hajii

افضل حج، حج بدل،حج اور عمرہ کی نذر

EjazNews

حج کی یہ تینوں قسمیں بلاشبہ جائز ہیں۔ جس قسم کو بھی ادا کر لیا گیا حج ہوجائے گا۔ نبیﷺ کے ساتھ حجة الوداع میں کسی نے قِران کیا اور کسی نے تمتع اور کسی نے افراد یکا تھا۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
ترجمہ: حجة الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہم لوگ نکلے۔ ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور بعض نے صرف حج ہی کا احرام باندھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا تھا۔ جن لوگوں نے صرف حج یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ یوم النحر (دسویں تاریخ) کو حلال ہوئے۔(بخاری )
اس حدیث سے تینوں کا ثبوت ظاہر ہے البتہ اس کی افضلیت میں اختلاف ہے کسی کے نزدیک قِران افضل ہے افراد اور تمتع سے اور تمتع افراد سے افضل ہے۔ بعض کے نزدیک افراد افضل ہے اس کے بعد تمتع و قِران ہے اور کسی کے نزدیک تمتع افضل ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل ؓ فرماتے ہیں:اگر قربانی کے جانور ساتھ ہوں تو قِران افضل ہے اور جب قربانی کے جانور ساتھ نہ ہوں تو تمتع افضل ہے۔ فتح الباری ، ترمذی، تحفة الاحوذی وغیرہ میں اس کی بڑی تفصیل درج ہے۔ راقم الحروف دلائل کی رو سے حضرت امام حمد رحمة اللہ علیہ کے قول کو زیادہ صحیح سمجھتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حج بدل
حج بدل ایک قسم کا حج ہے جو کسی معذور و مجبور یا متوفی کی طرف سے نیا بتہ کیا جاتا ہے۔ جیسے فرض کرو زید پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ ایسا بوڑھا ہے کہ چل پھر نہیں سکتا ہے یا لنگڑا ہو گیا ہے یا وہ بغیر حج ادا کئے مر گیا تو ایسی مجبور ی کی حالت میں زید کی طرف سے کوئی دوسرا آدمی حج کر دے۔ حج کرانے والے کو آمر اور جو دوسرے کے حکم سے حج کرے اس کو مامور کہتے ہیں۔ حج بدل کا سارا خرچہ آمر یا اس کے وارث کے ذمہ ہے اور مامور حج بدل کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خواپنا حج ادا کرچکا ہو بغیر اپنا حج کئے دوسرے کی طرف سے ہرگز حج نہیں کرس کتا۔ حج بدل کے جواز کی یہ دلیل ہے کہ حضرت ابو رزین صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تشریف لا کر عرض کیا کہ:
ترجمہ: اے اللہ کے رسول (ﷺ) میرا باپ بہت بوڑھا ہو چکاہے۔ وہ سواری پر حج و عمرہ کی طاقت نہیں رکھتا تو آپ نے فرمایا تو اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ ادا کر دے۔ (ترمذی)
ایک عورتورت نے حج کی نذر مان رکھی تھی اورب غیر نذر پوری کئے مر گئی تو اس کے بھائی نے یہ مسئلہ دریافت کیا ۔ آپ نے فرمایا:
ترجمہ: اگر تیری بہن پر قرضہ ہوتا تو تو اس کو ادا کرتا یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ادا کرتا۔ آپ نے فرمایا اللہ کے قرض کو ادا کر۔ وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کو ادا کیا جائے۔ (بخاری کتابالنذوروالایمان)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی سے زیادہ حج کی ادائیگی ضروری ہے۔ اگر میت کی طرف سے حج بدل ہے تو پورے مال میں سے حج کرایا جائے اور جس سے حج بدل کرایا جئاے وہ دوسرے کی طرف سے حج کر سکتا ہے یہ شرط ہے اگر اس نے اپنا حج نہیں کیا ہے تو وہ دوسروں کی طرف سے ہرگز نہیں کرسکتا۔ حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ ”لبیک عن شبر مة “ کہہ رہا ہے یعنی لبیک پکارتے وقت کسی شبر مہ نامی کی طرف سے پکارتا ہے کہ یہ حج شبرمہ کی طرف سہے آپ نے فرمایا ”من شبرمہ“ شبرمہ کون ہے، اس نے کہا میرا ایک قریب رشتہ دار ہے آپ نے فرمایا
ترجمہ: تو نے کبھی اپنا حج کیا ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اس حج کو اپنے نفس کی طرف سے ادا کر لو پھر شبرمہ کی طرف ادا کرلیا۔ (ابوداﺅد)
حضرت امام شافعی ؒ اور امام احمدؒ کا یہی مذہب ہے ۔ المغنی میں یہی بیان ہے علامہ شوکانی ؒ نیل الاوطار میں فرماتے ہیںکہ جس نے خود اپنا حج نہیں کیا وہ حج بدل کسی دوسرے کی طرف سے نہیں کرس کتا۔ تحفة الاحوذی شرح ترمذی میں ہے کہ جمہور علمائؒ کا یہی مذہب ہے۔ فتح الباری شرح بخاری میں بھی یہی ہے۔
حج اور عمرہ کی نذر
حج و عمرہ کی نذر جائز ہے اور اس کی نذر کو پورا کرنا فرض ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: ایک عورت نے حج کی نذر مانی اور بغیر حج ادا کئے مر گئی اس کا بھائی رسول اللہ ﷺ کی خدمت مقدس میں آیا اور اسی مسئلہ کو دریافت کیا آپ نے فرمایا تم اپنی بہن کی نذر پوری کرو۔ یہ اللہ کا قرض ہے جس کا ادا کرنا ضروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
ترجمہ: ان کو چاہیے کہ وہ اپنی نذروں کو پوری کریں۔ (الحج)
حج کی وصیت
جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور ادا کرنے کا وقت بھی ملا لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے حج خود نہیں کر سکتا تو وہ اپنی زندگی میں حج بدل نہیں کر اسکا تو وصیت کر دے تاکہ ورثاءاس کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے حج بدل کرادیں اگر بلا وصیت کے مرگیا تو گنہگار ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: جس مسلمان کے پاس وصیت کی کوئی چیز ہو تو وہ رات بھی گزارنی جائز نہیں ہے مگر وصیت اس کی لکھی ہوئی اس کے پاس موجود رہے۔(بخاری و مسلم)

یہ بھی پڑھیں:  ملتزم

اپنا تبصرہ بھیجیں