miss-fatim

محترمہ فاطمہ جناح !زندگی بھر کشمیر کی سرگرم مجاہدہ رہیں

EjazNews

محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کا ایک درخشاں پہلو یہ بھی تھا کہ ان کی ذات حلقو نسواں کے لئے قابل تقلید سمجھی جاتی تھی۔ ان کے لیے وضع قطع ، بات جیت اور چال ڈھال میں جروقاز وتمکنت تھی اس میں ہماری مشرقی روایات کی منفردجھلک ملتی ہے۔ فاطمہ جناح ایک خوش پوش خاتون تھیں۔ قائداعظم کی طرح عمدہ کپڑے پہنتی تھیں بقول شیریں جناح ، فاطمہ کو عمدہ لباس کا زوق گویا خاندانی ورثے میں ملا تھا۔ بمبئی میں جب وہ بھائی کے پاس رہتی تھیں تو اس زمانے میں ساڑھی کا بڑا رواج تھا چنانچہ وہ اعلیٰ قسم کی ساڑھیاں استعمال کرتی تھیں۔ رنگوں میں انہیں سفید رنگ پسند تھا۔ کراچی آنے کے بعد کچھ عرصہ غرارہ استعمال کیا اور پھر شلوار قمیض کو اپنا مستقل لباس بنالیا۔ زیورات ایسے پسند کرتی تھیں جس میں سرخ موتی جڑے ہوئے ہوں۔ قائداعظم انہیں قیمتی جواہرات خرید کر دیتے تھے۔ گویا محترمہ فاطمہ بڑی نفاست پسند تھیں۔ قیام پاکتان سے پہلے 7اگست 1947ءکو قائداعظم کے ساتھ کراچی تشریف لائیں۔ قائداعظم کا ذاتی سامان فرنیچر وغیرہ پہلے ہی آچکا تھا اور ان کو آراستہ کرنے میں مشغول ہوگئیں۔ قائداعظم نے 1945ءمیں ایک پارسی سے فلیگ اسٹاف ہاﺅس خریدا تھا۔ اس مکان میںقیام کیا۔ قائداعظم جب گورنر جنرل ہاﺅس میں گئے تو فاطمہ جناح بھی وہیں چلی گئیں اورقائد اعظم کی وفات کے بعد پھر فلیگ اسٹاف ہاﺅس واپس آگئیں ۔ اسی مکان میں محترمہ سے دنیا کے عظیم رہنما ملنے آتے تھے۔ چین کی عظیم خاتون مادام سن یات سن، چون این لائی، سوکارنو، شہنشاہ ایران، الجزائر کے فرحت عباس، مسز اندرا گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو ،مسز سروجنی نائیڈو مسز نکلسن اور دیگر غیر ملکی رہنما شامل ہیں۔یہی ہاﺅس محترمہ کی صدارتی مہم کے دوران متحدہ محاذ کا الیکشن آفس بنا جب محترم فاطمہ جناح خود قصر فاطمہ منتقل ہوگئی تھیں۔ قصرفاطمہ میں بہت سے کمرے ہیں۔ ان میں سے ایک کمرے میں خود رہتی تھیں اور باقی کمروں میںقائد اعظم کی نادر اشیاءسلیقے سے سجارکھی تھیں۔ گھرمیں انہوں نے ایک بکری ، ایک بطخ اور ایک کتے کو پال رکھا تھا۔ قصر فاطمہ کے لان میں ہر قسم کے پودے لگا رکھے تھے اور رنگ برنگ کے پھولوں کی وہ خودحفاظت کرتی تھیں۔
رضوان احمد محترمہ فاطمہ جناح کی گھریلو زندگی سے متعلق چند واقعات بیان کرتے ہیں۔ کہ ایک مرتبہ بجلی والے کو بلایا۔ اسے خود گاڑی میں بٹھاکر بازارلے گئیں، چھوٹا موٹا سا مان خود خرید کر دیا۔ آدھا دن اس میں صرف ہو گیا۔ بجلی والے نے جب شام کو کام ختم کیا تو اسے آدھے دن کی اجرت دی وہ بولا ،اماں یہ پورے دن کی اجرت نہیں ہے۔ محترمہ نے کہا تم نے آدھا دن کام کیا اور آدھا دن میری گاڑی میں گھومتے رہے اور چیزیں میں نے تم کوخرید کردیں تو اس نے کہا کہ اگر می عقیدت مند نہ ہوتا تو پورے دن کی اجرت وصول کرنے کی ضد کرتا۔ محترمہ نے کہا کیا کل آﺅ گے تو اس نے کہا کہ ضرور آو¿ں گا۔ مگر گاڑی پر گھومنے نہیں جاو¿ں گا۔ صبح آتے ہی کام شروع کروں گا سامان خود آپ لائیے گا۔ میں غریب گاڑی پر گھوم کر گزارہ نہیں کرسکتا۔ دوسرے دن کام ختم ہو چکا تو محترمہ نے اسے دن بھر کی اجرت دی اور پھر اسے بطور انعام کچھ رقم یہ کہہ کر دی۔ یہ انعام ہے ، اس آدھے دن کی اجرت نہیں ہے، اسی طرح محترمہ فاطمہ جناح عموما ًاپنے ملبوسات تیار کرانے کے لئے درزی کو گھربلوا تی تھیں اور وہیں بیٹھ کر اس سے کپڑے سلواتی تھیں اور جو کپڑا اس کو دیتیں اس کو بارنپواتی تھیں اور پھر اس کا تخمینہ کرتی تھیں کہ کپڑا کتنا صرف ہو گا اور کتنا بچے گا۔ دہ کترن تک ضائع نہیں کرنے دیا کرتی تھی۔ ایسی سخت تھیں کہ ایب درزی زیادہ عرصے کام نہ کر سکتا تھا اور یہی رویہ خانساموں اور بیروں کے ساتھ بھی تھا۔ دراصل خانسامے جان بوجھ کر محترمہ کو تنگ کرتے تھے۔ بقول بیگم ثریا خورشید محترمہ فاطمہ نے کہا کہ میرے نوکر تیسرے دن کہتے ہیں کہ ایک سیر لہسن ختم ہو گیا ہے جب کہ یہی لہسن دو ماہ کے لئے کافی ہے۔ دراصل محترمہ فاطمہ جناح اچھی طبیعت کی عورت تھیں۔با تین بڑی عمدہ اور اصولی کیا کرتی تھیں۔ غلط باتوں پر ان کو سخت غصہ آ تا تھا۔ اور جب انہیں کسی خانسامہ کی دیانت داری پرشبہ ہو جاتا تو اس کو سختی سے ڈانٹ دیا کرتی تھیں۔ قائداعظم کی حیات میں تمام گھرمیں انتظام فاطمہ جناح کے ا ھ میں تھا۔ ایک دفعہ فاطمہ جناح نے دونوں باورچیوں کوملازمت سے علیحدہ کر دیا تو قائداعظم نے کچھ نہ کہا۔ وہ اپنی بہن کے معاملات میں بہت کم دخل دیتے تھے۔ چنانچہ دونوں کی دنوں تک کھانا ہوٹل سے کھاتے رہے۔ نوکروں پر مس جناح بہت کم اعتماد کرتی تھیں۔ شاہدحسین ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ غالباً 1928ءمیں مس جناح نے مجھے تین خط ڈاک میں ڈالنے کے لئے دئیے اور خاص کر یہ کہا کہ یہ خط تم خود ڈاک میں ڈالنا، کسی نوکر کو مت دینا ورنہ ٹکٹ اتارکر خطوں کو پھاڑ دے گا۔ یہ تمام واقعات ان کی کفایت شعاری کا ثبوت ہیں اور یہ کفایت شعاری اپنی ذات تک محدور تھی۔ وہ کوئی غریب خاتون نہ تھیں۔ خدا نے ان کو بہت دولت دی تھی جو وہ اکیلی جتنا بھی زیادہ خرچ کرنا چاہتی ختم ہونے کو نہ آسکتی تھی۔ اس کے برعکس محترمہ فاطمہ جناح اپنی دولت کو کھلے دل سے وطن کے پسماندہ اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرتی تھیں۔فراخ دلی سے سماجی بہبود یا اداروں کو پر خرچ کرتی تھیں۔
کشمیر کی جنگ جاری تھی کہ قائد اعظم 11ستمبر 1948ءکو رحلت فرما گئے۔ لہٰذا قائداعظم کے ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فاطمہ جناح کشمیری حریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کے لئے
میدان عمل میں نکلیں۔ انہوں نے قائداعظم کی کشمیر سے ہمدردی کا تذکرہ اس طرح کیا کہ ”آپ کے محبوب قائد کومسئلہ کشمیر سے دلی لگاو¿ تھا۔ بستر مرگ پر اپنے آخری لمحات میں جبکہ ان کی روح دنیاوی تعلقات سے منقطع ہورہی تھی، صرف ایک خیال جو ان کے خلش جان تھا وہ کشمیراوراس کی آزادی تھی۔
اورپھر ان مجاہدین کی مالی و اخلاقی امداد کے لئے فاطمہ جناح نے پاکستانی قوم سے جاڑے کا موسم شروع ہونے پر اپیل کی کہ کشمیر میں جاڑے کی شدت بڑھ رہی ہے۔ مجاہدین کے پاس ضرورت کے مطابق گرم کپڑے نہیں ہیں۔ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار کمبل فی الفور درکار ہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ موسم کی شدت اسلام کے ان جانباز مجاہدین کی اکثریت کو ہلاک کردے گی……..سردی سے شل پاو¿ں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں سے رائفل اور سنگین استعمال نہیں ہوتی۔ فوالا کا جگر رکھنے والے مجاہدین برتر اسلحہ سے لیس دشمن کو زیر تو کر سکتے ہیں مگر سردی کے آگے بے بس ہیں ….ہم میدان جنگ سے دور ہیں۔ ہمیں آزادی اور حریت کے ان متوالوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا چاہیے۔ فاطمہ جناح کی اس اپیل کا خوشگوار رد عمل ہوا اور عوام نے کشمیر فنڈ میں بے شمار عطیات دئیے۔ کشمیریوں کی جنگ حریت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”کشمیر میں مسلمانوں کا مطالبہ بالکل جائز اور قرین انصاف ہے وہ اپنے لئے ایک شاندار خواب دیکھ رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو خوشگوار بنانے کے لئے وہ پانی جان اور ہر چیز قربا ن کرنے پر آمادہ ہیں اور پھر پاکستان اورکشمیر کے باہمی رشتے کی اہمیت پر اس طرح روشنی ڈالی کہ مدافعتی نظقطہ نظر سے کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے کشمیر ہماری مرفع الحانی کا منبع ہے۔ پاکستان کے بڑے بڑے دریا اسی ریاست کی حدود سے گزر کر پاکستان میں داخل ہو تے اور ہماری خوشحالی میں مدد یتے ہیں۔ ان کے بغیر پاکستان کی مرفع الحالی خطرے میں پڑ جائے گی اگر خدا نہ کرے ہم کشمیر سے محروم ہو جائیں تو قدرت کی عطا کردہ نعمت عظمی کا ایک بڑا حصہ ہم سے چھن جائے گا۔ کشمیری ہماری مدافعت کا کلیدی نقطہ ہے۔ اگر دشمن کی قوت کوکشمیر کی خوبصورت وادی اور پہاڑوں میں مورچہ بندی کا موقع مل جائے تو پھر اٹل بات ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت اور اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرے۔ میں اپنے آپ کو ایک مضبوط اور حقیقتاً طاقتور قوم بنانے کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کو دشمن کی ایسی سرگرمیوں کی زد میں نہ آنے دیا جائے اس لحاظ سے کشمیریوں کی مدد ہمارا اولین فرض ہو جاتا ہے ، فاطمہ جناح نے اپنی سیاسی بصیرت کی روشنی میں عمدہ طریقے سے مذکورہ بالاجملوں میں کشمیر کی تاریخی حیثیت و اہمیت کو بیان کیا ہے۔ اور ان کے یہ خیالات سربراہان مملکت کے لئے ایک ایسا روشنی کا مینارے ہیں جیسے وہ پاکستان کشمیر تعلقات سے متعلق پالیسی وضع کرسکتے ہیں۔ فاطمہ جناح مجاہدین کشمیر کے لئے نہ صرف مالی و اخلاقی اعانت کی بلکہ اپنی جانی خدمات پیش کرنے کیلئے وہ میدان جنگ میں جا پہنچیں اور
19مئی 1949ءکو کو مجاہدین چناری کو یوں للکارا کہ میں آج آپ لوگوں کے درمیان چناری میںموجود ہوں لیکن میں اس دن کا شدت سے انتظار کر رہی ہوں جب میں آپ کےساتھ سرینگرمیں ہوں گی۔ فاطمہ جنا کے ان حوصلہ افزا خیالات نے یقینا مجاہدین کے حوصلے بلند کر دئیے اور پھر وہ دشمن کے خلاف صف آراءہو گئے۔ فاطمہ جنانے پھر مظفر آباد کے مورچوں پر مجاہدین سے کہا” میں آپ تک پہنچی ہوں لیکن میری دلی تمنا اس وقت پوری ہوگی جب میں سری نگر میں آپ کو فاتح کی حیثیت سے مبارک باد دینے کے لئے قدم رکھوں گی۔ کشمیر کے سرفروش بہادر ! تمہاری قوت ایمانی نے دنیا کو حیران کر رکھا ہے۔ آج سارے عالم کی نگاہیں تمہارے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں تم کو اپنے ایمان کی روحاین قوت کا واسطہ، اپنے عزائم کو بلند تر کرتے چلے جاﺅ، پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا ٹکرا کر بھی پاش پاش نہ ہونے والی یہ قوت تم کو تمہار ا حق دلائے گی۔ اور پھر افواج پاکستان کے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ”پاکستان کے سرفروش جانباز و! یہ تمہاری آزمائش کا وقت ہے تمہارے پیروں میں لغزش نہ آنے پائے تم کو طوفانوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ اپنے حصول مقصد تک ہرگز چین نہ لینا۔
یقین محکم، عمل پہیم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگی گانی میں ہیں یہ مردوں کش شمشیریں
فاطمہ جناح کی اس ایمان افروز تقریر نے مجاہدین میں وہ جوش ولولہ پیدا کر دیا جس کے باعث وہ میدان کار ساز میں دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنا یہ فیصلہ دے دیا کہ کشمیر کا مسئلہ حق رائے شماری سے حل ہوگا تو ایک دفعہ پھر فاطمہ جناح 24مئی 1949کو واہ کیمپ میں مہاجرین کشمیر سے ملیں اور انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا ” میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ اس مسئلہ میں ہر ایک پاکستانی آپ کے ساتھ ہے اور ہر ممکن امداد کے لئے تیا ر ہے اس وقت عام رائے شماری پر کشمیر کا فیصلہ چھوڑ دیا گیا ہے لیکن رائے شماری ہو یا جنگ ہر صورت میں ہم کو اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔
فاطمہ جناح کا یہ عہد ان کی زندگی کے آخری لمحوں تک قائم رہا۔ انہوںنے کشمیر کے مسئلہ کو نہ صرف ملت کے گوش گزار کیا بلکہ اسے 20فروری 1949ءکو موتمر عالم اسلامی کے زنانہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے دہرایا کہ ایک سال سے زیادہ مدت کے بعد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندو پاکستان کے ایما پر جنگ روک دی گئی اور کشمیر کا تصفیہ استصواب عامہ پر ہونے والا ہے۔ آزاد اور غیر جانبدار استصواب جس میں کسی قسم کا جبر یا اثر استعمال نہ کیا جائے ، فوری اور موثر طور پر منعقد ہونا چاہیے۔ سیاسی نقطہ نظر سے فاطمہ جناح کی اسلامی ممالک سے یہ اپیل کافی اہمیت کی حامل تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  ستم گری کی شکار مظلوم کشمیری خواتین

اپنا تبصرہ بھیجیں