rana sanullah

کیارانا ثناء اللہ کا انٹرنیشنل منشیات فروش گروہ سے تعلق ہے؟

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کا پارٹی ترجمان اور رہنمائوں کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انتقام کی سیاست پی ٹی آئی کا نظریہ نہیں ہے۔پاکستان میں اب ادارے اور عدالتیں آزاد ہیں، جن لوگوں پر مقدمات ہیں عدالتوں میں صفائی دیں۔ حکومت پر الزام لگا کر اپوزیشن اپنے جرائم سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔
جبکہ وزیر مملکت شہریار آفریدی اور ڈی جی انسداد منشیات فورس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناءاللہ کی گاڑی کی تین ہفتے مستقل نگرانی اور مانیٹرنگ کی گئی، تین بار ایسا ہوا کہ رانا ثنا اللہ کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین ہونے کی وجہ سے انہیں گاڑی میں منشیات ہونے کے باوجود گرفتار نہیں کیا گیا اور یہاں ملکی فورسز نے اقدار کا خیال رکھا۔ویڈیو اور تصاویر کا ریکارڈ موجود ہے،رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے نکلنے والی 15 کلو ہیروئن کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ملک کی سالمیت کا معاملہ ہے، جب ایسے معاملات میں ایوان میں بیٹھنے والے منشیات فروشی کے کاروبار میں عمل دخل ہو تو قوموں کے جنازے نکلتے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے برآمد ہونے والی منشیات پہلے فیصل آباد اور پھر لاہور جانی تھی جس کے بعد یہ ملک سے باہر چلی جاتی۔انہوں نے بتایا کہ اس تمام جرم میں بین الاقوامی گروہ ملوث ہے، جس کے کچھ کارندے گرفتار ہوئے اور ان کی نشاندہی پر ہی رانا ثنا اللہ کو گرفتار کیا گیا۔
اس موقع پر ڈی جی انسداد منشیات کا کہنا تھا کہ ان کے پاس رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، کیونکہ اے این ایف بغیر ثبوت کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔
جبکہ کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کا کہنا تھا رانا ثناءاللہ اور سلمان رفیق کو تمام سہولیات سے محروم کیا جارہا ہے، عوام اور کارکن حوصلہ رکھیں اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔ عمران خان اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آؤ اور کارکنوں کو نواز شریف سے ملنے دو۔ ‘عمران خان اتنا بوجھ اٹھاؤ جس کا کل حساب دے سکو، وہ وقت دور نہیں جب تم سے ایک ایک ظلم کا حساب لیا جائے گا۔نواز شریف کے پروانوں کو ملاقات کا موقع نہیں دیا جارہا، صرف خاندان کے 5 لوگوں کو ملنے کی اجازت ہے۔ملک و قوم کی خدمت کی، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور سی پیک دیا، نواز شریف سے ملاقات نہ کرانا عمران خان کی فاشسٹ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی فورسز کی ایک مرتبہ پھر شہری آبادی پر فائرنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں