لیکن بعد میں ہمیشہ کے لئے مسنون قرار دیا گیا۔ صحابہ کرام ؓ اور دیگر مسلمانوں نے اس پر عمل کیا۔ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے اسے موقوف کرنا چاہا مگر سوچ کر فرمایا: جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  عرفات کے مسائل

اپنا تبصرہ بھیجیں