hajj-3

احصار(حج سے رُک جانا)، آداب حج

EjazNews

احصار کے معنی منع کرنے اور روکنے کے ہیں اور شرعی محاورہ میں کسی دشمن یا مرض وغیرہ کی وجہ سے حج و عمرہ کی ادائیگی سے رک جانے کو احصار کہتے ہیں۔ جس کو روکا گیا ہے اس کو محصر کہتے ہیں جو احرام باندھنے کے بعد دشمن اور مرض وغیرہ کیو جہ سےحج کی ادائیگی سے مجبور اور معذور ہو جائے وہ حلال ہو جائے اور ایک جانور اللہ کے راستہ میں ذبح کر ڈالے رسول اللہ ﷺ کو مشرکین مکہ نے عمرہ کرنے سے منع کر دیا تھا آپ حلال ہو گئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روک لئے گئے تھے تو آپ نے سر مُبارک کو منڈالیا اور ازواج مطہرات سے ہم بستر ہو ئے اور قربانی کے جانور کو ذبح کیا ، یہاں تک کہ آئندہ سال عمرہ کیا۔ (کتاب المحصرباب اذا احصر المعتمر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: جس کا کوئی حصہ ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو ہ حلال ہوجائے اور عذر کے زائل ہونے کے بعد آئندہ سال حج کرے۔(ترمذی، کتاب الحج)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: اورحج و عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو ۔ اگر تم روک لے جاﺅ تو جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالو اور اپنے سر کو مت منڈاﺅ کہ قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچ جائے۔(البقرہ)
آداب حج
ہرعبادت کے لئے کچھ آداب و شرائط ہوتے ہیں جن سے اس عبادت میں رونق آجاتی ہے اور وہ عبادت قبول ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کے لئے بھی آداب ہوتے ہیں جن کی رعایت کرنے کی وجہ سے وہ قبولیت کے زیور سے مزین ہو جاتے ہیںان کے مختصر آداب کو بیان کیا جاتاہے۔
(۱) اس مبارک سفر سے پہلے اپنی نیت کو درست کر لو ۔ ہ حج ریا ، نمو د یا سیرو سیاحت یا تجارت اورآب و ہوا کی تبدیلی کی نیت سے ہرگز نہ کرو اور نہ حاجی کا خطاب حاصل کرنے کے لئے کرو ۔ صرف اللہ کی خوشنودی اور فرضیت حج کی ادائیگی کے لئے کرو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: سب کاموں کا دارومدار نیت پر موقوف ہے۔ (بخاری)
جو لوگ تجارت اور سیاحت اور گدا گری کی نیت سے جاتے ہیں ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ایک زمانہ لوگوں پر آنے والا ہے کہ مالدار سیاحت کے لئے حج کریں گے اور متوسط لوگ سودا گری کے لئے اور محتاج بھیک مانگنے کے لئے اور قاری ریاءو نمود کے لئے حج کریں گے۔ (کنز العمال دیلمی)
(۲) اپنے پہلے گناہوں کی معافی مانگ لو۔ توبہ کرلو اور پختہ ارادہ کر لو کہ اب ہمیشہ قرآن و حدیث کی تابعداری کروں گا اسلام کے حکموں پر چلوں گا، کسی پر ظلم نہیں کروں گا اگر کسی کا حق ہے تو اس کو ادا کردو ۔ یا اس سے معافی مانگ لو اگر والدین ہیں تو ان سے اجازت لے لو اور جن کا نان و نفقہ تمہارے ذمہ ہے ان کو دے جاﺅ کہ واپس آنے تک کافی ہو جائے۔
توبہ کرنے کا طریقہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کو چائہے کہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی چاہے اور اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ (ترمذی، ابوداﺅد)
نماز کے بعد اس دعاءکو پڑھو:
ترجمہ: الٰہی میں تیرے سامنے اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں اب دوبارہ نہیں کروں گا۔ خدایا تیری بخشش بہت کشادہ ہے۔ میرے گناہوں سے اور تیری رحمت کی زیادہ امید ہے مجھ کو میرے عملوں سے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ملتزم

اپنا تبصرہ بھیجیں