space force

امریکہ کے بعداب فرانس بھی اسپیس فورس بنائے گا

EjazNews

21جولائی 10بج کر 50منٹ کا وقت تھا جب انسان کے قدم چاند پر پڑ ے اور یوں پہلا انسان چاند پر اترا۔ 4اکتوبر 1957ء کو روسیوں نے ایک چھوٹا سا مصنوعی سیارہ یا چاند بنایا اور اُسے ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں پہنچا دیا۔ انسان کے ہاتھوں بنا ہوا یہ مصنوعی چاند، 84 پاؤنڈ وزنی اور 22انچ قطر کا تھا۔ انسان کو چاند پر اتارنے کی دوڑ میں روس پیچھے رہ گیا اور امریکہ دنیا کا وہ پہلا مُلک بن گیا، جس نے1969ء میں اپنے دو شہریوں کو چاند پر جا اُتارا۔چاند زمین سے 384,400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ خلا کی تسخیر، آج کی سوچ نہیں، بلکہ سائنس کی ترقّی کے ساتھ ہی اس خیال نے انسانی ذہن میں جگہ بنانی شروع کر دی تھی۔ دوسو سال قبل، ایچ جی ویلز اور جولس ورنز جیسے سائنس فکشن ماسٹرز نے اپنے ناولز میں خلائی تسخیر کا تصوّر پیش کیا۔نیوٹن اور آئن اسٹائن جیسے سائنس دانوں کی تھیوریز اور قوانین نے اس تصور کو حقیقت میں ڈھالنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جتنی ترقّی انسان نے زمین کے وجود میں آنے سے اب تک کی، اس سے زیادہ صرف گزشتہ ایک سو برسوں میں کر لی۔یہی وجہ ہے کہ اب تو خلا میں کمرشل فلائیٹس بھی کوئی عجوبہ نہیں رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تعلیم کے شعبے میں چین کا امریکہ اور برطانیہ سے مقابلہ
1969میں انسان نے پہلی دفعہ چاند پر قدم رکھا

خلا سے آنے والے جہازوں،’’ یو ایف اوز‘‘ کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ اُنھیں کوئی خلائی مخلوق زمین کی جانب بھیجتی ہے۔ اُنہی جہازوں کے سبب Aliens یا خلائی مخلوق کا تصوّر سامنے آیا۔تاہم بعد میں یہ بات کھلی کہ یہ کوئی خلائی مخلوق کے جہاز نہیں تھے بلکہ امریکی خفیہ ہوائی اڈوں سے اڑنے والے جہاز تھے جو جاسوسی کا کام کرتے تھے۔
امریکہ 2020ء میں خلائی فورس بنارہا ہے اور امریکہ کے بعد اب فرانس نے بھی اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ وہ خلائی فورس بنانے جارہا ہے۔’’ اسپیس فورس‘‘ کے خدوخال ابھی تک سامنے نہیں آئے، تاہم امریکی صدر نے اس کے دو مقاصد بیان کیے تھے۔ اُن کا کہنا تھا، صرف یہ کافی نہیں کہ خلا میں امریکی موجودگی ہو۔ ہم پر لازم ہے کہ امریکی غلبہ ہو۔ یہ قابل قبول نہیں کہ چین اور روس کو خلا میں سبقت ہو۔اس لیے متعلقہ ادارے خلا میں ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے لیے جدید فریم ورک تیار کریں۔محض امریکی جھنڈا لگانے اور قدموں کے نشانات چھوڑنے پر اکتفا نہیں کروں گا۔ ہم خلا میں طویل مدّتی پروگرام پر عمل کریں گے۔ معیشت کو فروغ دیں گے اور مریخ پر بھی ایسا ہی نظام قائم کریں گے۔ معاشی سرگرمیوں کو اسپیس پرگرام میں شامل کرنے کے لیے امیر امریکیوں کو سہولتیں دی جائے گی کہ وہ کمرشل بنیادوں پر خلائی سفر کو ممکن بنائیں۔
غیر ملکی میڈیا پر نشر ہونی والی خبروں کے مطابق فرانس نے خلائی فورس بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر میکخواں نے آرمی کے جوانوں سے کہا کہ فرانسیسی فضائیہ کو خلائی فورس بنانے کی اجازت دے دی ہے۔فورس بنانے کا مقصد فرانس کی دفاعی صلاحیتو ں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس کی مدد سے فرانس کے سیٹلائٹ سسٹم کو بھی تحفظ ملے گا جب کہ یہ فورس اگلے سال ستمبر تک بنائی جائے۔
خلائی اسٹیشن پہلے ہی سے موجود ہیں، جہاں خلاباز اب برسوں قیام کرتے ہیں۔ یہ خلائی اسٹیشن ہر وقت زمین کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ملٹری اسپیس کے ماہرین کے مطابق، ممکن ہے کہ اگلے برسوں میں انہی اسٹیشنز کو خلا سے حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ اسپیس فورس کے قیام اور اس کے لاجسٹک مقاصد میں یہ اسٹیشنز بہت اہم ہوسکتے ہیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق، ایٹمی دَور کو گزرے تو نصف صدی ہو چکی، اب ہم اسپیس سیٹلائیٹ دَور میں جی رہے ہیں۔
اب خلاکو بھی میدان جنگ بنانے کی تیاریاں رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہیں ۔ امریکہ کے بعد فرانس کا اعلان اور غالباً یہ آخری اعلان نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان میں جاری لڑائی گھمسان جنگ کی شکل اختیار کرگئی

اپنا تبصرہ بھیجیں