imran-khan

انڈین جاسوس کلبھوشن کے فیصلے پر ملکی اور غیر ملکی رہنما کیا کہتے ہیں؟

EjazNews

انڈین جاسوس کلبھوشن کو لے کر انڈیا اور پاکستان میں ہر میڈیا پر یہ بات ہو رہی ہے کہ ہم نے فتح حاصل کی ہے اس فیصلے میں پاکستان کی فتح ، انڈیا والے کہتے ہیں اس فیصلے میں ہماری فتح ہے۔ اس مسئلے کو دیکھنے کیلئے ہم نے پاکستان انڈیا کے رہنماﺅں کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کو کھنگالنے شروع کیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کہتے ہیں کمانڈر کلبھوشن یادیو کو بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے اور ہندوستان واپس نہ بھجوانے کا عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ وہ پاکستانی عوام کیخلاف جرائم کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان قانون کی روشنی میں آگے بڑھے گا۔

سشما سوراج نے ایک طویل ٹویٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہیں اور اس میں انڈیا کی جیت ہے۔ انہوں نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر ا مودی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ وہ اس کیس کو لے کر انٹرنیشنل عدالت میں گئے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ انہوں نے جاسوس کلبھوشن کی رہائی مانگی نہیں ملی، وہ اسے واپس چاہتے تھے نہیں ملا۔ وہ جو چاہتے تھے کچھ بھی نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود وہ اس کو اپنی فتح قرار دیتے ہیں تو پھر گڈ لک۔

ڈی جی آی ایس پی آر کہتے ہیں کلبھوشن کیس کا فیصلہ ہمارے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔عالمی عدالت انصاف کا کلبھوشن کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ ہماری جیت ہے۔ بھارت نے ہمیشہ جھوٹا بیانیہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی ۔ ہمارا موقف تھا کہ کلبھوشن بھارتی جاسوس ہے جس کو عالمی عدالت نے بھی تسلیم کیا۔ اللہ نے پاکستانی عوام اور عدلیہ کو سرخرو کیا، بھاری میڈیا نے ایک بار پھر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ آنے سے پہلے خود ساختہ دعوے کیے۔

معاون خصوصی اطلاعات کہتی ہیں کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کا مطالبہ مسترد ہوگیا۔ کلبھوشن یادیو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کامکروہ چہرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ میں کس وزیر خارجہ نے کیا کہا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں