fizio therapi

فزیو تھراپی بھی علاج ہی ہے

EjazNews

1884ء میں برطانیہ میں پہلی بار فزیوتھراپی سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا۔ تاہم، دوسری جنگ عظیم کے بعد فزیوتھراپی کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اسے ایک نئے اور مؤثر طریقۂ علاج کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس طریقۂ علاج میں جدّت آتی گئی اور اب فزیوتھراپی کو ہڈیوں، جوڑوں، پٹھوں کی تکالیف، سوزش، چوٹ، آپریشن کے بعد اعضاء کی بحالی ، پھیپھڑوں کے عوارض اور کئی اعصابی و دماغی بیماریوں مثلاً لقوہ، فالج، پارکنسنز وغیرہ کے علاج کے لیے مؤثر قرار دیا جاتا ہے۔انیسویں صدی کے اوئل میں ان طریقوں کا سائنسی بنیادوں پر استعمال شروع ہوا۔ فزیوتھراپی میڈیکل سائنس کی ایک اہم شاخ ہے ۔فزیو کے معنی طبّی اور تھراپی کے علاج کےہیں۔یہ ایک ایسا طریقۂ علاج ہے، جس میںورزش اور متعدد اقسام کی مشینوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ ماہرین نےمتعدد عوارض کے علاج معالجےکے حوالے سے ورزش، حرارت، برف کی سینکائی اور پانی پر تجربات کیے اور ان کی روشنی میں ہر مرض کا اپنا طریقہ علاج وضع کیا۔
دور حاضر کے منفی طرزِ زندگی کے سبب بےشمار افراد گردن، کمر اورجوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں۔ جوڑوں کا درد، خصوصاً مینو پاز کے بعد خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ عموماً ان عوارض کا علاج ادویہ کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو وقتی طورپر تکلیف رفع کردیتی ہیں، لیکن دیر پا یا مستقل آرام کے لیے فزیوتھراپی ہی مفید ثابت ہوتی ہے۔ فالج دنیا بھر میں معذوری کا سب سے بڑا سبب مانا جاتا ہے، جس کی وجوہ میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپروائی، بُلند فشارخون، تمباکو نوشی، امراضِ قلب اور ذیابطیس وغیرہ شامل ہیں۔فالج کےحملے میں جسم کا ایک طرف کا حصّہ اچانک کمزور پڑ جاتا ہے، زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ بینائی متاثر ہوتی ہے یا پھر ایک کے دو نظر آنے لگتے ہیں۔ کئی مریض چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو جاتے ہیں۔ فالج زدہ مریضوں کے علاج معالجے میں بھی فزیوتھراپی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سانس کے مرض میں مبتلا بعض مریضوں کے لیے سینے کی فزیوتھراپی تجویز کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سانس لینے آسانی ہوتی ہے۔
آرتھرائٹس ایک انتہائی تکلیف دہ مرض ہے، جو بعض اوقات نہ صرف معذوری کا سبب بن جاتا ہے، بلکہ چال میں ٹیڑھا پن بھی پیدا کر دیتا ہے۔ متاثرہ مریضوں کو درد رفع کرنے کی دوا کے ساتھ فزیوتھراپی کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ نیز، پولیو، عرق النسا، آپریشن کے بعد اعصابی کمزوری، ہاتھ پائوں کا سن ہوجانا، ذہنی معذوری یا اس جیسی دیگرتکالیف و امراض میں فزیوتھراپی ایک کامیاب طریقۂ علاج ہے، تو دِل کے مریضوں کو دِل کے آپریشن کے بعدCardiac Rehabilitationکی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح بچّے کی پیدایش سے پہلے اور بعد میں ماں اور بچّےکی صحت کی برقراری میں بھی فزیکل تھراپی اہم تصوّر کی جاتی ہے۔ دوران کھیل کھلاڑیوں کو مختلف قسم کی چوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہر ٹیم کے ساتھ ایک فزیکل تھراپسٹ لازمی ہوتاہے، جو کھلاڑیوں کو فوری طبّی امداد فراہم کرنے سمیت انہیں فٹ رکھنے اور بائیو میکینکس کی مدد سے کھلاڑیوں کے کھیل میں بہتری لانے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔علاوہ ازیں، طویل عرصے تک بستر پر رہنے والے اور آئی سی یو کےمریضوں کو مزید پیچیدگیوں سے بچانے کےلیے فزیوتھراپی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
لیکن بد قسمتی دیکھئے آپ ہمارے ہا ں فزیو تھراپی کو وہ مقبولیت حاصل نہ ہو پائی جو دوسرے ممالک میں حاصل ہے۔ ڈگری پروگرام ہونے کے باوجود آج بھی فزیو تھراپسٹ کو ڈاکٹر کا درجہ بھی نہیں دیا جاتا اور اس کےساتھ ساتھ فزیو کی اہمیت کو لوگوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ فزیو تھراپی ہوتی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن کی جانب سے صدر مملکت کے خطاب میں ہنگامہ آرائی کا آغاز کب ہوا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں