hamza-3

حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد، 20جولائی کو دوبارہ پیشی ہوگی

EjazNews

احتساب عدالت میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف پیش ہوئے جبکہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے لیے لیگی رکن اسمبلی حمزہ شہباز کو بھی پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران جج نعیم ارشد ملک نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ آپ کو حمزہ شہباز کا مزید جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے۔
اس پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسکیوٹر وارث جنجوعہ نے بتایا کہ رمضان شوگر مل کیس میں دیگر ملازمین کو بلایا لیکن ملازمین پیش نہیں ہوئے جبکہ حمزہ شہباز نے تفتیش میں تعاون نہیں کیا۔
شہباز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ رمضان شوگر ملز نالے کی تعمیر میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ مقامی ایم پی اے رحمت اللہ کی درخواست پر نالہ تعمیر کیا گیا۔ جس کا مقصد مقامیافراد کے لئے سیوریج کی بہتر سہولت فراہم کرنا تھی۔ جبکہ نیب کے وکیل کا کہنا تھا جس ایم پی اے نے نالہ بنانے کی درخواست دی وہ کبھی حمزہ شہباز سے ملا ہی نہیں، جاوید اقبال رمضان شوگر مل کا ملازم ہے، وہ نیب کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور نیب کے پیش بھی ہوا ہے۔
وکیل حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ رمضان شوگر مل کا ریفرنس بھی دائر ہو چکا ہے پھر جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے۔
اس دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ ان کی کمر کا مسئلہ ہے اگر عدالت کی اجازت ہو تو وہ بیٹھ جائیں، جس پر جج نے انہیں بیٹھنے کی اجازت دی اور شہباز شریف روسٹرم چھوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں عدالت میں خود کچھ حقائق بتانا چاہتا ہوں، نیب نے من گھڑت، جھوٹا اور بے بنیاد کیس بنایا ہے، میں خطار کار ترین انسان ہوں لیکن میں نے پبلک سروس میں دن رات ایک کیا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ نیب جھوٹے کیس بنا کر میری تذلیل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کاشتکاروں کو سندھ سے زیادہ ریٹ دیا تاکہ ان کی مدد ہو سکے، تاہم میں سندھ حکومت پر کوئی الزام نہیں لگا رہا۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے گنے کی قیمت 175 روپے فی من مقرر کر دی، مجھ پر بڑا دباو¿ تھا کہ ریٹ کم کر دیں لیکن میں نے کہا میں استعفیٰ دے دوں لیکن کاشتکاروں کا حق نہیں ماروں گا۔ یہ نیب والے میرے خلاف 18 کروڑ روپے کا کیس لے آئے ہیں، اس پر نیب پراسکیوٹر نے شہباز شریف کے دلائل دینے پر اعتراض کیا۔
جس کے بعد نیب کے وکیل کی جانب سے حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ پر دلائل دئیے گئے جبکہ لیگی رہنما کے وکیل نے اس پر اعتراض کیا، جس کے بعد عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مزید جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے حمزہ شہباز کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور نیب کو 20 جولائی کو حمزہ شہباز کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں:  زیتون کی پیداوار کے اثرات صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں